Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بے حیائی …شیطانی مشن (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 685 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Be Hayai Shetani Mission

بے حیائی …شیطانی مشن

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 685)

آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں جتنی قابل ذکر قومیں موجود ہیں،اُن سب کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے جس سے پوری دنیا میں ان کی پہچان ہوتی ہے ۔ وہ خاص مزاج اُن کی زندگیوں میں ایسا رچ بس جاتا ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی رہیں ، اُن کی شناخت اُسی کے ذریعے ہوتی ہے اور وہ بھی بغیر کسی جھجک کے سب کے سامنے اپنے مزاج کا اظہار کرتے ہیں ۔

اب اگر ہم اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اسلام اور مسلمانوں کا خاص مزاج کیا ہے تو ہمیں یہ ماننے میں ذرا دیر بھی نہیں لگے گی کہ ہمارے دین اسلام کا خاص مزاج شرم و حیاء ہے ۔ مسلمانوں کی تہذیب و تمدن ، اخلاق و عادات ، لباس اور زندگی کے دیگر سب کاموں پر ہی شرم و حیاء کی گہری چھاپ نظر آتی ہے

صحیح احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتاکہ شرم وحیاء صرف مسلمانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ پہلے تمام آسمانی مذاہب کی تعلیم میں بھی اس پر خاص توجہ دی گئی تھی اور بے شرمی و بے حیائی کی برائی اور مذمت بیان کی گئی تھی ۔ سب سے پہلے انسان سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید میں پڑھیں تو صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ شرم وحیاء انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور شیطان کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ انسان کو شرم و حیاء کے بجائے عریانیت یعنی ننگے پن میں مبتلاکرنا چاہتا ہے ۔

قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات مبارکہ اور ان کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :

ترجمہ:( پھر ہوا یہ کہ شیطان نے ان دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا ، تاکہ ان کی شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں، ایک دوسرے کے سامنے کھول دے۔ کہنے لگا کہ تمہارے پروردگار نے تمہیں اس درخت سے کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس وجہ سے روکا تھا کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جائو یا تمہیں ہمیشہ کی زندگی نہ حاصل ہو جائے اور ان کے سامنے وہ قسمیں کھا گیا کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں، اس طرح اس نے دونوں کو دھکا دے کر نیچے اُتار ہی لیا، چنانچہ جب دونوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان دونوں کی شرم کی جگہیں ایک دوسرے پر کھل گئیں اور وہ جنت کے کچھ پتے جوڑ جوڑ کر اپنے بدن پر چپکانے لگے اور ان کے پروردگار نے انہیں آواز دی کہ : کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے روکا نہیں تھا اور تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ؟ دونوں بول اٹھے کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقیناً ہم نامراد لوگوں میں شامل ہو جائیں گے ۔(الاعراف:۲۰تا ۲۲)

ان آیات مبارکہ میں ویسے تو بہت سے مباحث اور فائدے ہیں لیکن آج کے موضوع کی مناسبت سے دو باتیں واضح طور پر معلوم ہو رہی ہیں:

(۱) … ابلیس لعین کا سیدنا آدم اور سیدتنا حوا علیہما السلام کو عریانیت یعنی ننگے پن میں مبتلا کرنے کی کوشش کرنا ۔

(۲) … انسانوں کے سب سے پہلے والدین یعنی سیدنا آدم اور سیدتنا حوا علیہما السلام کا تکوینی طور پر برہنہ ہوتے ہی شرم و حیاء کے تقاضہ کی وجہ سے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کرنا ۔

خلاصہ یہ ہوا کہ عریانیت یعنی ننگے پن کو فروغ دینا ، شیطانی کام ہے اور شرم و حیاء کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنا، اپنے سَتر کو پوشیدہ رکھنا اور عریانیت سے بچنا انسانی کام ہے ۔

افسوس کہ آج بہت سے مسلمان کہلانے والے بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر عریانیت کو فروغ دے کر شیطان کی پیروی اور انسانی فطرت سے بغاوت کا اظہار کر رہے ہیں ۔

(۱)… کچھ لوگ تو وہ ہیں جو موجودہ مغربی تمدن سے اس قدر مرعوب و متأثر ہیں کہ ان کی عقلوں پر ہی پر دہ پڑ گیا ہے ۔ یہ بے چارے ذہنی پسماندگی کی ایسی حالت پر پہنچ گئے ہیں کہ ان کے نزدیک تمام تر ترقی اور تعلیم کا معیار عریانیت یعنی ننگے پن پر ہی ہے ۔ یہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ترقی یافتہ ہونے کا یہی معیار ہے تو پھر جنگل کے تمام جانور ، انسانوں سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ کہلانے کے مستحق ہیں ۔

اقبال مرحوم نے ایسے ہی ’’متاثر ین یورپ‘‘ کیلئے کہا تھا :

قوتِ مغرب نہ از چنگ و رباب

نے ز رقصِ دخترانِ بے حجاب

(یورپ کی طاقت اس وجہ سے نہیں کہ وہاں گانا بجانا عام ہے اور نہ ہی اس وجہ سے ہے کہ اہل یورپ کی بیٹیاں بے پردہ ناچتی ہیں)

نے ز سحر ساحرانِ لالہ روست

نے ز عریاں ساق و نے زقطع موست

(نہ اس وجہ سے یورپ کی قوت ہے کہ وہاں عریاں خواتین پھرتی ہیں اور نہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اپنی ٹانگیں ننگی اور اپنے بال کاٹ رکھے ہیں)

قوتِ مغرب از علم و فن است

از ہمیں آتش چراغش روشن است

(یورپ کی ساری طاقت علم اور فن میں محنت کرنے کی وجہ سے ہے اور اسی آگ سے اُس کا چراغ روشن ہے)

حکمت از قطع و برید جامہ نیست

مانع علم و ہنر عمامہ نیست

(علم اور دانائی اپنے کپڑوں کو کانٹ چھانٹ لینے سے حاصل نہیں ہوتی ۔ عمامہ یعنی پگڑی علم و ہنر کے حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ اس سے پیچھا چھڑوایا جائے )

(۲)… دوسری قسم کے مسلمان جو عریانیت پھیلانے میں مبتلا ہیں ، وہ ہیں جو دلی اور ذہنی طور پر عریانیت کو قبول نہیں کرتے لیکن اپنے لا ابالی مزاج اور لاپرواہی کی عادت کی وجہ سے خود بھی اس گندگی میں ملوث ہو جاتے ہیں اور معاشرہ میں بھی اس تعفن کے پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔

اس قسم میں سب سے پہلا نمبر میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ سے وابستہ لوگوں کا ہے ۔ آپ دیکھیں گے کہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ، خواہ آپس میں ان کی کاروباری اور نظریاتی رقابت اور دشمنی کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، یہ تقریباً سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں میں فحاشی اور عریانی پھیلانی ہے ۔ کوئی خبرنامہ ہو یا کوئی ڈرامہ ، کوئی اشتہار ہو یا کوئی اعلان ، کوئی تعلیمی مسئلہ ہو یا تفریحی مشغلہ ، جب تک دُخترانِ ملت کو بے آبرو کر کے شرم و حیاء کا جنازہ نہ نکال لیں ، ان کو قرار نہیں آتا ۔

سمجھ نہیں آتا کہ آخر پاکستان کے معصوم بچوں اور کچے ذہن رکھنے والی عوام کا کیا قصور ہے کہ جب تک اُن کے دل و دماغ میں عریانیت کی گندگی نہ انڈیل دی جائے ، دنیا بھر سے فحش مناظر جمع کر کے اُن کے ذہنوں کو پراگندہ نہ کر دیا جائے اور ان کے اخلاق و کردار کی تباہی کا تمام تر سامان مہیا نہ کر لیا جائے ، تب تک ہمارے میڈیا سے وابستہ افراد کو آرام کیوں نہیں آتا ۔

اسی طرح گارمنٹس یعنی ملبوسات کے کاروبار سے وابستہ حضرات ، ایڈورٹائزنگ یعنی اشتہارات کی صنعت سے وابستہ لوگ اور دیگر بہت سے شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ مسلمان بھی دانستہ یا نا دانستہ عریانیت پھیلانے کے شیطانی مشن میں شریک ہو جاتے ہیں ، جس کا بسا اوقات انہیں مرتے دم تک احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ کتنا سنگین گناہ ہے ۔

وہ اسکول ، کالج اور اکیڈمیاں بھی اس روحانی کوڑھ کو نئی نسل تک پہنچانے کا بڑا ذریعہ ہیں ، جو خواہ مخواہ اپنے طلبہ و طالبات کیلئے عریاں لباس اور مخلوط نظامِ تعلیم منتخب کرتے ہیں ۔ آج کل شہری علاقوں میں ایسے بڑے ڈیپارمنٹل سٹور تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں ، جن میں ایک چھت کے نیچے تمام ضروری سامان مہیا ہوتا ہے ۔ ان مارکیٹوں میں عام طور پر اب نیم عریاں لباس میں ملبوس لڑکیاں متعین کی جارہی ہیں تاکہ اگر کوئی مسلمان مجبوری کی حالت میں ، ضرورت کی چیز خریدنے کیلئے بھی آئے تو وہ بھی بد نگاہی سے محفوظ نہ رہ سکے  اس سلسلے میں جب ایک اسٹور کے مالک سے ، جو ظاہری حالت میں پابند صوم و صلوٰۃ ہیں ، بات ہوئی تو انہوں نے یہ عذرِ لنگ پیش کیا کہ آج کل ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے اسٹور میں ایسی ’’ سیلزگرل‘‘ متعین کریں تو آپ کو خصوصی پیکج دیا جائے گا  ’’ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون‘‘ کیا اسلام کا انتہائی اہم حکم اور ہماری نسلوں کا ایمان اور اخلاق اتنی قدر وقیمت بھی نہیں رکھتے کہ ہم چندٹکے اُن پر قربان کر سکیں اور عریانیت پھیلانے والے ہر پیکج سے انکار کر دیں ۔

اگر بے ادبی نہ ہو تو یہ بتانا بھی ضرور ی ہے کہ فحاشی اور عریانی پھیلانے میں وہ والدین بھی شریک ہیں‘ جو صرف فیشن پورا کرنے کے شوق اور زمانے کی دوڑ میں آگے نکلنے کے چکر میں اپنی اولادوں کو عریاں اور نیم عریاں لباس پہناتے ہیں ، گھروں میں عریاں تصاویر آویزاں کرتے ہیں یا تفریح کے نام پر اپنے معصوم بچوں کو فحش مناظر تک رسائی دیتے ہیں ۔ ٹھیک ہے آپ کے بچے چھوٹے ہیں اور اُن پر شرعاً پکڑ نہیں لیکن آپ تو بڑے ہیں اور شرعاً آپ اس طرح کی ہر غلطی کے ذمہ دار ہیں

ایسے تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں بڑے دردِ دل کے ساتھ قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ پیش ہے:

( بے شک وہ لوگ جو ایمان والوں کے درمیان بے حیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں ، اُن کیلئے دنیا اور آخرت میں تکلیف دینے والا عذاب ہے) (النور ،۱۹)

آج کل کئی طرح سے مملکت پاکستان میں بے حیائی کو فروغ دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں اس کے اثراتِ بد محسوس کیے جا رہے ہیں،اسی مناسبت سے یہ چند باتیں عرض کر دیں ۔ اللہ کریم اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر ہم سب کیلئے نافع بنائے (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor