Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دفاع پاکستان کا راستہ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 684 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Difa e Pakistan ka Tariqa

دفاع پاکستان کا راستہ

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 684)

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمیں شروع دن سے ہی ایک شاطر اور مکار دشمن سے واسطہ ہے جو اس بنیاد پر ہماری سلامتی اور خود مختاری کے درپے ہے کہ اس ملک خدادا د کا قیام متعصب ہندوئوں کے اکھنڈ بھارت کے خواب چکنار چور کر کے عمل میں لایا گیا تھا ۔

تقسیم ہند کے وقت ہندو لیڈروں نے پاکستان کی تشکیل تو بادل نخواستہ قبول کر لی مگر اس کی خود مختاری اور سلامتی کمزور کرنا اپنے ایجنڈے کا حصہ بنا لیا ۔ اس ایجنڈے کے تحت ہی بھارت نے مسلم اکثریت کی حامل ریاست جموں و کشمیر کو متنازعہ بنایا اور تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت اس کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا جبکہ بھارتی متعصب ہندو لیڈروں نے کشمیر یوں کا حق خودارادیت تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا اور اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کو نسل کی منظور کردہ درجن بھر قراردادوں کو مچھرپر کے برابر بھی حیثیت نہ دی ۔

اس کے برعکس انہوں نے کشمیر کے بھارتی اٹوٹ انگ ہونے کی گردان شروع کر دی جبکہ کشمیری عوام نے جو اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر چکے تھے ، بھارتی تسلط سے آزادی کی تحریک کا آغاز کر دیا جس کیلئے یو این قراردادوں کو بنیاد بنایا گیا مگر بھارت نے ان کی آواز دبانے کیلئے ان پر ظلم و جبر کے نت نئے ہتھکنڈے آزمانا شروع کر دئیے تاہم کشمیری عوام بھارتی فوجوں کے آگے سینہ سپر ہو کر عظیم جانی اور مالی قربانیوں کی داستانیں رقم کرنے لگے جبکہ ان پر جاری بھارتی مظالم ہندو کے جبر و تسلط کو بے نقاب کرنے والی تاریخ کا حصہ بنتے رہے ۔

پاکستان نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے عالمی فورموں پر شروع دن سے ہی آواز اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا اور ان کی دامے ‘ درمے ‘ سخنے حمایت جاری رکھی ۔ چنانچہ ہندو بنیاء نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کو وسعت دینا شروع کر دی ۔

کشمیر پر اس کے تسلط جمانے کا مقصد بھی پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کا ہی تھا کیونکہ ہندو لیڈر شپ کا خیال تھا کہ کشمیر کے راستے سے پاکستان آنے والا پانی روک کر اس کی زرخیز دھرتی بنجر بنائی جا سکتی ہے اور اس طرح پاکستان کو بھوکا پیاسا مار کر واپس بھارت کے پاس آنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے مگر قربانی دینے والے اہل ایمان نے اس ارض وطن کی جو سمت اپنی فہم و بصیرت سے متعین کر دی تھی اس کے باعث پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی کوئی بھارتی سازش کا میاب نہ ہو سکی جس سے مایوس ہو کر ہمارے اس مکاردشمن نے پاکستان پر ستمبر ۶۵ء کی جنگ مسلط کر دی مگر ہماری غیور و بہادر افواج اور غیرت مند عوام نے اس جنگ میں ہر محاذ پر دشمن کے دانت کٹھے کئے ۔

بھارت کو مایوس ہو کر جنگ بندی کرنا پڑی مگر اس نے پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی سازشیں ترک نہ کیں اور مشرقی پاکستان میں پاکستان کے خلاف منافرت کی فضا پیدا کر کے دسمبر ۱۹۷۱ء کے آغاز ہی میں پاکستان پر دوبارہ جنگ مسلط کر دی ۔ اس جنگ میں ہمارے فوجی حکمرانوں اور سول سیاسی قائدین کی بے تدبیریوں کے باعث دشمن کی سازشیں کامیاب ہوئیں اور اس نے اپنی پروردہ عسکری تنظیم مکتی باہنی کی مدد سے پاکستان کو سقوط ڈھاکہ کے سانحہ سے دوچار کر دیا اور پھر وہ باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہو گیا جس کیلئے اس نے ۱۹۷۴ء میں ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کر لی اور پاکستان کی سلامتی چیلنج کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جس پر اس وقت کے حکمران نے پاکستان کو بھی ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے ۔

حکومت کی سرپرستی میں مختلف مسلمان سائنس دانوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے کام آغاز کر دیا جو مختلف ادوار حکومت میں تکمیل کے مراحل سے گزرتا ہوا ۲۸؍مئی ۱۹۹۸ء کو بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کئے گئے ایٹمی دھماکوں کی صورت میں تکمیل کی کامیابی سے ہمکنار ہوا ۔

بھارت درحقیقت پاکستان کی سا  لمیت کے ہمہ وقت درپے رہا ہے جس کیلئے کنٹرول لائن پر بھارتی فوجوں نے آج کے دن تک جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جہاں بھارتی فوجوں کی آئے روز کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے اب تک ہمارے سینکڑوں جوانوں اور شہریوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور ہزاروں شہری کنٹرول لائن سے ملحقہ آبادیوں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجوں نے نہتے کشمیریوں پر بھی ہر طرح کے ظلم و جبر کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور سابق صدر آزاد کشمیر کے مطابق اب تک پانچ لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی فوجوں کی فائرنگ اور مظالم کے دوسرے ہتھکنڈوں سے جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔ چند سال قبل ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ایک وفد مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے وہاں کشمیریوں کی اجتماعی قبروں کی بھی نشاندہی کرچکا ہے جو انسانی حقوق کے علمبردار عالمی اور علاقائی اداروں اور عالمی و علاقائی قیادتوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے اور بھارتی ظلم و جبر رکوانے کیلئے کردار ادا کرنے کا متقاضی ہے ۔

اس تاریخی حقیقت کو کبھی فراموش نہ کیا جائے کہ پاکستان صرف ایشیاء کے مسلمانوں کا قلعہ نہیں ہے بلکہ یہ تمام عالم اسلام کا مضبوط قلعہ ہے اگر یہ قلعہ مضبوط و مستحکم ہو گا تو سارے عالم اسلام کے لئے قوت و استحکام کا سبب ہو گا اگر یہ قلعہ کسی لحاظ سے کمزور ہوا تو پورا عالم اسلام متاثر ہو گا ۔ اس لیے اسے مضبوط اور مستحکم کرنے اور اس کے دفاع کے لیے جو جذبہ پاکستان بناتے وقت تھا ، اسی جذبے کو زندہ رکھنے سے پاکستانی قوم ہمیشہ زندہ رہے گی ۔

بھارت کے ساتھ ہونے والی ہماری تمام جنگیں اور پون صدی کا طویل سفر یہ بات سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ پاکستان کی سلامتی صرف اور صرف اسلام کے ساتھ غیر مشروط وابستگی اور جذبہ جہاد میں ہے ۔ ہمارے حکمرانوں نے جب بھی ان اصولوں سے ہٹ کر ہندو بنیے کو خوش کرنے کی کوشش کی تو انہیں منہ کی کھانی پڑی اور پاکستان کو پہلے سے بھی زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا اتنے طویل تجربے کے بعد تو ہمیں اس غلطی سے نکل آنا چاہیے کہ ہم ہندوستان کی بات مان کر اُس کے شر سے بچ سکتے ہیں ۔ جو آپ کے وجود کا ہی دشمن ہو ، وہ کبھی بھی آپ کے خاتمے سے کم پر راضی نہیں ہو گا ، اس لیے دفاع پاکستان کا سب سے بڑا تقاضہ یہ ہے کہ ہم یہاں زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام اور جہاد کی دعوت کو عام کریں ، اسی کے ذریعے ہم استحکام پاکستان کی منز ل حاصل کر سکتے ہیں ۔

افسوس کہ ہمارے بااختیار ادارے ان باتوں کو ہم سے زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں لیکن وہ چند معلوم اور مذموم وجوہات کی بنا پر اس وقت تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کی سا  لمیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ پھر مزید قابل افسوس بات یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے کہنے پر کر رہے ہیں جو خود نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے اعلانیہ دشمن ہیں ۔ ان کے حالات دیکھ کر بلا اختیار اقبال مرحوم کے یہ اشعار یاد آجاتے ہیں :

فتویٰ ہے شیخ کا ، یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر!

لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں

مسجد میں اب یہ وعظ ہے ، بے سود و بے اثر!

تیغ و تفنگ دستِ مسلماں میں ہے کہاں

ہوں بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر !

کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل

کہتا ہے اسے کون کہ مسلماں کی موت مر !

باطل کے فال و فر کی حفاظت کے واسطے

یورپ زرہ میں ڈوب گیا ، دوش تا کمر!

ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے

مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر !

حق سے اگر ہے غرض تو زیبا ہے کیا یہ بات

اسلام کا محاسبہ ، یورپ سے در گزر!

اللہ کریم وطن عزیز اور اہل وطن کو ہر دشمن سے محفوظ رکھے اور اہل کشمیر سمیت تمام امت مسلمہ کو کفار کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor