Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

غزواتِ نبویہ (نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی)

Naqsh-e-Jamal 682 - Mudassir Jamal Taunsavi - Ghazwat e Nabawiya

غزواتِ نبویہ

نقش جمال .مدثر جمال تونسوی (شمارہ 682)

غزوات : غزوہ کی جمع ہے اور اصطلاحِ خاص میں غزوہ اُس جنگ کو کہتے ہیں جس میں مشرکین، کفار اور دشمنانِ اسلام کے خلاف جہاد کرنے والے مجاہدین میں نبی کریمﷺ بھی شریک ہوئے ہوں۔ اندازہ کیجئے کہ جہاد کس قدر عظمت والی عبادت ہے، جس میں نبی کریمﷺ اپنے جان و مال کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔

غزوات نبویہ : صداقت نبوی کی عمدہ ترین دلیل ہیں

غزوات نبویہ : شجاعتِ نبوی کی زندہ مثال ہیں

غزوات نبویہ :فراستِ نبوی کا منہ بولتا ثبوت ہیں

غزوات نبویہ : اسلام کی حقانیت کا جاگتا پیغام ہیں

غزوات نبویہ :امت کے لیے بہترین نمونہ ہیں

غزوات نبویہ :امت کے قائدین اور رہنماؤں کے لیے ایک بہترین راستہ ہیں

غزوات نبویہ کو دیکھاجائے، انہیں پڑھا جائے، انہیں سوچا جائے، انہیں سمجھا جائے، ان سے روشنی لی جائے، انہیں آئیڈیل بنایاجائے، ان غزوات کی روشنی میں نبی کریمﷺ کی عظمت کو دیکھا جائے، آپﷺ کے مقام کی بلندی کو دیکھا جائے، آپﷺ کی پالیسیز کو سمجھاجائے، آپﷺ کی قربانی کی عمدہ مثالوں کو دیکھاجائے۔

اس سے امت میں ایک حوصلہ پیدا ہوتا ہے، انہیں حق اور باطل سمجھنے میں مدد ملتی ہے، انہیں اہل وفا اور اہل مفاد کی پہچان کا سامان ملتا ہے۔

کتنی حیرت کی بات ہوگی کہ کوئی شخص خود کو نبی کریمﷺ کا پیرکار کہلوائے مگر جہاد سے کتراتا ہو، میدان جہاد کے زخموں سے خوف زدہ ہوتے ہوں، جہادی غبار کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں، جہاد سے کنارہ کشی کرنے میں کامیابی سمجھتے ہوں، تو باآسانی پتہ چل سکتا ہے کہ ایسے لوگ کس راہ پر چلنے والے ہیں!

نبی کریمﷺ کو امت سے بے پناہ محبت اور شفقت تھی، آپ امت کے حق میں بے پناہ رحیم تھے، اور اس کے باوجود آپ نے کس طرح جہاد میں سختیاں جھیلیں، میدانِ جہاد کے گرم سرد ماحول کا سامنا کیا، یہ سب کس لیے؟ تاکہ امت کو ہر مشکل حالت میں سہارہ ملے، مصائب میں ان کی ڈھارس بندھی رہے، انہیں کوئی بھی زخم لگے تو اس سے پہلے انہیں اپنے محبوب نبیﷺ کو لگنے والا زخم یاد آجائے ، جس سے ان کا حوصلہ مضبوط ہوگا، اور وہ زخم انہیں راہِ حق سے ڈگمگا نہ سکیں گے۔

کوئی مشکل وقت میں امت کی قیادت کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کس طرح نبی کریمﷺ نے مشکلات میں بھی راہ حق پر ثابت قدمی دکھائی ہے، کس طرح نبی کریمﷺ نے اسباب و سامان کی قلت کے باوجود مشرکین اور کفار سے دوبدو جنگ کی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین اور کفار کے سامنے سرجھکانے کے بجائے عزت و سربلندی کے ساتھ اور دبنے کے بجائے دوٹوک جواب دینے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے۔

غزوات نبویہ پر غور کریں کہ فقط ایک مرتبہ کوئی جنگ پیش نہیں آئی، بلکہ مدینہ منورہ کی زندگی میں دو درجن سے زائد بار جنگ کی تیاریاں ہوئیں، اور ہر مرتبہ نبی کریمﷺ نے جنگ کی قیادت کی، اپنے صحابہ کو لے کر مقابلے میں نکلے، کبھی قریب کے دشمن سے تو کبھی دور کے دشمن سے، کبھی مدینہ کے پڑوس میں رہنے والوں سے تو کبھی مدینہ سے دور بسنے والے سے، کبھی حملہ آور دشمن سے نمٹنے کے لیے تو کبھی حملہ کی تیاری کرنے والے دشمنوں کی طاقت و جمعیت کو توڑنے کے لیے۔ کبھی کسی مسلمان خاتون کی عزت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف تو کبھی کسی مسلمان کو ناحق قتل کے بدلے میں۔

نبی کریمﷺ کی صفات میں سے ہے کہ آپ سب سے بہادر تھے، آپ کی بہادری قدم قدم پر عیاں تھی اور غزوات تو میں یہ بہادری روز روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آجایا کرتی تھی، اور اپنے اور اغیار سب ہی اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوجایا کرتے تھے۔

حیرت ہے اُن لوگوں پر جو جنگی مشقیں تو شوق سے دیکھتے ہیں مگر حقیقی جنگ کے تصور سے ہی کانپ جاتے ہیں،حالانکہ اسلام نے جنگ کو جہاد کی حدبندی عطاء کرکے ایک عظیم ترین عبادت بنادیا ہے، اور اپنے نبی کااسوہ بھی قرار دیدیا ہے۔

’’تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ سے اور آخرت کی امید رکھتا ہو‘‘(سورۃ الاحزاب)

نبی کریمﷺ نبیٔ رحمت ہیں، نبی الملاحم ہیں۔ رحمت والے اور جنگوں والے نبیﷺ

نبی کریمﷺ نبی التوبہ ہیں، اور نبی السیف ہیں۔ توبہ والے اور تلوار والے نبیﷺ

یہ حسین اِمتزاج ہے،یہ جامعیت اور اِعتدال کا عمدہ ترین نمونہ ہے۔

محبت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے اور غیرت بھی اللہ تعالیٰ کے لیے۔ جینا بھی اللہ تعالیٰ کے لیے اور مرنا بھی اللہ تعالیٰ کے لیے۔

اگر نبیٔ کریمﷺ کی سیرت طیبہ سے غزوات کو نکال لیاجائے تو باقی کیا رہ جائے گا؟

اگر اسلامی تعلیمات سے جہاد کو نکال لیاجائے تو کس طرح اسلام مکمل کہلائے گا؟

جس بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو بہترین نمونہ قرار دیا ، اگر اسی سے کنارہ کشی کر لی جائے تو اتباعِ سنت کا تصور کتنا ناقص ہوجائے گا؟

غور سے تو دیکھو تمہیں اللہ کے نبی بار بار اپنے جسم پر جہادی لباس پہنتے ہوئے دکھائی دیں گے، بار بار اسلحہ اُٹھاتے ہوئے اور اسے دشمنوں پر چلاتے ہوئے نظر آئیں گے، بار بار جنگوں کے گرد و غبار میں شجاعت کا پیکر بن کر پورے قدسے کھڑے دکھائی دیں گے، کیا یہ سب کچھ امت مسلمہ کو سمجھانے کے لیے کافی نہیں ہے؟

یہ بات امت مسلمہ کے ہر فرد کو سمجھنا ہوگی، قائدین کو سمجھنا ہوگی، تمام اصحاب اختیار کو سمجھنا ہوگی۔ معاملہ دوبدو جنگ کا ہویا سرد جنگ کا، ہر معاملے میں نبی کریمﷺ کے غزوات بہترین رہنما ہیں، اس کے لیے اپنے ذہن کو صاف کرناہوگا اوریہ یقین رکھنا ہوگا کہ جہاد اس امت کی زندگی ہے اور جہاد بہترین عبادت ہے اور نبی کریمﷺ کے جہادی غزوات کو ایمان کی روشنی کے ساتھ مثال بنانا ہوگا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor