Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تین کام (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 685 - Mudassir Jamal Taunsavi - Teen Kaam

تین کام

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 685)

کامیابی، ترقی اور کامرانی کے لیے ہم میں سے ہر فرد کو تین کام اپنے اوپر لازم کر لینے چاہئیں۔

پہلا کام: روزانہ کی بنیادوں پر علم حاصل کرنا، چاہے قرآن کریم کی ایک آیت ہو، ایک حدیث ہو، ایک مسئلہ ہو، کوئی بھی صورت ہو، لیکن ہمارا کوئی بھی دن حصولِ علم سے خالی نہ رہے۔

نبی کریمﷺکا صاف صاف فرمان موجود ہے کہ:

’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتے ہیں، اسے دین کی سمجھ بوجھ عطاء کرتے ہیں‘‘ (متفق علیہ)

اسی سے اندازہ لگائیں کہ اگر جو لوگ دین سمجھنے اور سمجھانے کے قریب نہیں جاتے تو کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہ اُن لوگوں میں شامل کر دیے گئے ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا ارادہ نہیں کیا، اور جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا اِرادہ نہ کیا ہو، تو وہ جتنے جتن کر لیں کبھی بھی بھلائی حاصل نہیں کرسکتے۔

اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق ساتھ دے، تو روزانہ کسی بھی وقت تنہائی میں بیٹھ کر روزہ مرہ کے دینی معاملات بارے سوچیں کہ مجھے کتنا علم ہے اور کتنا نہیں؟

مثال کے طور پر ہمیں ہر روز وضو کرنا اور نماز پڑھنا ہوتی ہے، تو ہم سوچیں کہ:

 مجھے وضو اور طہارت کے بارے میں کتنا علم ہے؟

وضو کے لیے پانی ضروری ہے، تو کیا میں نے کبھی سوچا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کون کون سا پانی پاک ہوتا ہے اور کون کون سا پانی ناپاک؟

کس پانی سے وضو درست ہوتا ہے اور کس سے وضو درست نہیں ہوتا؟

 کن چیزوں کو جھوٹا پانی پاک ہوتا ہے اور کن چیزوں کا جھوٹا پانی مکروہ ہوتا ہے اور کن چیزوں کا جھوٹا پانی حرام ہوتا ہے؟

آپ اندازہ لگائیں کہ حضرات فقہائے کرام ان مسائل کو کتنی اہمیت دیتے ہیں کہ تقریباً فقہ اور حدیث کی اکثر کتابوں میں سب سے پہلے یہی طہارت کے مسائل ذکر کرتے ہیں۔ کیوں کہ شریعت میں سب سے اہم نماز ہے اور نماز کی بنیاد طہارت پر ہے، اس لیے سب سے مقدم نماز کو رکھتے ہیں اور نماز کی خاطر طہارت کو سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں، اور اس کے ذیل میں تفصیل سے ان سوالات کے جوابات ذکر کرتے ہیں جن میں سے چند ابھی اوپر ذکر کیے گئے ہیں۔

اسی طرح نماز کے بارے میں خود سے سوال کریں کہ مجھے نماز کے بارے میں کتنا علم ہے؟

اذان اور اِقامت کے ضروری اَحکام مجھے معلوم ہیں؟

نماز کے اَوقات کی صحیح پہچان مجھے معلوم ہے؟

نماز کی شرائط اور فرائض مجھے یاد ہیں؟

نماز کے واجبات اور مکروہات مجھے یاد ہیں؟

نماز کی سنتیں اور آداب مجھے معلوم ہیں؟

نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے کیا وہ مجھے صحیح صحیح یاد ہے؟

الغرض کہ ہر روز اپنا آپ محاسبہ کریں۔ اپنے علم کا خود جائزہ لیں۔ خود سے ہی ضروری ضروری سوال کریں اور جن باتوں کا جواب معلوم ہو، تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کریں اور جن باتوں کا علم نہ ہو تو اسی کو بنیاد بنا کر حصول علم شروع کردیں۔

امام ابو حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں منقول ہے کہ انہیں اُستاذ نے نصیحت کی تھی کہ روزانہ تین مسائل سے زیادہ مت پوچھا کرو۔ پھر امام صاحب تقریباً اٹھارہ سال استاذ کی خدمت میں رہے، اس سے اندازہ لگائیے کہ اگر امام صاحب روزانہ فقط تین مسائل ہی سیکھتے رہے ہوں تو اٹھارہ سال میں کتنے مسائل انہیں معلوم ہوگئے ہوں گے؟ اس لیے ہمت کیجئے، ماحول کوئی بھی بھی، کیسا بھی ہو، حصول علم سے کبھی بھی غافل مت ہوں، ورنہ اللہ تعالیٰ بچائے، بہت بڑی خیر سے محرومی ہوگی۔

دوسرا کام: علم پر عمل کی مشق کیجیے۔ بعض اہل علم سے منقول ہے کہ عمل سے متعلق جو بھی علم کی بات سنیں تو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور اس پر عمل کریں، تاکہ آپ اس پر عمل کرنے میں کسی نہ کسی درجے میں ضرور شمار ہوجائیں۔ کیوں کہ اگر اس پر ایک بار بھی عمل نہ کیا تو اس کا وبال بہت سخت ہوسکتا ہے۔

علم کی اصل غایت عمل ہے۔ علم پر عمل نہ ہوتو وہ وبال بن جاتا ہے، اور اگر عمل کر لیا جائے تو دو فائدے یقینی ہوجاتے ہیں:

(۱)وہ علم پختہ ہوجاتا ہے۔

(۲)وہ علم وبال نہیں بنے گا۔

چنانچہ حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ ’’طلبہ علم‘‘ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’آج کل طلبہ نے خیال کر رکھا ہے کہ درسیات سے فارغ ہو کر پھر عمل کا اہتمام کریں گے، یہ بالکل شیطانی وسوسہ ہے، جس کی وجہ سے عمر بھر بھی عمل کی توفیق نہیں ہوتی۔ یاد رکھو! ہر چیز کا پہلی بار جو اثر ہوتا ہے وہ پھر نہیں ہوا کرتا۔ جب علم حاصل کرنے کے وقت کسی کام کا ثواب یا گناہ معلوم ہوتا ہے تو اس وقت دل پر ایک خاص اثر ہوتا ہے، اگر اس اثر سے اس وقت کام لیا گیا اور عمل کا اہتمام کر لیا گیاتب تو اثر آئندہ باقی رہتا ہے ورنہ پھر قلب سے زائل ہوجاتا ہے اور دوبارہ آسانی سے پیدا نہیں ہوتا‘‘(آداب المتعلمین)

تیسرا کام: اخلاص اور صدق نیت ہے۔ سچی نیت، اور اخلاص ہر عمل کی جان ہے، اس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی بے جان ہوجاتا ہے۔ جو علم اور عمل اخلاص سے خالی ہو، وہ نور اور برکت سے بھی خالی ہوجاتا ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے:

اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو عمل کا بدلہ اس کی نیت کے حساب سے ہی ملے گا۔ چنانچہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف ہجرت کرتا ہے، تو اس کی ہجرت واقعی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی طرف ہی شمار ہوگی(جس پر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر بھی ملے گا اور اللہ کے رسولﷺ کی محبت اور قرب بھی ملے گا)، اور اگر کسی کا ہجرت کرنا دنیا پانے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہے تو وہ اسی مقصد کے لیے ہجرت شمار ہوگی(جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر بھی نہ ملے گا اور اللہ کے رسولﷺ کی محبت اور قرب بھی نہ ملے گا)۔ (متفق علیہ)

کسی بھی نیک کام میں کوئی فاسد اور بُری نیت اور دُنیوی غرض و مفاد نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضاو خوشنودی، اُس کا قرب ، اور اپنی آخرت سُدھارنے کے لیے وہ کام کیا جائے۔ اِنسان میں اِخلاص اور صدق نیت پیدا ہوجائے تو کئی باطنی اَمراض خود بخود زائل ہوجاتے ہیں۔

 

’’نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ: اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتے بلکہ تمہارے عمل اور تمہارے دلوں کو دیکھتے ہیں۔‘‘

جب نیت میں سچائی اور اخلاص ہو تو پھر ایک فائدہ یہ ہوتاہے کہ انسان دنیا میں اس کے فائدے پر نظر نہیں رکھتا۔ اگر دنیا میں آسائش مل رہی ہو وہ تب بھی اس عمل کو جاری رکھتا ہے اور اگر سختیوں اور آزمائشوں کا سامنا ہو تب بھی وہ اپنے عمل سے غافل نہیں ہوتا۔

حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی کریمﷺ کی صحبت کی برکت کے ساتھ ساتھ اِخلاص اور نیت کی سچائی نے بلند ترین مقام تک پہنچایا۔ نیت میں سچائی اور اخلاص ہو تو کم دِکھنے والا عمل بھی کوئی گنا زیادہ طاقتوراور مؤثر بن جاتا ہے اور اگر نیت کی سچائی اور اخلاص نہ ہو تو ڈھیروں مال و دولت کی پشت پناہی کے باوجود وہ عمل بے اثر اور رائیگاں ہوجاتا ہے۔

اس لیے کوشش کریں کہ ان تین کاموں کو خود پر لازم کر لیں۔ ہر روز اس کاجائزہ لیں کہ ان تینوں کاموں پر کتنا عمل ہوا اور کتنا نہیں ہوا؟ اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی سے امید ہے کہ اگر ہم یہ تین کام اپنی زندگی میں لازم کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سی مہربانیاں ملیں گی اور کامیابی و کامرانی ہر چہار جانب سے آپ کو گھیر لے گی۔ ان تین کاموں کو ناممکن مت سمجھئے، ہمت کیجیے، ہمت سے یہ تینوں کام بہت ہی آسان ہوجائیں گے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor