Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفیس پھُول ۔ 694

نفیس پھُول

امام جمال الدین ابن الجوزیؒ

(شمارہ 694)

لہٰذادوا کااستعمال کیاکرو، آپﷺ نے امر کا صیغہ استعمال فرمایاہے جووجوب کے لئے ہوتا ہے یااستحباب کے لئے جبکہ اس سے پہلے منع یا نہی واردنہ ہو ورنہ اباحت کے لئے ہوتا ہے اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں میں نے آپﷺ کی بیماریوں کی کثرت کی وجہ سے اور آپﷺ کے لئے جو کچھ تجویز کیاجاتا تھا اس سے علم طب سیکھ لیا تھا اور آپﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’اس میں سے کچھ کھالو کہ یہ فلاں مرض کے لئے مناسب ہے‘‘ اور جو لوگ ترک اسباب کو افضل کہتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ حدیث شریف میں ہے کہ جنت میں ستر ہزار افراد بلاحساب داخل ہوں گے ان کی خصوصی باتیں یہ ہوں گی کہ وہ بدن کو علاج کے لیے داغ نہیں دیں گے، ٹونے ٹوٹکے نہیں کریں گے،فال وغیرہ نہیں پکڑیں گے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہوں گے مگر یہ حدیث علاج کے خلاف نہیں ہے کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوئے ہیں جو بیماری سے بچنے کے لئے داغ لگاتے تھے اور دم وغیرہ بھی کرتے تھے تاکہ کوئی تکلیف نہ آئے یعنی وہ ان کی ذاتی تاثیر کے قائل تھے حدیث میں ان کی نفی مراد ہے، ورنہ آنحضرتﷺ نے خود حضرت سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو داغ لگایا ہے اور صحیح حدیث میں جھاڑ پھونک کی اجازت بھی آئی ہے اور یہ بطور علاج کے ہے اور’’ جب تجھے اسہال لینے کی ضرورت ہو تو میرے علم میں بلوط کا استعمال منع ہے اور تمرہندی کاپانی مناسب ہے‘‘ یہ علاج اور طب ہے اور جب میں مناسب دوائی پیتا نہیں اور دعاء مانگتا ہوں اے اللہ مجھے صحت و عافیت دیدے تو حکمت مجھے کہتی ہے کیا تو نے سنا نہیں ہے کہ اونٹ  کا گھٹنا باندھ اور توکل کر، دوائی پی اور عافیت کی دعاء مانگ اور اس شخص جیسا مت بن جس کی کھیتی اور نہر کے درمیان چند بالشت زمین کا فاصلہ ہے وہ اسے کھودنے کی بجائے نماز استسقاء کے لئے کھڑاہوجائے اور یہ شخص اس مسافر کی طرح ہے جو تجربہ کے طور پر سفر کرتاہے یعنی دیکھنا چاہتاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتاہے یانہیں حالانکہ اسے’’تزودوا‘‘ کا حکم پہنچ چکا ہے کہ زادراہ اختیار کر مگر یہ کہتا ہے میں زاد نہیں لوں گا تو یہ شخص مرنے سے پہلے ہی ہلاک ہوگیا اور جب نماز کا وقت آیااور ساتھ پانی نہیں تو اس کو تاہی پر بھی اس کو ڈانٹ ملے گی کہ صحرا میں نکلنے سے پہلے پانی کیوں ساتھ نہ لیا، غرض ان لوگوں کی ایسی باریکیوں سے بہت بچو جن کی وجہ سے وہ شرعی حدود ہی سے گزر جاتے ہیں اور خیال یہ کرتے ہیں کہ دینی کمال طبعی تقاضوں کو چھوڑنے اور شرعی حدود کوتوڑنے ہی سے حاصل ہوتا ہے اور اگر علمی قوت اور اس کی پختگی حاصل نہ ہوتی تو میں ان باتوں کو نہ جان سکتا نہ اس قدر تشریح کر سکتا۔ میرے ان ارشادت کو خوب سمجھ لو جو تمہیں بہت سی مشہور کتابوں سے بھی زیادہ مفید ثابت ہوں گے اور اہل حقیقت کے ساتھ رہو، بے کار لوگوں کے ساتھی نہ بنو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor