Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

احساسِ زیاں (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 687 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ehsaas e Ziyan

احساسِ زیاں

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 687)

فلسطین پر اسرائیلی قبضہ مسلمانوں کے حقیقی مسائل میں سرفہرست ہے،دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے مسلمان اس مسئلے سے لاتعلق نہیں ہوسکتے۔ عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو عالمگیر سازشیں جاری ہیں، اور عالمی طاقتوں کی مسلمانوں سے جو دشمنی ہے ، مسئلہ فلسطین اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مسلمانوں کے حقوق پر ڈاکہ زنی ، مسلمانوں کے مذہبی مقدس مقامات کی کھلے عام بے حرمتی، مسلمانوں پر قتل عام جیسے بمباری کا تسلط اور اس جیسے دیگر کھلم کھلا جرائم جس طرح سے فلسطین کے مسلمانوں پر کیے جارہے ہیں، کیا دنیا ان جرائم کو دیکھنے سے اندھی ہے؟ کیا خود عالمی طاقتیں براہ راست اور بالواسطہ ان جرائم کی پشت پناہی نہیں کررہی ہیں؟ ان کا جواب ہاں میں ہے مگر غیروں کو کیا آئینہ دکھانا جبکہ خود عالم اسلام ہی غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ، انہی سے دوا لینے پر مصر ہے جن کے سبب بیمار ہوا ہے۔

اس وقت عالمی کفریہ طاقتیں فلسطین کے مسئلے کو سرے سے لپیٹنے کی تیاری کر رہی ہیں اور اگر اس میں کسی بھی درجہ میں مسلمانوں کے جذبات کا لحاظ رکھاجاتا تو شاید یہ بات کسی بھی درجے میں خوش آئند قرار دے دی جاتی مگر افسوس تو یہ ہے کہ فلسطین پر اسرائیل کے مکمل قبضے کی راہ ہموار کرنے کی ہی کوشش ہورہی ہے۔ فلسطین کو عالم اسلام سے ملنے والی اخلاقی و سفارتی حمایت کا گلا گھونٹا جارہا ہے، افرادی اور مالی معاونت کی راہیں مسدود تر کردی گئی ہیں اور اب ایک طرف امریکی صدر کے ہاتھوں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے کو قانونی حق طے کردیا گیا ہے اور اس کے رد عمل کو دبانے کے لیے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل فوج نے غزہ کی پٹی کے مکین محصور فلسطینیوں کے خلاف ایک نئی جنگ مسلط کردی ہے اور اس نے حماس کے نام پر سوموار کے دن مختلف اہداف کو فضائی بمباری میں نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے تمام علاقے میں حماس کے اہدا ف کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔اس نے غزہ شہر کے مغرب میں حماس کے ایک بحری ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے اور شمال میں ایک تربیتی کیمپ پر بمباری کی ہے ۔لیکن ان دونوں جگہو ں کو پہلے ہی خالی کروا لیا گیا تھا اور حماس نے کئی گھنٹے پہلے غزہ کے مکینوں کو اسرائیل کے فضائی حملوں کے بارے میں خبردار کردیا تھا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شمالی ہدف پر تین میزائل داغے گئے ہیں۔قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیل کی جانب فلسطینی علاقے سے راکٹ حملے کے جواب میں سخت کاروائی کی دھمکی دی تھی۔اسرائیلی علاقے میں راکٹ گرنے سے سات افراد زخمی ہوگئے تھے۔

فضائی حملوں کا یہ سلسلہ جو سوموار کے دن شروع ہوا، منگل کے دن بھی جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے منگل کو علی الصبح غزہ پٹی میں کئی ٹھکانوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔اس سے قبل فلسطینی ذرائع ابلاغ نے منگل کی صبح بتایا تھا کہ اسرائیل نے غزہ پٹی کے مغرب میں بمباری کی نئی کارروائی کی ہے اور اسرائیلی طیاروں کی جانب سے بکثرت اُڑان جاری ہے۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی بم باری میں غزہ کے جنوب مغرب میں فلسطینی گروپوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔غزہ پٹی میں کئی زوردار دھماکے سنے گئے جبکہ دوسری جانب غلاف غزہ (غزہ پٹی کی سرحد کے نزدیک اسرائیلی بستیاں)کی یہودی بستیوں میں بھی وارننگ الارم بجا دیے گئے۔ یہ تازہ پیش رفت مصر کی وساطت سے عمل میں آنے والی فائر بندی کے اطلاق کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آ گئی۔اسرائیلی فوج نے منگل کو علی الصبح جاری ایک بیان میں اعلان کیا کہ پیر کی شب دس بجے کے بعد غزہ پٹی کی جانب سے اسرائیل پر30راکٹ داغے گئے۔ اس طرح پیر کی شام فائرنگ اور بم باری کے تبادلے کے آغاز کے بعد فلسطینی گروپوں کی جانب سے عبرانی ریاست پر داغے جانے والے راکٹوں کی مجموعی تعداد 60 ہو گئی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے پیر کی شب دس بجے کے بعد سے 15نئے فضائی حملے کیے جن میں غزہ میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں اسلامی جہاد تنظیم کا ایک عسکری کمپاؤنڈ شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں باور کرایا ہے کہ وہ مختلف منظر ناموں کے لیے تیار ہے اور ضرورت کے مطابق اپنی عسکری کارروائیوں میں اضافہ کرے گی۔فلسطینی تنظیم حماس نے پیر کی شب غزہ پٹی میں اسرائیل کے ساتھ فائر بندی کا اعلان کیا تھا۔ یہ فائر بندی مصری مداخلت کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ حماس کے ترجمان فوزی برہوم کا کہنا تھا کہ قابض اسرائیلی حکام اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے درمیان فائر بندی کے لیے مصری کوششیں کامیاب ہو گئیں۔فلسطینی ذرائع نے بعض نیوز چینلز کو بتایا کہ فائر بندی کا نفاذ مقامی وقت کے مطابق رات 10:00 ہوا۔ قاہرہ میں نیوز چینلز کے نمائندے کے مطابق مصر نے ایک بار پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ غزہ میں فائرنگ اور بم باری کی تمام کارروائیوں کو فوری طور پر روک دیا جائے اور حماس اور اسرائیل جذبات کو قابو میں رکھیں۔

اسرائیل کی طرف سے یہ جنگ ایسے وقت میں مسلط کی گئی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے زیر قبضہ شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں پر صہیونی ریاست کی خودمختاری باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے متعلق حکم پر دست خط کردیے ہیں ۔ اس موقع پر وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یا ہو اور دوسرے اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی عہدے دار بھی موجود تھے۔صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات سے قبل اس دستاویز پر دستخط کیے ہیں اور اس طرح انہوں نے اپنے 21مارچ کے بیان کو عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ انہوں نے تب کہا تھا کہ گولان پر اسرائیلی خود مختاری کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کا اب وقت آگیا ہے۔نیتن یاہو گذشتہ کئی ماہ سے امریکی صدر پر گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کی خود مختاری تسلیم کرنے کے لیے زور دے رہے تھے۔صدر ٹرمپ نے بھی گذشتہ ہفتے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل کے باون سال سے کنٹرول کے بعداب امریکا کو کوئی اقدام کرنا چاہیے اوراس کی اس علاقے پر خود مختاری تسلیم کر لینی چاہیے۔امریکا کے ایک سینئر عہدے دار نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کی گولان کی چوٹیوں پر خود مختاری تسلیم کرنے سے متعلق ایک دستاویز تیار کررہی ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے شام کے اس علاقے پر 1967ء کی مشرقِ اوسط جنگ کے دوران میں قبضہ کیا تھا اور 1980ء کے اوائل میں اس کو غاصبانہ طور پر صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا اور امریکا کے سوا دنیا کے قریباً تمام ممالک گولان کو ایک مقبوضہ علاقہ ہی سمجھتے ہیں۔ترک صدر رجب طیب ارودگان نے گذشتہ روز ایک انٹرویو میں گولان کی چوٹیوں کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا نے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے گولان کی چوٹیوں سے متعلق بیانات (اور اب حکم نامے پر دستخط ) دراصل ان کی طرف سے اسرائیل میں 9 اپریل کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے تحفہ ہیں۔ان انتخابات میں نیتن یاہو کا اپنی حریف جماعتوں سے سخت مقابلہ ہے اور بظاہر یہ فیصلہ اس کی قوت کو مضبوط کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ نیتن یاہو کی فلسطین اور مسلم دشمن ایسی کھلی حقیقت ہے جس سے انکار ناممکن ہے اور ایسا ہی فرد اسرائیل کے لیے سب سے موزوں ہے جس کے بل بوتے وہ فلسطین پر اپنے تسلط کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سال 2017میں امریکہ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور 2018 میں تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کردیا تھا۔

یہاں گولان کی پہاڑیوں کا کچھ تعارف اور اہمیت بھی جان لیجیے۔ گولان کی پہاڑیاں شام کا وہ علاقے ہے جس پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے۔گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہیں۔ یہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ اس علاقے پر تقریباً 30 یہودی بستیاں قائم ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 20000 لوگ منتقل ہو چکے ہیں۔اس علاقے میں تقریباً 20000 شامی لوگ بھی رہتے ہیں۔ شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے ایک جانب لبنان اور دوسری جانب اردن کی سرحد بھی لگتی ہے۔گولان کی پہاڑیوں پر تنازع کیا ہے؟ اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آخری مرحلے میں اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور 1973 میں شام کی اس پر واپس قبضہ کرنے کی کوشش بھی ناکام بنائی اور سنہ 1981 میں اس کو اسرائیل نے یکطرفہ طور پر اپنا علاقہ قرار دے دیا تھا۔گولان کی پہاڑیوں کو شام اور اسرائیل دونوں ملک ہی خاص اہمیت دیتے ہیں اس کی اہم وجہ اس کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت ہے۔ شام کے جنوب مغرب میں واقع اس پہاڑی سلسلے سے اگر نظر دوڑائی جائے تو وہاں سے شامی دارالحکومت دمشق واضح طور پر نظر آتا ہے۔س علاقے پر اسرائیل کے قبضہ کے بعد سے اسرائیلی فوج یہاں سے شامی فوج اور جنگجوؤں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ یہاں سے شمالی اسرائیل کا علاقہ بھی دسترس میں ہے اور سنہ 1948سے سنہ 1967تک جب یہ پہاڑی سلسلہ شام کے زیر انتظام تھا تو شامی فوج یہاں سے شمالی اسرائیل پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔لہذا اس علاقے کا جغرافیائی محل وقوع اسرائیل کو شام کی جانب سے کسی بھی عسکری حملے کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔عسکری اہمیت کے علاوہ اس بنجر علاقہ کے لیے پانی بھی ان پہاڑیوں سے بارش کے پانی سے بننے والے ذخیرہ سے حاصل ہوتا ہے جو کہ اسرائیل کے لیے پانی کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔

گولان کی پہاڑیوں کی اسی اہمیت کے پیش نظر عالمی طاقتوں نے اب ایک طرف ملک شام میں بشار الاسد جیسے خونی درندے کی حکومت کو بچا لیا ہے اور دوسری جانب امریکہ کی طرف سے اقدام کراتے ہوئے یہ اہل مقام اسرائیل کا قانونی حق قرار دلوادیا گیاہے۔

اگرچہ بعض عرب ممالک نے اسے تسلیم نہ کرنے کا بیان دیا ہے، مگر ضرورت بیانات کی نہیں ہے، بلکہ اپنے مقدس حقوق کے تحفظ اور مسلم مقبوضات کی آزادی کے لیے عملی اِقدامات ضروری ہیں، اور افسوس اس بات کا ہے کہ عالم اسلام پرانہی عملی اقدامات کرنے پر قدغن لگا دی گئی ہے اور عالم اسلام اس قدغن کو خوشی خوشی قبول بھی کرچکا ہے۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor