Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد کی خوشبو اور’’ اسٹبلشمنٹ‘‘ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 687 - Naveed Masood Hashmi - Jihad ki khushbu

جہاد کی خوشبو اور’’ اسٹبلشمنٹ‘‘

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 687)

جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپنی کتاب ’’اکابر دیوبند کیا تھے‘‘؟ کے صفحہ19پر رقمطراز ہیں کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب قُدِّسَ سِرُّہُ کو اللہ تعالیٰ نے جو جذبۂ جہاد عطاء فرمایا تھا ۔۔۔ اس کے بارے میں حضرت والد صاحب ( حضرت مفتی محمد شفیعؒ) نے بارہا یہ واقعہ آبدیدہ ہو کر بھرائی ہوئی آواز میں سنایا کہ ایک مرتبہ مرضِ وفات میں حضرتؒ کے خدام میں سے کسی نے آپؒکو مغموم (غم زدہ) دیکھا تو وہ یہ سمجھے کہ زندگی سے مایوسی کی بنا پر پریشان ہیں۔۔۔ چنانچہ انہوں نے کچھ تسلی کے الفاظ کہنے شروع کئے، اس پر حضرت شیخ الہندؒ نے فرمایا۔۔۔

’’ارے مرنے کا کیا غم ہے؟ غم تو اس بات کا ہے کہ بستر پرمر رہا ہوں، ورنہ تمنا تو یہ تھی کہ کسی میدان جہاد میں مارا جاتا، سرکہیں ہوتا اور ہاتھ پاؤں کہیں ہوتے‘‘

حضرت شیخ الہندؒ مولانا محمود حسن مالٹا کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد ایک رات بعد نماز عشاء دارالعلوم دیوبند میں تشریف فرما تھے۔۔۔ علماء کا بڑا مجمع سامنے تھا، اس وقت فرمایا کہ ’’ہم نے تو مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں‘‘یہ اَلفاظ سن کر سارا مجمع ہمہ تن گوش ہو گیا کہ اس اُستاذ العلماء درویش نے اتنے سال علماء کو درس دینے کے بعد آخری عمر میں جو سبق سیکھے ہیں وہ کیا ہیں؟ فرمایا کہ’’میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس بات پر غور کیا کہ پوری دنیا میںمسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں؟ تو اس کے دو سبب ہیں۔۔۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا ، دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی، اس لئے میں وہیں (مالٹا کی جیل) سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے، بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب بستی بستی قائم کئے جائیں، بڑوں کو عوامی درس کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے۔۔۔ اور قرآنی تعلیم پر عمل کیلئے آمادہ کیا جائے۔۔۔ اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے‘‘

یہ1990ء؁ کی بات ہے کہ ولی کامل شیخ الحدیث حضرت اقدس مفتی ولی حسنؒ ٹونکی ابھی حیات تھے ۔۔۔ مگر شدید علیل تھے، اس حالت میں بھی ان کے ہاں محفلِ ذکر کا اہتمام ہوتا تھا۔۔۔ اس مجلس ذکر میں حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، حضرت مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ ،حضرت مفتی عبدالسمیع شہیدؒ جیسے جید علماء کرام شریک ہوتے ۔۔۔

یہ خاکسار اَمیر المجاہدین حضرت مولانا محمدمسعود اَزہر حفظہ اللہ تعالیٰ کی ہمراہی میں جب اس پاکیزہ مجلس میں شریک ہونے کیلئے پہنچتا تو تب مجلس عروج پرہوتی، حضرت اقدس مفتی ولی حسنؒ ٹونکی کی نظر جیسے ہی اَمیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر پر پڑتی تو وہ انہیں اِشارے سے آگے بُلا لیتے اور پھر اشاروں کی زبان میں ہی حکم اِرشاد فرماتے کہ تازہ صدائے مجاہد سناؤ، ماہنامہ صدائے مجاہد، مجاہدین کا ترجمان رسالہ تھا اور مولانا محمد مسعود ازہر اس کے مدیر بھی تھے۔۔۔ حضرت شیخ الحدیثؒ کے حکم پر مولانا مسعود ازہر صدائے مجاہد کے اداریے یا کسی مضمون کو پڑھنا شروع کرتے تو جیسے جیسے جہادِ اَفغانستان میں مجاہدین کے کارناموں کا ذکر آتا تو حضرت شیخ الحدیث مفتی ولی حسنؒ کی آنکھوںمیں آنسو بہنا شروع ہوجاتے۔۔۔ اور آپؒ اِشارے سے مجلس میں شریک تمام علماء سے فرماتے کہ وہ دعاء کریں کہ اللہ مجھے یعنی(مفتی ولی حسنؒ) کو بھی جہاد کیلئے اَفغانستان جانے کی توفیق عطاء فرمائے اور وہاں شہادت کی موت نصیب فرمائے ۔۔۔

حضرت مفتی احمد الرحمن نوراللہ مرقدہ دینی مدارس ہی نہیں بلکہ غیرت و وفاء کی دنیا کا بہت بڑا نام ہیں، آپؒ جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم اور شیخ الحدیث تھے۔۔۔ لیکن اپنے پرائے سب اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپ نے اپے دور میں اِنتہائی جرأت و اِستقامت کے ساتھ کلمۂ حق کو بلند کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی، آپ کی اس حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے باطل قوتوں پر آپ کا خوف طاری رہتا تھا۔۔۔ حضرت مفتی احمد الرحمنؒ کے دور کو کراچی میں اہلِ حق کے لئے انتہائی سنہرا اور شاندار دور قرار دے دیا جائے تو یقیناً غلط نہ ہوگا۔۔۔ حضرت مفتی احمد الرحمنؒ نے زندگی بھر نہ کبھی الیکشن لڑا، نہ وہ ایم این اے بنے، نہ ایم پی اے، نہ وزیر اورنہ گورنر،لیکن اس وقت کے اعلیٰ حکومتی حکام اور وزیروں کو ان کے سامنے کانپتے ہوئے اس خاکسار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔

حضرت اقدس مفتی احمد الرحمنؒ نورہ اللہ مرقدہ اپنی آخری سانسوں تک جہادِ افغانستان اور مجاہدین کی اَخلاقی مدد کرتے رہے ۔۔۔ ولایت کے شہسوار حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ انتہائی پیرانہ سالی کے باوجود قندھار کے دورے پر تشریف لے گئے، آپؒ آسمانِ ولایت کے آفتاب و ماہتاب تھے۔۔۔ لیکن جہادکی محبت میں آپ نے اَمیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکھ کر بیعتِ جہاد کی۔۔۔ یہ اس بات کا کھلا اِظہار تھا کہ حضرت شیخ الہندؒ کا روحانی فرزند چاہے بڑھاپے کی دہلیز پار کر چکا ہو، ولایت کا شہسوار ہو،کتنا بڑا ادیب، مصنف اور قلم کا سلطان کیوں نہ ہو۔۔ جہاد وقتال کی عبادت پھر بھی خوشبو کی طرح اس کے وجود کو معطر رکھتی ہے، اور بالآخر ایک دن ولیٔ کامل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ شہادت کا تمغہ سینے پر سجائے اپنے پروردگار کے دربار میں جا پہنچے ۔۔۔

فقیہ العصر حضرت اَقدس مفتی رشید احمد لدھیانویؒ علم و عمل، دلیل اوربرہان اور ولایت کی دنیا کا ایسا عظیم نام۔۔۔ کہ شیطان اور اس کی ذریت آج بھی ان کے نام سے لرزہ براندام ہے، آپؒ کے علمی کارناموں کی دھوم تو اپنی جگہ پر ہے ہی۔۔۔ لیکن آپ عالم یا مفتی تیارکرنے کے ساتھ ساتھ دِلوں میںجہاد و قتال کی محبت بھی اُتارا کرتے تھے، ایک ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر تو مریض کے دل کی بند رگ کھولنے کیلئے محنت کرتا ہے۔۔۔ مگر فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ ایسے کامیاب ہارٹ اسپیشلسٹ اور صوفی باصفا تھے کہ انسانوں کے دِلوں سے شیطان اور شیطانی قوتوں کے ڈر کو نکال کر اللہ کا خوف، علم اور جہاد کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دیا کرتے تھے۔۔۔ اس خاکسار کا ان سے خصوصی نیاز مندانہ تعلق رہا۔۔۔ انہیں جہاد اور مجاہدین سے اس قدر محبت تھی کہ یہ خاکسار ان لمحات کا عینی گواہ ہے کہ جب وہ اَمیر المجاہدین مولانا محمدمسعود ازہر کو اپنی مسند پر بٹھا کر جہاد پر خطاب سماعت فرمایا کرتے تھے، جب وہ اپنے مریدین کے ہمراہ افغانستان کے صوبہ خوست میں بنفسِ نفیس پہنچے، ان دنوں کی داستان پر مشتمل کئی سو صفحات کی کتاب آج بھی اس خاکسار کی چھوٹی سی لائبریری میں موجود ہے(اگر ان کی جانشینی کے دعویداروں نے اس کتاب کو غائب نہ کر دیا ہوتو مارکیٹ سے بھی مل جائے گی)

حضرت مفتی نظام الدین شامزئیؒ، خطیبِ پاکستان حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ، شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ، شہید مفتی محمد جمیل خانؒ، حضرت اقدس مفتی عبدالسمیع شہیدؒ، شہید ناموس صحابہؓ حضرت مولانا محمد اعظم طارقؒ یہ سب کے سب حضرت شیخ الہندؒ کے روحانی فرزند تھے کہ جنہوں نے اپنی آخری سانسوں تک جہاد اور مجاہدین کی سرپرسی اور نصرت جاری رکھی ۔۔۔

یہ ایسے مردانِ حق تھے کہ جو جہاد کو کسی’’ اسٹبلیشمنٹ‘‘ نہیں بلکہ اللہ کا حکم اور ہادیٔ عالَمﷺ کی سنت سمجھتے تھے، یہ وہ علم و تقویٰ کے پہاڑ تھے کہ جو خود بھی کبھی کسی اسٹبلیشمنٹ کا کھلونا نہ بنے اور نہ ہی جہادیوں کو اسٹبلیشمنٹ کی پیداوار سمجھا۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ جمہوریت‘‘ سکہ رائج الوقت ہے، اب جہاد کا زمانہ گزر گیا۔۔۔ میں جب رب کا قرآن کھولتا ہوں تو30 پارے جہاد و قتال کی خوشبو سے مہکتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔۔۔

(باقی آئندہ)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor