Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

داہر، مودی مائینڈ سیٹ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 689 - Naveed Masood Hashmi - Dahir Moodi Mind Set

داہر، مودی مائینڈ سیٹ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 689)

ہندوؤں میں ذات، پات اور اونچ نیچ کے چکروں نے انسانیت کو رُسوا کر کے رکھ دیا ہے، موم بتی مافیا، امریکی و بھارتی پٹاریوں کے دانش فروش، قلم فروش اور ہندوؤں میں ذات پات کی تقسیم انسانوں اور انسانیت کے لئے ہلاکت آفرینی میں تقریبا ہم پلہ ہیں، پاکستان کے صوبہ سندھ کے اندرونی شہروں میں ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، غالبا1991ء؁ کی بات ہے کہ یہ خاکسار اپنے الشیخ کے حکم پر میر پور خاص، کھپرو، ڈگری، پیرجو گوٹھ وغیرہ کے دورہ پر گیا، جہاں پر اہل محبت نے متعدد دینی پروگرامز اور کانفرنسوں کا اہتمام کر رکھا تھا۔

کھپرو کے مقامی سکول میں بھی مجھے خطاب کی دعوت دی گئی، خطاب سے پہلے سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ سکول میں زیر تعلیم تقریباً آدھے بچے ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔ اس لئے بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ہندوؤں پہ ہلکا ہاتھ رکھیں، مطلب یہ کہ اندرون سندھ رہنے والے ہندو ہوں یا پشاور سمیت پاکستان کے کسی بھی علاقے میں رہائش پذیر ہندو یا دوسری اقلیتیں، پاکستانی مسلمانوں نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان حقوق کی پاسداری کرنے کی بھی کوشش کی۔۔۔

جبکہ اس کے برعکس اگر ہم پڑوسی ملک بھارت میں بسنے والے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کی حالت زار کا جائزہ لیں تو بھارت کے ہندو دہشتگردوں نے بھارت میں بسنے والی اقلیتوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں، ہندو دہشتگرد جتھوں کی صورت میں مسلمان گھرانوں پر حملہ آور ہو کر صرف مردوں ہی نہیں بلکہ مسلمان عورتوں اور بچوں کو بھی اپنی دہشت کا نشانہ بنا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔۔۔

گائے کو ذبح کرنے کے شبہ میں جیتے جاگتے انسانوں کو زندہ جلانے سے دریغ نہیں کرتے، بھارت کی مختلف جیلوں میں قید مسلمان بالخصوص پاکستانی قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے، بھارت میں قائم ہندوتوا کی تحریک سینکڑوں غریب اور کمزور مسلمانوں کو تشدد کے ذریعے زبردستی ہندو بنا چکی ہے اور یہ سارے مظالم دہلی سرکار، بھارتی فوج اور بھارتی میڈیا کی زیر سرپرستی ڈھائے جار ہے ہیں

پاکستانی صوبہ سندھ کے علاقے ڈھیرکی کی دو ہندو لڑکیاں خوشی اور مرضی سے مسلمان ہوئیں، اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی مرضی سے نکاح بھی کر لئے، یہ سب کرنے کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ بیان بھی دے دیا کہ انہوں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی رضا اور رغبت سے مذہبِ اسلام کو قبول کرنے کے بعد نکاح کئے ہیں۔۔۔

ڈاکٹر رمیش کمار اور پاکستانی میڈیا ہمارے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کر کے لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ہماری جانوں کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، لہٰذا ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔۔

نو مسلم بچیوں کے اس واضح بیان کے بعد بھی اگر میڈیا میں گھسی ہوئی’’مودی‘‘ پٹاری کی بدروحیں بار بار یہ شور اُٹھانے کی کوشش کریں کہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جارہا ہے۔۔ اور بلاول کی سندھ اسمبلی پھر یہ بل پاس کروائے کہ 18سال سے کم عمر کوئی غیرمسلم بھی اسلام میں داخل نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ تو پھر سندھ میں بسنے والے مسلمانوں کا یہ سوچنا بالکل درست ہے کہ سندھ کے حکمرانوں اور سندھ اسمبلی کو راجہ داہر کی بدروحوں سے نجات دلانا نہایت ضروری ہے۔۔۔

یہ خاکسار بار بار اپنے کالموں میں مودی اینڈ کمپنی کو یہ چیلنج دے رہا ہے کہ 71سالوں میں کوئی ایک ایسا واقعہ سامنے لایا جائے کہ۔۔۔ جس میں کسی مسلمان شخص، گروہ یا جماعت نے زور زبردستی کسی بھی غیر مسلم کو مسلمان بنانے کی کوشش کی ہو؟ تادم تحریر موم بتی مافیا کے خرکاروں سمیت بھارتی پٹاری کے کسی بھی دانش چور نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں کسی غیر مسلم کو زبردستی کلمہ پڑھانے کی نہ سوچ موجود ہے۔۔۔ اور نہ ہی کسی کو ڈنڈے کے زور پر مسلمان بنایا جا سکتا ہے۔۔۔

سندھ میں ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنانے کا ڈھنڈورا پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کیلئے پیٹا جا رہا ہے۔۔۔ یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرنے والے سیاہ باطن لوگ دراصل پاکستان میں ایسے قوانین بنوانا چاہتے ہیں کہ جو اسلام کے پھیلاؤ کے راستے میں رکاوٹ بن سکیں، اسلام امن و آتشی، پیار و محبت والا دین ہے، اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے، اسلام جنت کا راستہ دکھاتا ہے۔۔۔ اور پھر یہ کون لوگ ہیں کہ جو سسکتے ہوئے انسانوں کو18سال کی عمر تک فلاح اور کامیابی کے راستے پر چلنے سے روکنا چاہتے ہیں؟

راجہ داہر کے اس مائینڈ سیٹ کو سندھ کے مسلمان کسی قیمت پر تسلیم نہیں کریں گے کہ جس کے مطابق غیر مسلم نوجوانوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکنے کی سازش کا پہلو غالب ہو، سندھ کے ایوانوں میں گھسے ہوئے راجہ داہری مائینڈ سیٹ کو کوئی بتائے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے ہندوؤں سمیت جن نوے لاکھ کے لگ بھگ غیر مسلموں کو اسلام کی دولت سے مالا مال کیا تھا، کیا وہ سارے 18سال سے زیادہ عمر والے تھے؟

حضرت سیدنا علی ہجویریؒ، حضرت سیدنا بابا فرید الدین شکر گنجؒ، حضرت سیدنا بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی،حضرت الشیخ احمد سرہندیؒ، حضرت خواجہ بختیار کاکیؒ سمیت جن جن اولیاء کرامؒ نے لاکھوں ، کروڑوں غیر مسلموں کو اپنے حسنِ سلوک سے دائرۂ اسلام میں داخل کیا تھا، نعوذ باللہ وہ سب غلط تھا؟

خدا کا خوف کیجئے راجہ داہر کی سوچ کو دفن کر کے اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈامت کیجئے، سیدھی سی بات ہے کہ جس طرح کسی کو زبردستی مسلمان بنانا جائز نہیں ہے، بالکل اسی طرح کسی غیر مسلم کو اپنی مرضی سے اسلام کی دولت قبول کرنے سے زور زبردستی روکنے کی کوشش کرنا بھی بدترین جرم ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor