Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غزوۂ ہند کی خوشبو (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 684 - Naveed Masood Hashmi - Ghazwa Hind ki Khushbu

غزوۂ ہند کی خوشبو

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 684)

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوںکے ساتھ نصرت کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا اور برحق ہے‘ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے (ترجمہ) ’’بے شک وہی ہے جو ہنساتا ہے اور رلاتا ہے‘‘ (النجم آیت43 )

گزشتہ ستر سالوں سے بھارت کی فوج مقبوضہ کشمیر کے بچوں اور جوانوں کا قتل عام کرکے کشمیری مائوں‘ بہنوں‘ بیٹیوں کو خون کے آنسو رلا رہی تھی‘ مگر پھر جہاد ہند نے کروٹ لی‘ مقبول بٹؒ سے افضل گوروؒ تک‘ سجاد افغانیؒ سے برہان والیؒ اور حنظلہؒ سے لے کر عادل ڈارؒ تک نے جہادی مزاحمت کے ذریعے نریندر مودی اور اس کی ظالم فوج کو رونے پر مجبور کر دیا۔

14 فروری کے دن ایک مجاہد نے فدائی کارروائی کرکے45 بھارتی فوجی مار ڈالے‘ بجائے اس کے کہ نریندر مودی سمیت بھارتی قیادت اس بات پر غور کرتی کہ آخر مقبوضہ کشمیر کے انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی زندگی پر موت کو ترجیح دینے پر کیوں مجبور ہوئے؟ اور وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے گرد جکڑی ہوئی غلامی کی زنجیروں کو ختم کرکے وہاں کے عوام کے حق خودارادیت کو عملی طور پر تسلیم کرلیتے۔

مگر نریندر مودی کی حکومت نے بغیر کسی ثبوت کے پلوامہ حملے کا الزام پاکستان کے سر تھوپ کر میڈیا کے ذریعے بھارتی عوام میں جنگی جنون کو بڑھاوا دینے کی کوششیں شروع کر دیں‘ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے پلوامہ حملے کے بھارت سے ثبوت مانگے تو بجائے اس کے کہ ثبوت پیش کیے جاتے‘26 فروری کو بھارتی طیاروں نے تمام بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرکے بالاکوٹ میں جابہ کے مقام پر بمباری کر دی‘ جب پاکستانی شاہینوں نے گھیرنے کی کوشش کی تو بھارتی طیارے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

پاکستان میں بالاکوٹ کے پہاڑی مقام پر  فضائی حملے کے بعدبھارتیوں نے جشن منانا شروع کر دیا اور بالاکوٹ میں جیش محمد کے کیمپ پر مولانا محمد مسعود ازہر کے بھائیوں سمیت ساڑھے تین سو دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر ڈالا‘ حالانکہ نہ تو وہاں پر جیش کا کوئی کیمپ تھا اور نہ ہی بھارت کے اس فضائی حملو ںسے کوئی شخص ہلاک ہوا‘ بھارت نے فضائی حملہ ضرور کیا مگر اللہ کے فضل و کرم سے وہ حملہ ناکام ہوگیا۔

27 فروری کو بھارتی طیاروں نے جب دوبارہ دراندازی کی کوشش کی تو پاکستانی فضائیہ کے شاہنیوں نے نہ صرف یہ کہ دو طیارے مار گرائے ‘ پائلٹ گرفتار کیا بلکہ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق دشمن کے چھ اہداف کو بھی نیست و نابود کر دیا گیا۔

جہاں تک بھارت کا مولانا محمد مسعود ازہر پر دہشت گردی میں ملو ث ہونے کا الزام ہے تو وہ بالکل غلط ہے‘ مولانا محمد مسعود ازہر 1968 ء میں بہاولپور کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے جس وقت1971 ء میں نریندر مودی  مکتی باہنی کے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر پاکستان کو دولخت کررہا تھا تب مولانا ازہر کی عمر صرف4 سال تھی‘ یوں اگر دیکھا جائے تو آج کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی1971 ء  میں بھی دہشت گرد اور پاکستان کا دشمن تھا۔

اس لئے نریندر مودی  حکومت کا مولانا محمد مسعود ازہر پر دہشت گردی کا الزام نہایت بھونڈا‘ جھوٹا اور لغو ہے‘ بھارت کی آٹھ لاکھ فوج گزشتہ28 سالوں میں مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرچکی ہے‘ ہزاروں عفت مآب کشمیری خواتین کی آبرویزی اور سینکڑوں خواتین کو بیلٹ گنوں کے ذریعے نابینا بناچکی ہے‘ اپنی مائوں‘ بہنوں ‘بیٹیوں اور معصوم بچوں کے دفاع کی خاطر اگر برہان  وانی اور عادل ڈار جیسے جوان اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھارت کے فوجی درندوں کو سبق سکھا رہے ہیں تو اس میں نہ پاکستان کا قصور ہے اور نہ ہی مولانا محمد مسعود ازہر کا‘ بھارت اگر جیش محمد جیسی تنظیموں سے جان چھڑانا چاہتا ہے تو اس کاسیدھا سا حل یہی ہے  کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم و ستم ختم کرکے انہیں آزادی کی خوشخبری سنا دے‘ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہٹ دھرمی‘ ضد‘ عناد اور پھوہڑپن کی انتہا تو یہ ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان اسے بار بار امن اور مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں ‘ وزیراعظم نے دراندازی کرنے والے گرفتار پائلٹ کو بھی رہا کردیا ہے مگر اس کے باوجود نریندر مودی اور بھارتی میڈیا کا جنگی جنون ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا۔

بھارت اور اس کے ایجنٹ اس حوالے سے پاکستان کو دھمکیاں دیتے ہیں ‘ بھارتی طیارے دراندازی کرکے پاکستان میں فضائی حملے کرتے  ہیں‘ وزیراعظم عمران خان کی تمام تر امن کی کوششوں کو پاکستان کی بزدلی سمجھتے ہیں تو ان مناظر کو دیکھ کر ذہن کی سکرین پر غزو ہ ہند کے حوالے سے خاتم الانبیاء ﷺ کی مبارک احادیث جگمگانا شروع ہو جاتی ہیں۔

وشوا ہندو پریشد ‘ ونواسی کلیان‘ ہندو تابرگیڈ‘ سناتن سنتا‘ بجرنگ دل‘ جنتا راج‘ ہندو مونی‘ راشٹریہ جگران منچ‘ بندے ماترم جن کلیان سمیتی‘ راشٹر وادی سینا‘ مہاراشٹر نریمان سینا‘ بھینا بھارت‘ درگاہ واہنی‘ سانتا سنستھا ‘ آل آسام سٹوڈنٹس یونین ‘ سنگھ پریوار‘ شیوسینا سمیت دیگر متعدد دہشت گرد تنظیموں کے لاکھوں مسلح ہندو دہشت گردوں کے بوجھ تلے دبا ہوا بھارت کہ جس کا وزیراعظم نریندر مودی خود ایک ثابت شدہ قاتل اور دہشت گرد ہے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ پاکستان کو دھمکیاں دیتا پھرے‘ نریندر مودی اور ہندو انتہا پسندوں کی پاکستان سے دشمنی مولانا مسعود ازہر یا جیش محمد کی وجہ سے نہیں ہے‘ جس کا ثبوت یہ خاکسار اوپر لکھ چکا ہے کہ جس وقت مولانا مسعود ازہر4 سال کے تھے نریندر مودی مکتی باہنی کے دہشت گردوں کے ساتھ مل کر تب بھی پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے در پر تھا‘ نریندر مودی اور ہندو انتہا پسندوں کی دشمنی اسلام اور مسلمانوں سے ہے‘ بھارت کے مختلف شہروں میں گائے کو ذبح کرنے کا بہانہ بناکر جن بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ان کا تعلق نہ تو جیش محمد اور نہ ہی پاکستان سے تھا۔

ہندو توا کے دہشت گردوں کی طرف سے غریب اور کمزور مسلمانوں کو زبردستی عقیدہ بدل کر ہندو دھرم قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اس کی وجہ بھی پاکستان یا جیش محمد نہیں ہے‘ مطلب یہ کہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں ہوں‘  بنگلہ دیش میں بسنے والے راسخ العقیدہ مسلمان ہوں‘ مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے مسلمان ہوں یا پاکستان میں بسنے والے مسلمان یہ سب کے سب بدنام زمانہ مودی مائنڈ سیٹ کے نشانے پر ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں  جاری حریت اور آزادی کی تحریک کو بھارت کے بے پناہ فوجی مظالم کے ردعمل میں مقامی کشمیریوں نے اپنے لہو سے پروان چڑھایا ہے‘ میں نے خود کئی کشمیری علماء کی زبانوں سے کشمیر میں جاری جہاد کو غزہ ہند ہی کا ایک باب قرار دیتے ہوئے سنا‘ بھارتی فوج‘ نریندر مودی اور ہندو انتہا پسندوں کی دہشت گردی کے نتیجے میں مجھے چہار سو جہاد ہند کی خوشبو پھیلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے ۔

نبی کریمﷺ سے غزوۂ ہند کے بارے میں متعدد اَحادیث روایات کی گئی ہیں، اُن میں سے دو اہم احادیث درج ذیل ہیں:

(۱)عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ : وَعَدَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم غَزْوَۃَ الْہِنْدِ فَاِنْ اَدْرَکْتُہَا أُنْفِقُ فِیْہَا نَفْسِی وَمَالِی فَاِنْ اُقْتَلْ کُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّہَدَآء ِ وَاِنْ أَرْجِع فَأَنَا اَبُوْہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمان ہندوستان میں جہاد کریں گے، اگر وہ جہاد میری موجودگی میں ہوا تو میں اپنی جان اور مال اﷲ تعالیٰ کی راہ میں قربان کروں گا۔ اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں سب سے افضل ترین شہداء میں سے ہوں گا۔ اگر میں زندہ رہا تو میں وہ ابو ہرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)ہوں گا جو عذاب جہنم سے آزاد کر دیا گیا ہے۔(نسائی، السنن،بیہقی، السنن الکبری)

(۲)عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُولِ اﷲِ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ النَّبِیِّ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ : عِصَابَتَانِ مِنْ أُمَّتِی أَحْرَزَہُمَا اﷲُ مِنْ النَّارِ عِصَابَۃٌ تَغْزُو الْہِنْدَ وَعِصَابَۃٌ تَکُونُ مَعَ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیْہِ السَّلَام.

ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام تھے، سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میری اُمت کے دو گروہوں کو اﷲ تعالیٰ دوزخ کے عذاب سے بچائے گا ان میں سے ایک ہندوستان میں جہاد کرے گا اور دوسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن نسائی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor