Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

استقامت کی ضرورت ہے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 689 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Isteqamat ki Zarorat

استقامت کی ضرورت ہے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 689)

موجودہ حالات میں داڑھی ، پگڑی ،ٹوپی ،مدرسہ ، مسجد سے وابستہ تمام افراد کو ایک مرتبہ پھر صاف نظر آرہا ہے :

ہوائوں کا رخ بتا رہا ہے ضرور کوئی طوفان آرہا ہے

نگاہ رکھنا سفینے والو‘موجیں اٹھتی ہیں کس جانب سے پہلے

وہ طلبہ جن کے ہاتھ پاکستان کے اندر ہر قسم کی بد امنی اور دہشت گردی سے پاک ہیں ، وہ ادارے جو پاکستان سے محبت کا درس اپنے طلبہ کو گھول گھول کر پلاتے ہیں ، وہ علماء جو پاکستان کو مسجد کی طرح مقدس سمجھتے ہیں اور وہ مجاہدین جو ہر مشکل لمحہ میں پاکستان کیلئے بے لوث محافظ کا کردار ادا کرتے رہے ہیں ‘ ان طبقات کو مشکوک بنانے والے لوگوں کا اپنا کردار کیا ہے؟اور ان کی سازشوں کے ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں؟

یہ ایسے آسان سوالات ہیں ‘ جن کا جواب پاکستان سے محبت رکھنے والا ہر مخلص مسلمان بخوبی جانتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے حکمران طبقات سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی آزمائش کا بازار گرم کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حالات میں اہل ایمان کوصبر و استقامت کا سبق پھر یاد کرنا چاہیے اور اپنے اسلاف کی عظیم روایات کے مطابق دین کی اشاعت اور اس کے تحفظ کا فریضہ سر انجام دیتے رہنا چاہیے ۔ یہ حالات اہل ایمان کے لیے کوئی اجنبی نہیں ‘ اس دین کا تو آغاز ہی ایسے مشکل حالات سے ہوا تھا کہ آج اُن کو پڑھ کر اور سن کر بھی دانتوں کو پسینہ آجاتا ہے ۔

’’ حضرت ابو عبداللہ خباب بن اَرت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے سایہ میں ایک چادر کا تکیہ بنا کے ٹیک لگائے ہوئے تھے ۔ ہم نے عرض کیا ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کیوں نہیں فرماتے ۔ ہمارے لئے دعا کیوں نہیں فرماتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے لوگوں کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں گاڑ دیا جاتا ۔ پھر آرالے کر اُس کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈیوں کے اوپر والے حصے کو چھیدا جاتا مگر یہ تمام تکالیف اس کو دین سے نہ روک سکتیں ۔ قسم بخدا! اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور غالب فرمائے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہو گا اور نہ بھیڑئیے کا ڈر ہو گا اپنی بکریوں پر ۔ لیکن تم جلدی سے کام لیتے ہو ۔‘‘ (صحیح البخاری ‘ کتاب علامات النبوۃ ‘ باب ما لقی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم واصحابہ من المشرکین بمکۃ)

اہل ِ ایمان کی تاریخ صبرو استقامت کے واقعات سے لبریز ہے اور خاص طور پر مندرجہ ذیل ایمان افروز واقعہ تو ایسا ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اس کے پڑھنے سے دل میں ایمان کی محبت اور اس کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کا جذبہ بیدار ہو جاتا ہے ۔ اسی لیے یہ مفصل واقعہ نذرِ قارئین ہے ۔

قرآنِ مجید تیسویں پارے کی سورۃ البروج میں یہ آیاتِ مبارکہ ہیں :

 قتل اصحب الاخدودo النار ذات الوقودo اذہم علیہا قعودo وہم علی مایفعلون بالمؤمنین شہودo وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باﷲ العزیز الحمیدo

ترجمہ: ’’کہ خندق والے یعنی بہت سے ایندھن کی آگ والے ملعون ہوئے جس وقت وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے، اس کو دیکھ رہے تھے اور ان کافروں نے ان مسلمانوں میں اور کوئی عیب نہیں پایا تھا سوائے اس کے کہ وہ خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست لائق حمدہے۔‘‘(البروج ۴تا ۸)

 ان ’’خندق والوں‘‘ کا واقعہ تفصیل سے حدیث شریف کی کئی کتابوں میں منقول ہے۔ ہم صحیح مسلم کی روایت کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں:

حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:

 تم سے پہلی (قوموں میں) ایک بادشاہ تھا، جس کے پاس ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا دوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کیلئے اس بوڑھے جادوگر کی طرف بھیج دیا۔ جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں، پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (اور اس کی باتیں سنتا) اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر (دیر سے آنے کی وجہ سے) اس لڑکے کو مارتا تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے (کسی کام کیلئے) روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔

 اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا۔ (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا: میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے؟ اور پھر اس لڑکے نے ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا: اے اﷲ! اگر تجھے جادو گر کے معاملہ سے راہب کا معاملہ زیادہ پسندیدہ ہے تو اس درندے کو ماردے تاکہ (یہاں راستہ سے) لوگوں کا آنا جانا شروع ہو اور پھر وہ پتھر اس درندے کو مار کر اسے قتل کردیا اور لوگ گزر گئے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: اے میرے بیٹے! آج تو مجھ سے افضل ہے، کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا۔ پھر اگر تو(کسی مصیبت) میں مبتلا کردیا جائے تو کسی کو میرا نہ بتانا اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا۔ بلکہ لوگوں کی ساری بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا۔

بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا۔ اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا: اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لیے ہیں۔ اس لڑکے نے کہا: میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا بلکہ شفاء تو اﷲ تعالیٰ دیتا ہے۔ اگر تو اﷲ پر ایمان لے آئے تو میں اﷲ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے۔ پھر وہ (شخص) اﷲ پر ایمان لے آیا تو اﷲ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمادی۔ پھر وہ آدمی (جسے شفا ہوئی) بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹادی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ اس نے کہا: کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے؟ اس نے کہا: میر ا اور تیرا رب اﷲ ہے۔ پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو اس لڑکے کے بارے میں بتلادیا۔ (اس لڑکے کو بلایا گیا) پھر جب وہ لڑکا آیا تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے؟ اور ایسے ایسے کرتا ہے؟ لڑکے نے کہا: میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، بلکہ شفا اﷲ تعالیٰ دیتاہے۔ بادشاہ نے اسے پکڑ کر عذاب دیا، یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا (پھر راہب کو بلوایا گیا) راہب آیا تو اس سے کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا۔ راہب نے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے آرا منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کردیے۔ پھر بادشاہ کے ہم نشین کو بلایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا، اس نے بھی انکار کردیا۔ بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کروادئیے۔

(پھر اس لڑکے کو بلایا گیا) وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا۔ اس نے بھی انکار کردیا۔ تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ۔ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کردے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اﷲ! تو مجھے ان سے کافی ہے۔ (جس طرح چاہے مجھے ان سے بچالے) اس پہاڑ کی چوٹی پر فوراً ایک زلزلہ آیا۔ جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گر گئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اﷲ پاک نے مجھے ان سے بچالیاہے۔

بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جا کر سمندر کے درمیان پھینک دینا اگر یہ اپنے مذہب سے نہ پھرے۔ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اﷲ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچالے۔ پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا: تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اﷲ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچالیا۔ پھر اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا: تو مجھے قتل نہیں کرسکتا، جب تک اس طرح نہ کرے جس طرح کہ میں تجھے حکم دوں۔ بادشاہ نے کہا : وہ کیا؟ اس لڑکے نے کہا: سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ۔ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو، پھر اس تیر کو کمان کے چلہ پر رکھو اور پھر کہو: اس اﷲ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو، اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو؟

پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکادیا۔ پھر اسکے ترکش میں سے ایک تیر لیا، پھر اس تیر کو کمان کے چلہ پر رکھ کر کہا: اس اﷲ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے۔ پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس کے لڑکے کے کنپٹی میں جاگھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا تو سب لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا: تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی بات آن پہنچی کہ لوگ ایمان لے آئے۔

 تو پھر بادشاہ نے گلیوں کے دھانوں پر خندقیں کھودنے کا حکم دیا۔ پھر خندقیں کھودی گئیں اور ان خندقوں میں آگ جلادی گئی۔ بادشاہ نے کہا:

جو شخص اپنے دین سے واپس بادشاہ کے مذہب کی طرف لوٹ کر نہ آئے اس کو آگ میں ڈال دو یا ان سے کہا گیا کہ آگ میں داخل ہوجاؤ تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ (یا بادشاہ کے لوگوں نے ان لوگوں کو خندق میں ڈال دیا) یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا۔ وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس عورت کے بچے نے کہا: اے امی جان! صبر کر، کیونکہ تو حق پر ہے۔‘‘ (صحیح المسلم،کتاب الزھدوالرقاق، باب قصہ اصحاب الاخدود والراھب والغلام )

اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے اور تمام اہلِ پاکستان کو امن ‘ سلامتی اور عافیت سے نوازے۔ (آمین )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor