Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سر زمین کراچی اور اہل علم کا مقدس لہو (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 687 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ahl e Ilm ka Muqaddas Lahu

سر زمین کراچی اور اہل علم کا مقدس لہو

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 687)

اگر … اگر … اس سے زیادہ سوچنے سے ہی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں اور دل صدمے سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے ۔ استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم پر کیا گیا قاتلانہ حملہ اپنا پورا ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نیک بندے کی ایسی حفاظت فرمائی کہ عقل ششدر و حیران ہے اور دل باگاہ الٰہی میں جذبات ِ تشکر سے لبریز ہے ۔الحمد للّٰہ تعالیٰ والشکر للّٰہ تعالیٰ 

اس افسوسناک واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کا یہ پہلو پیدا فرما دیا ہے کہ پہلی مرتبہ اہل پاکستان کو پتہ چل رہا ہے کہ اس دور میں بھی ان مدارس دینیہ سے ایک ایسی شخصیت اٹھی ہے ‘ جس نے پوری دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچایا ہے اور عرب و عجم کا ایک بہت بڑا حلقہ اُن کے عقیدت مندوں میں شامل ہے ۔ علومِ قرآن و سنت کے وہ ماہر کہ جنہوں نے وحی الٰہی کی روشنی لے کر دورِ جدید کے ظلمت کدوں میں ایمان کے چراغ روشن کیے اور عالم اسلام کے درجنوں ادارے جن کی رکنیت کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں‘ ان کی سب سے قابل فخر کتاب ’’ تکملۃ فتح الملہم  ‘‘ جب شائع ہوئی تو سرورق پر نام کے ساتھ تعارف کیلئے ان کی طرف سے یہ الفاظ لکھوائے گئے تھے’’ خادم الطلبۃ بدار العلوم کراتشی‘‘

یہاں حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے علمی کمالات کو بیان کرنا ممکن نہیں کہ اس کیلئے ایک طویل مقالہ بھی شاید ناکافی ہو لیکن اتنی بات ریکارڈ پر لانے کیلئے عرض کرتا ہوں کہ ایک مرتبہ بندہ کے پاس ایک مسئلہ آیا جس میں دو فریقوں کے درمیان اربوں روپے کا تنازع تھا اور ان کا اصرار یہ تھا کہ ہمارے اختلاف کا تصفیہ عالم اسلام کی کوئی مشہور شخصیت کرے ‘ جو ہم سب کیلئے قابل قبول ہو ۔ معاملہ سے متعلق تمام کاغذات حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کی خدمت میں بھجوا دئیے گئے ‘ جس پر حضرت کا کافی و شافی جواب جلد ہی مل گیا ۔ یہ جواب چونکہ ایک فریق کے حق میں تھا اور دوسرے فریق کو کافی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اس لیے جیسا کہ ہمارے ہاں عام رواج ہے‘ اس فریق نے جواب ماننے سے انکار کر دیا اور یہ مطالبہ رکھ دیا کہ حرمین شریفین کے اہل افتاء سے اس بارے میں فتویٰ لیا جائے ۔ وہ جو فتویٰ جاری کریں گے ‘ ہمیں قبول ہو گا ۔

قصہ مختصر یہ کہ مدینہ منورہ میں مقیم ایک صاحب علم ساتھی سے رابطہ کیا گیا اور انہیں تمام کاغذات بھجوا دئیے گئے ۔ وہ صاحب علم یہ کاغذات لے کر مسجد نبوی شریف کے مفتی اور مدینہ یونیورسٹی کے مدرس فضیلۃ الشیخ الدکتور محمد صالح حفظہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہیں پورا معاملہ گوش گزار کیا اور بتایا کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اس مسئلہ پر فتویٰ جاری کر چکے ہیں لیکن ایک فریق کو یہ جواب قبول نہیں‘ اس لیے وہ آپ کے فتویٰ کے طلبگار ہیں ۔

فارسی میں کہتے ہیں:

’’ قدرِ زر ‘ زرگر شناسد ‘ قدرِ گوہر گوہری‘‘

مسجد نبوی شریف کی مسند افتاء پر فائز شیخ نے اپنے دستخط سے جو جواب جاری فرمایا ‘ اُس میں واضح طور پر لکھا کہ ’’ اس مسئلہ میں چونکہ شیخ محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ فتویٰ جاری کر چکے ہیں جنہیں ’’ ابو حنیفۃ ھذا الزمان‘‘ کہا جاتا ہے ‘ اس لیے میں مزید اس پر کچھ نہیں لکھ سکتا ‘‘یہ شیخ کی بات کا مفہوم ہے ، کاش کہ بندہ ایک جبری سفر پر نہ ہوتا تو اس تحریر کے بعینہٖ الفاظ اور ترجمہ یہاں نقل کر دیتا

اس اندوہناک سانحے پر حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے ایمانی تاثرات میں بھی ہم جیسے طالب علموں کیلئے بہت سے اسباق ہیں ۔ ایمانی جرأت اور دینی بصیرت کے ساتھ اپنی عادت کے مطابق اس موقع پر بھی ایک ایک جملہ سوچ سوچ کر اور تول تول کر یوں بیان فرما رہے تھے کہ حقیقت واقعہ بھی بیان ہو جائے‘ چاہنے والوں کے دل کو تسلی و تشفی بھی ہو جائے اور افراط و تفریط کا کوئی شائبہ بھی نہ ہو ۔ آج سے تقریباً بائیس برس پہلے جب ہم تخصص کے طالب علم تھے اور حضرت دامت برکاتہم سے ’’اصول الافتاء‘‘ پڑھتے تھے ‘ اُس زمانے میں کراچی کے حالات بہت خراب تھے اور کئی گروہوں کی طرف سے مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔ حضرت دامت برکاتہم نے ایک مرتبہ دوران درس اس بات کا تذکرہ کیا تو ایک طالب علم نے پوچھ لیا کہ حضرت! ان دھمکیوں پر آپ کا رد عمل کیا ہوتا ہے ۔ حضرت دامت برکاتہم نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

’’ میاں! جو بادل گرجتے ہیں‘ برستے نہیں‘‘

اور جو بہت زیادہ دھمکیاں دے تو میں کہہ دیا کرتا ہوں:

’’ الحمد للہ تعالیٰ ! ہم اُن سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت رکھتے ہیں ‘ جن کی مظلومانہ شہادت اس طرح ہوئی تھی کہ جنازہ میں بھی چند لوگوں کے سوا کوئی نہ تھا ‘‘

یہ ’’ روایت بالمعنیٰ ‘‘ ہے لیکن تازہ واقعہ کے بعدسے مسلسل یہ الفاظ گویا کانوں میں گونج رہے ہیں ۔

اس موقع پر اہل اقتدار سے کوئی مطالبہ کرنا یا امید رکھنا عجیب سا لگتا ہے کیونکہ اہل دین کے ساتھ جیسا رویہ اس مملکت میں برتا جا رہا ہے‘ اس کو کم سے کم الفاظ میں’’ سوتیلاپن‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے علاوہ اسی شہر قائد کراچی میں ایک طالب علم نے جن اہل فضل وکمالات کی زیارت کی اور پھر انہیں اسی خاک میں تڑپتے دیکھا‘ وہ یقینا آسمان ہدایت کے آفتاب و ماہتاب تھے لیکن اہل اقتدار نے کبھی ان حادثات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور نہ ہی ان میں سے کسی کے قاتل گرفتار ہو کر سزایاب ہو سکے ۔

حکیم العصر شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ دینی حمیت و غیرت کے علمبردار ‘ حق گو اور بے باک فقیہ حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمۃ اللہ علیہ ، اپنی ذات میں انجمن اور اکابر و اصاغر کے محسن حضرت مفتی جمیل احمد خان شہیدرحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے رفیق سفر ، مبلغ ختم نبوت حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی شہید رحمۃ اللہ علیہ ۔ پھر ان حضرات سے پہلے عظیم محدث و مدرس حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمۃ اللہ علیہ ، نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کا عملی مصداق حضرت مفتی عبدالسمیع شہید رحمۃ اللہ علیہ اور واعظِ خوش الحان ، نمونۂ اسلاف حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید رحمۃ اللہ علیہ جیسی جلیل القدر ہستیاں اس فہرست میں شامل ہیں ۔ یہ تو وہ نام ہیں جو جلدی میں نوکِ قلم پر آگئے ورنہ ایسے اہل علم بہت زیادہ ہیں جنہوں نے سر زمین کراچی پر اپنے خون سے اپنے مشن کی صداقت کی گواہی دی ۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ و جزاھم اللّٰہ تعالیٰ عنا خیرالجزاء

آج کل کے دور میں تو کہا جاتا ہے کہ ’’ ریاست‘‘ ماں کی طرح ہوتی ہے ‘ جو اپنے نافرمان بچوں کو بھی گلے لگاتی ہے اور معاف کر دیتی ہے لیکن افسوس کہ دینی حلقوں کیلئے یہ ماں بھی سوتیلی بن جاتی ہے ۔ دینی نسبت اور شہرت آتے ہی تمام انسانی اور قانونی حقوق ختم ہو جاتے ہیں ۔ ظلم کی حد یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کی نظر میں ایسے لوگ بھی قابل گرفت ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کی حفاظت کیلئے اپنا مقدس لہو پیش کیا ہے‘ جن کے گفتار اور کردار سے کبھی قومی مفادات کو نقصان نہیں پہنچا اور جن پر پورے ملک کے کسی تھانے میں کوئی کیس درج نہیں ہے ۔ جب ایسے بے گناہ، نہتے اور بے بس لوگوں کو ستایا جاتا ہے تو قہر الٰہی کا کوڑا برستا ہے اور اپنے اقتدار پر نازاں لوگ ‘ تاریخ کے صفحات میں عبرت کا نشان بن جاتے ہیں ۔

جب حجاج بن یوسف ثقفی نے نواسۂ صدیق سیدنا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو آپ ؓ کی والدہ ماجدہ ‘ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی محترمہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے حجاج جیسے ظالم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

’’ ان کنت قد افسد ت علیہ دنیاہ ‘ فقد افسد علیک آخر تک‘‘

’’ کوئی پرواہ نہیں اگر تم نے میرے بیٹے کی دنیا خراب کی ہے تو اس نے تمہاری آخرت اجاڑ دی ہے‘‘

ٹھیک ہے جو لوگ آج بغیر کسی حق کے اہل دین کو ستانے میں مصروف ہیں اور وہ بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہمیں اوپر سے حکم ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ سب سے اوپر ایک اور ذات ہے‘ احکم الحاکمین ‘ رب العالمین ، احسن الخالقین ‘ خیر الرازقین‘صاحب قدرت و جبروت جلّ شانہ‘ جس کے دربار میں انہیں اپنے ہر ظلم کا حساب دینا ہو گا اور اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہو گا ۔ جس کی لاٹھی بے آواز ہے اور جس کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں ہے ۔ یہ دیر بھی توبہ کی مہلت اور حق کی طرف لوٹنے کیلئے ہے ۔

اللہ کریم‘ حضرت استاذِ محترم دامت برکاتہم سمیت تمام اہل حق کی حفاظت فرمائے اور ہمارے بااختیار طبقات کو ان کاموں کی ہدایت عطا فرمائے کہ جن میں ان کی اور تمام اہل اسلام کی بھلائی اور خیر ہے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor