Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دینی مدارس کا’’ امریکی‘‘ نصاب ؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 688 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Deeni Madaris ka Ameriki Nisab

دینی مدارس کا’’ امریکی‘‘ نصاب ؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 688)

الحمد للہ تعالیٰ !زبان کی حفاظت کے بارے میں بھی بچپن سے ہی بہت کچھ سن رکھا تھا اور ان باتوں پر اپنا ٹوٹا پھوٹا عمل بھی تھا لیکن مکمل طور پر زبان کی حفاظت کی اہمیت کا اندازہ اب جا کر ہوا ،جب وفاقی حکومت کے وزراء کے بیانات نظروں سے گزرے ہیں ۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا بھر کے سارے ارسطو اور افلاطون وطن عزیز کے حصے میں ہی آگئے ہیں۔

ایک وفاقی وزیر جو اپنے الٹے سیدھے بیانات کے لیے کافی مشہور ہیں اور بزبانِ حال یہ کہتے پھرتے ہیں کہ لوگو! اپنی زبانوں کو سنبھال کر رکھو اور احتیاط سے استعمال کیا کرو ورنہ :

’’دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو‘‘

انہی وزیر صاحب کی طرف سے گزشتہ ہفتہ ایک بیان اخبارات کی زینت بنا کہ ’’ دینی مدارس کا نصاب امریکہ کی نبراسکا یونیورسٹی سے بن کر آیا ہے‘‘ جس نے بھی یہ بیان پڑھا اور سنا ‘اُس کے چہرے پر بلا اختیار مسکراہٹ پھیل گئی کہ کیا وزرات اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے والا شخص حقائق سے اتنا بھی لا علم ہو سکتا ہے ۔ دینی مدارس کے نصاب کے بارے میں تو چند بنیادی معروضات ہم آگے پیش کریں گے لیکن پہلے وزیر موصوف کی اس غلط فہمی کی بنیاد واضح کر دینی چاہیے تاکہ اس صدی کا شاید یہ سب سے بڑا لطیفہ کوئی اور وزیر ، مشیر یا دانشور بھی آگے نہ نقل کر دے ۔

آج سے ۳۵ سال پہلے افغانستان میں جب روس کے خلاف جہاد چل رہا تھا ،وہ جہاد جس نے نہ صرف یہ کہ افغانستان سے روس کو نکلنے پر مجبور کیا بلکہ سوویت یونین نامی سرخ ریچھ سے وسطی ایشیاکی مسلم ریاستوں کو بھی آزادی دلوائی ۔ چونکہ اس وقت امریکی مفادات بھی روس کی تباہی سے وابستہ تھے،اس لیے امریکی یونیورسٹی ’’نبراسکا‘‘ نے افغانستان کے سکولوں کیلئے ایک تعلیمی نصاب تیار کروا کر بھیجا تھا،جو افغانستان اور چند مہاجر کیمپوں میں پڑھایا جاتا تھا ۔ اس امریکی نصاب کا دینی مدارس کے اس نصاب سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں جو پہلی مرتبہ ملا نظام الدین سہالوی رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے تقریباً پونے تین سو سال پہلے مرتب و مدوّن کیا تھا ۔

اس سے پہلے کہ ہم دینی مدارس کے نصاب کی بنیادی باتوں پر نظر ڈالیں انتہائی اختصار کے ساتھ یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ علماء نے کن حالات کے پیش نظر علوم جدیدہ اور خصوصاً انگریزی زبان کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا تھا اور اپنے نصاب تعلیم میں اسے جگہ دینے سے انکار کردیا تھا ۔ جس زمانے میں یہ دینی مدارس وجود میں آرہے تھے،یہ وہ دور تھاکہ ایک ایسی حکومت ہندوستان پر مسلط ہوگئی تھی جسے مسلمانوں کی تہذیب و اقدار سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔ اس کے رائج کردہ نظام تعلیم کا مقصد ہی یہ تھا کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کی عظیم الشان تعلیمات اور تاریخ سے کاٹ دیا جائے۔ برطانوی ہندوستان میں ملک کی تعلیمی حالت پر متعدد رپورٹیں لکھی گئیں تھیں۔ ۱۷۹۲ء میں چارلس گرانٹ نے ایک رپورٹ میں لکھاتھا:

’’مختصر یہ کہ ہم کو ماننا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے لوگ ایک نہایت ہی بگڑی ہوئی اور ذلیل قوم ہیں اور ان کو اخلاقی فرض کا بہت ہی کم خیال ہے اور حق الأمر کی پرواہ نہ کرنے میں بہت ہی شہ زور ہیں اور اپنے برے اور وحشیانہ جذبات کے محکوم ہیں۔‘‘ (مسلمانوں میں انگریزی تعلیم ۱۷۹۳ء تا ۱۸۹۳ء ص۳۳)

اسی طرح میکالے نے تعلیمی پالیسی کے بارے میں کہا تھا:

’’موجودہ وقت میں ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ایک ایسے طبقہ کو پیدا کریں جو ہمارے اور محکوم باشندوں کے درمیان ترجمان بن سکے جو اپنے خون ورنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو لیکن اپنے مزاج، فکر، رائے، اخلاق اور ذہن کے اعتبار سے انگریز ہو۔ (منتخب تحریریں از میکالے (انگریزی) ص۲۴۹)

۱۸۷۳ء میں خود پنجاب کے گورنر نے کہا:

’’انگریزی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ انگریزی ادب کے عظیم مصنفین کی روح میں اُترا جائے، ان کے افکار کی عظمت، خوبصورتی، شرافت، تہذیب اور حکمت کو جذب کیا جائے اور زندگی کو ان کے نقطۂ نظر کے مطابق ڈھالا جائے، تعلیم کا یہ وہ معیار ہے جس پر محکمۂ تعلیم کو پورا اُترنا چاہیے۔ (پنجاب میں تاریخِ تعلیم (انگریزی) ص۶۵)

یہ تین حوالے تعلیم کے بارے میں اس زمانے کی حکومت کے عزائم کو واضح کرنے کیلئے کافی ہیں۔ اب ذرا ایک نظر اس درسگاہ کی طرف ڈال لیجئے، جسے مسلمانوں کی خوشحالی کیلئے قائم کیا گیا تھا، صاحبزادہ آفتاب احمد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا:

’’پس اصلی تعلیم کا یہ کام ہے کہ ہمارے طالب علموں کی حقیقت بیں طبیعتوں کو قوم انگلشیہ کی عالی صفات کے مطالعہ کرنے کا موقع دے۔ اس وقت ان کو معلوم ہوجائے گا کہ تقریباً ہر ایک انگریز کے عمل اور فعل میں برک اور میکالے کم وبیش موجود ہیں، ضرورت اس کی ہے کہ انگریزوں کے متعلق صحیح حالات ہمارے نو عمروں کو معلوم ہوں۔ یہی وہ اصول ہے جو ابتداء سے علی گڑھ کالج کی تعلیم میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔ (رسالہ کانفرنس، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ۱۹۱۱ء)

اب ذرا اس کے بعد بنظر انصاف حضرت شیخ الہندؒ کے خطبہ کا یہ اقتباس پڑھئے اور سوچئے کہ کیا اس سلسلے میں اس سے زیادہ معتدل رویہ اپنایا جاسکتا ہے؟ حضرت نے جامعہ ملیہ کی افتتاحی تقریب (۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ء) میں خطبہ صدارت کے دوران فرمایا:

’’آپ میں سے جو حضرات محقق اور باخبر ہیں وہ جانتے ہوں گے کہ میرے بزرگوں نے کسی وقت بھی کسی اجنبی زبان سیکھنے یا دوسری قوموں کے علوم وفنون حاصل کرنے پر کفر کا فتویٰ نہیں دیا۔ ہاں یہ بے شک کہا کہ انگریزی تعلیم کا آخری اثر یہی ہے جو عموماً دیکھا گیا ہے کہ لوگ نصرانیت (عیسائیت) کے رنگ میں رنگے جائیں یا ملحدانہ گستاخیوں سے اپنے مذہب اور اپنے مذہب والوں کا مذاق اُڑائیں یا حکومت وقت کی پرستش کرنے لگیں تو ایسی تعلیم پانے سے ایک مسلمان کیلئے جاہل رہنا اچھا ہے۔‘‘ (نقش حیات ص۶۷۷)

بانی ٔدارالعلوم دیوبندحضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے قیام دارالعلوم کے آٹھ سال بعد پہلے جلسہ تقسیم اسناد ودستار بندی پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا:

’’اہل عقل پر روشن ہے کہ آج کل تعلیم علوم جدیدہ تو بوجہ کثرت مدارس سرکاری (اسکول، کالج) اس ترقی پر ہے کہ علوم نقلیہ (قرآن وسنت وغیرہ) کو سلاطین زمانہ سابق میں بھی وہ ترقی نہ ہوئی ہوگی۔ ہاں علوم نقلیہ (قرآن وسنت وغیرہ) کا یہ تنزّل ہوا کہ ایسا تنزّل بھی کسی زمانہ میں نہ ہوا ہوگا۔ ایسے وقت میں رعایا (مسلمان عوام) کو مدارس علوم جدیدہ (اسکول، کالج) بنانا تحصیل حاصل ( یعنی بے کار اور فالتو) نظر آیا۔‘‘ (القاسم کا دارالعلوم نمبر، محرم الحرام ۱۳۴۷ھ)

ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ علوم عصریہ کی خدمت کیلئے چونکہ سرکاری تعلیمی ادارے پہلے سے ہی موجود تھے اور اپنے فریضے کو بخوبی سرانجام دے رہے تھے لیکن مذہبی اعتبار سے ان کے نقصانات بھی کھلی آنکھوں سے نظر آرہے تھے اس لیے ایسے ادارے ہی کی ضرورت تھی جو اسلامی علوم اور امت کے متوارث مزاج کی حفاظت کرسکے۔ ایک فرنگی اور غاصب حکومت میں تو یہ سب کچھ قابل فہم تھا لیکن پاکستان کے قیام کے بعد بجا طور پر یہ امید کی جارہی تھی کہ اب دینی علوم کو بھی سرکاری اداروں میں اہمیت دی جائے گی اور ایک مسلمان ملک کی تعلیم گاہیں حقیقی طور پر نئی نسل کی ایسی تربیت کریں گی کہ وہ آئندہ چل کر ایک مفید اور بامقصد مسلمان کے طور پر زندگی گزار سکیں گے۔ اسی غرض سے علامہ سید سلمان ندویؒ ،مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور حضرت مفتی محمد شفیعؒ نے حکومت کے قائم کردہ تعلیمات اسلامی بورڈ کی رکنیت قبول کی لیکن جب یہ تمنا خاک میں مل گئی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے حالات جوں کے توں رہے تو علماء دیوبندؒ نے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وطن عزیز میں بھی ’’دارالعلوم‘‘ کے طرز پر دینی اداروں کی بنیاد ڈالی۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ، جو انگریز کی تربیت میں رنگاہوا تھا، اس کے عزائم مدارس دینیہ کے بارے میں کیا تھے، اس کا اندازہ مندرجہ ذیل خط سے ہوسکتا ہے:

تحریکِ پاکستان کے دوران حضرت مولانا محمد منظور احمد نعمانی رحمۃ اﷲ علیہ نے شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اﷲ کی خدمت میں ایک خط لکھا، جس میں لادین طبقہ کی ذہنیت کا ماتم کیا گیا تھا، یہ خط ایک تاریخی دستاویز ہے، جسے پروفیسر انوار الحسن شیرکوٹی نے ’’ خطبات عثمانی‘‘ میں نقل کیا ہے، یہاں اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے۔ مولانا نعمانی رحمہ اﷲ لکھتے ہیں:

’’ کئی سال ہوئے ایک بہت بڑے مسلمان سرکاری عہدہ دار نے (جوغالباً ’’سر‘‘کا بھی خطاب رکھتے ہیں) مجھ سے دوران گفتگو کہا تھا کہ آپ لوگ اور آپ کے یہ مذہبی گھروندے (مدرسے اور خانقاہیں) صرف اس لیے ہندوستان میں باقی ہیں کہ انگریزی حکومت کی پالیسی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، جس دن پالیسی ہمارے ہاتھ میں آجائے گی ہم آپ لوگوں اور آپ کے ان اڈوں کو ختم کردیں گے اور مداخلت فی الدین کے نعروں سے آپ عوام میں جو ہیجان انگریزوں یا ہندوؤں کے خلاف پیدا کردیتے ہیں ہمارے خلاف پیدا نہیں کرسکتے۔ ہم جو کچھ کر یں گے مسلمان قوم کو ساتھ لے کر کریں گے اور رائے عامہ کو اتنا زیادہ ہموار کردیں گے کہ وہ آپ کو اپنے مفاد کا دشمن اور قابل قتل سمجھنے لگیں گے جیسا کہ ترکی میں ہوچکا ہے۔‘‘

آج کل دنیا میں ہر طرف اسپیشلائزیشن ( تخصّصات) کا دور ہے۔ ایک ایک فن کے جزوی مسائل پر بھی خصوصی تحقیقاتی ادارے قائم ہیں تو سوچنا چاہئے کہ علوم اسلامیہ کی حفاظت کیلئے مستقل اداروں کی ضرورت کیوں نہیںہے؟ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کے نصاب پر اعتراض کرنے والا علوم دینیہ کی وسعت یا کم از کم اہمیت سے ضرور ناواقف ہے۔

اس میں شک نہیں کہ دارالعلوم دیوبند کی ابتداء ایک مکتب کی حیثیت سے ہوئی لیکن آگے چل کر اس درسگاہ نے مکمل طور پر ایک تعلیمی نصاب اور تعلیمی نظام متعارف کروایا جو مذہبی تقاضوں کے ساتھ ساتھ وقت کی ضروریات کو بھی پورا کرتا آیا ہے۔ دارالعلوم کا نظام تعلیم، طریقہ امتحانات، درجات (کلاسز) کی مرحلہ وار تقسیم مکمل طور پر سائنسی بنیادوں پر استوار ہے۔

یہ بات اب عام طور پر تسلیم کرلی گئی ہے کہ ان دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں کوئی لچک نہیں ہے اور نہ ہی یہ اپنے ہاں کسی قسم کی مثبت اور صحت مند تبدیلی کو روا رکھتے ہیں لیکن اس خیال کا زیادہ تعلق حقیقت کے بجائے پروپیگنڈے سے ہے۔ ہمارے دینی مدارس میں آج کل جو نصاب رائج ہے، اسے عام طور پر درس نظامی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ نسبت اپنے وقت کے بہت بڑے عالم وفاضل ملا نظام الدین سہالویؒ (المتوفی ۱۱۶۱ھ) کی طرف ہے جو مسند الہند حضرت شاہ ولی اﷲؒ کے معاصرین میں سے تھے، ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان) کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبداﷲ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی ایک بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میںدرس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا۔ اکبر بادشاہ نے اپنے دور میں اس خاندان کو سہالی میں معقول جاگیر دیدی تھی جس کی وجہ سے تدریسی نظام بغیر رکاوٹ کے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ عالمگیرؒ کے دور میں سہالی کے شیخ زادوں اور اس خاندان کے درمیان کسی مسئلے میں تنازعہ ہوگیا۔ نتیجۃً اسی خاندان کے ایک بزرگ ملا قطب الدین شہید ہوگئے اور ان کا گھر، کتب خانہ وغیرہ جلا دیا گیا یوں اس خاندان کو یہ علاقہ چھوڑنا پڑا۔ اورنگزیب عالمگیرؒ نے ۱۱۰۵ھ میں لکھنوء کے اندر ’’فرنگی محل‘‘ نام کی ایک کوٹھی اس خاندان کو الاٹ کردی جس کی نسبت سے بعد میں ’’علماء فرنگی محل‘‘ کے نام سے یہ عظیم علمی خاندان پورے ہندوستان میں متعارف ہوا۔

درس نظامی کی بنیاد گیارہ علوم وفنون پر استوار تھی،صرف، نحو، منطق، حکمت وفلسفہ، ریاضی، علم بلاغت، فقہ، اصول فقہ، علم کلام، تفسیر اور حدیث۔ انہیں سے متعلقہ کتب اس نصاب کا حصہ بنیں۔

علماء دیوبند نے اس نصاب کو من وعن قبول نہیں کیا بلکہ اس میں وقت کی ضروریات کے پیش نظر کافی مفید تبدیلیاں کیں۔ مثلاً سب سے اہم تبدیلی یہ عمل میں آئی کہ ’’درس نظامی‘‘ میں حدیث کی صرف ایک کتاب ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ داخل درس تھی جبکہ مدرسہ دیوبند میں حضرت شاہ ولی اﷲ دہلویؒ کے ارشادات وتعلیمات کے پیش نظر مکمل صحاح ستّہ اور دیگر کئی کتب حدیث شامل نصاب کی گئیں۔

دارالعلوم دیوبند اور اس کے طرز پر قائم ہونے والی دینی درسگا ہوں کے نصاب میں مختلف اوقات میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں جن میں مختلف کتب کو شامل اور خارج کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس بات کی بھرپور کوشش کی گئی کہ یہ تبدیلیاں دینی مزاج کے پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوں نہ کہ رکاوٹ۔ زمانے کی زہریلی ہواؤں سے متاثر ہوکر ہر طرح کے مفید ومضر فنون کو شامل کرنے سے ہمیشہ احتراز کیا گیا لیکن جب بھی حقیقی طور پر یہ محسوس کیا گیا کہ نصاب میں اصلاح کی ضرورت ہے تو اس سے دریغ نہیں کیا گیا۔

دینی مدارس پر ہونے والے بیشتر اعتراضات خواہ وہ مخالفین کی جانب سے ہوں یا نادان دوستوں کی طرف سے ‘ان کی بنیاد اکثر و بیشتر اصل صورت حال سے لا علمی اور ناواقفیت ہوتی ہے ۔ اگر نیک نیتی ، خوش دلی اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان مدارس کا مؤقف سنا جائے تو یقینا تمام غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے ۔

اللہ کریم تمام مدارس دینیہ اور مکاتب قرآنیہ کی حفاظت فرمائے اور انہیں حاسدین کے حسد اور شریروں کے شر سے بچائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor