Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معاشی گِدھ …ایم آئی ایف ( ایک رپورٹ ) (عروہ بن زبیر)

معاشی گِدھ …ایم آئی ایف  ( ایک رپورٹ )

عروہ بن زبیر (شمارہ 694)

ہمیں اکثر پاکستان کی موجودہ اور سابقہ حکومتوں کی جانب سے بین الاقوامی مالیاتی اِدارے یعنی آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ)سے قرضے مانگنے کی خبریں سننے کو ملتی رہی ہیں۔ ہر دور میں عام اِنتخابات لڑنے والی جماعتوں نے کشکول توڑ کر خود مختار ہونے کے نام پر عوام سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قطعی طور پر انٹرنیشنل ایجنسیز، ورلڈ بینک یا آئی ایم ایف وغیرہ سے کوئی قرضہ نہیں لیں گے اور اس وعدے کی بنیاد پر ووٹ مانگا ہے۔ حال ہی پاکستان میں اقتدار میں آنے والی جماعت تحریک انصاف کی جانب سے بھی ماضی میں اس قسم کے بے شمار آسمانی دعوے سامنے آتے رہے لیکن آج تحریک انصاف کی منتخب حکومت نے بھی یہ کشکول توڑنے کے بجائے بھیک مانگنے کے اس سلسلے کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاس جا کر اپنی قوم کے حال اور مستقبل کو ذلیل کرنے فیصلہ کیا اور بالآخر اب یہ معاہدہ تقریباً طئے پا چکا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی بے روزگاری اور غربت کا شدید طوفان بس آنے کو ہے۔ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کے بارے میں کچھ معلومات عام عوام کے گوش گزار کروائی جائیں۔

عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) ایک عالمی تنظیم ہے، دنیا بھر کے 189ممالک اس کا حصہ ہیں۔ آئی ایم ایف مختلف ممالک کی اندرونی معیشتوں اور ان کی مالیاتی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ اور بیرونی قرضہ جات پر نظر رکھتا ہے اور ان کی معاشی ترقی اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لیے قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔دیے جانے والے بیل آوٹ پروگرامز کے تحت آئی ایم ایف سرمائے کی فراہمی اور ان مراعات کو حاصل کرنے والے ممالک سے مختلف اصلاحات کے نفاذ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یہ ادارہ تین طریقوں سے ممبر ممالک کی مدد یا قرضے فراہم کرتا ہے۔

(۱)معاشی طور پر نگرانی

عالمی مالیاتی ادارہ ممبر ممالک کی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں اور سرگرمیوں پر نظر رکھتا ہے۔

(۲)قرضے فراہم کرنا

ایسے ممالک جنہیں معاشی بحران کا سامنا ہو، وہ ان ممالک کو کچھ شرائط پر مبنی قرضہ فراہم کرتا ہے۔

(۳)استعداد کار بڑھانا

آئی ایم ایف اپنی معاشی تکنیکی معاونت سے ممبر ممالک کے اداروں اور لوگوں کو سہولت فراہم کرتا ہے اور انہیں جدید حالات کے مطابق معاشی اور اقتصادی پالیسیاں استوار کرنے میں مدد دیتا ہے۔

پاکستان 1980کی دہائی کے اواخر سے اب تک کئی بار آئی ایم ایف سے قرضے لے چکا ہے۔ آخری مرتبہ یہ قرضے سال 2013ء میں لیے گئے تھے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے مختلف صورتوں میں قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کا ہمیشہ سے ہدف ہوتا ہے کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے ذریعے ادائیگیوں کا توازن بحال کیا جائے۔ آئی ایم ایف حکومتوں کو خرچ کرنے میں اتنی زیادہ احتیاط برتنے پر مجبور کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے مالیاتی نظام پر جمود طاری ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔قرض دو طریقہ کار کے ذریعے دیا جاتا ہے:

 

(۱)جنرل ریسورس اکاونٹ کے تحت قرضہ لینا

اس پروگرام کے تحت امیر ممالک آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرسکتے ہیں۔

(۲)پی آر جی ٹی کے تحت قرضے کی فراہمی

اس پالیسی کے تحت وہ ممالک جو غریب یا انتہائی غریب ہیں اور اپنے ملک سے غربت کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں، ایسے ممالک کو آئی ایم ایف کی جانب سے نسبتاً کم سودی ریٹ پر قرضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ قرضہ صرف غربت کے خاتمے کیلئے کیے جانے والے اقدامات کی مد میں ہی استعمال ہوتا ہے۔لیکن یاد رہے کہ غربت کے خاتمہ کا یہ مقصد صرف کاغذی ہوتا ہے اصل میں ان غریب ممالک کو معاشی طور پر مفلوج کرنا ہوتا ہے۔

قرضوں کی واپسی کیسے ہوتی ہے؟

آئی ایم ایف سے لیے گئے قرضوں کی واپسی کیلئے ساڑھے تین سے پانچ سال کا ہدف مقرر کیا جاتا ہے، جس کے تحت چھوٹے اور درمیانی درجے کے قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کی فراہمی کیلئے تین سال کی مدت دی جاتی ہے، تاہم 12سے 18ماہ میں ہی قرضہ فراہم کردیا جاتا ہے۔

معاشی استحکام کیسے اور کیوں؟

عام طور پر ہوتا یہ کہ حکومتیں آئی ایم ایف سے قرض کی کڑوی گولی اسی وقت لیتی ہیں جب معیشت کی حالت خراب ہو۔ ملک معاشی حالت کی خرابی ایک حد تک تو برداشت کر لیتے ہیں لیکن جہاں انہیں احساس ہو کہ اب معاملہ معاشی عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے، وہ کسی بھی قیمت پر اس خرابی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں، معاشی عدم استحکام بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ماہرین جو شرائط نامہ قرض کی رقم کے ساتھ قرض خواہوں کے ہاتھ میں تھماتے ہیں اس میں فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے جو معاشی عدم استحکام کو، جس میں بیرونی قرضوں اور اندرونی اخراجات کی ادائیگی وغیرہ شامل ہے، ختم کیا جا سکے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ صرف اور صرف وقتی طور پر معیشت کو سہارا دینے کے لئے تو ٹھیک ہے مگر بعد میں کچھ عرصے بعد ملک مکمل قرضوں میں ڈوب جاتا ہے اور شدید ترین بحران پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ آج کل شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔

قرضوں کی فراہمی میں نیا پن کیا؟

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے لیے جانے والے قرضوں کی بات کی جائے تو ایک دلچسپ صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ملنے والے قرضے طویل اور بڑے ہوتے ہیں۔ طویل سے مراد قرضوں کی واپسی کا عمل ہے۔ مثلاً سال 1958سے 1977کے درمیان اس کی مدت ایک سال تھی۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران لیے گئے تمام قرضے بیل آوٹ پیکجز یا اسٹینڈ بائے معاہدے تھے۔سال 1980سے سال 1995کے درمیان پاکستان آئی ایم ایف کے 7پروگرامز سے منسلک رہا، جن میں سے ایک کے سوا سارے قرضوں کی واپسی کی معیاد ایک سے دو سال رہی۔سال 1997سے سال 2013میں ن لیگی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد آئی ایم ایف سے 6.4 ملین کا لون لیا گیا، جو آئی ایم ایف کے 6 مختلف پروگرامز کے تحت حاصل کیا گیا، ان میں ایک کے سوا سارے پروگرامز کی میعاد تین سال تھی۔ تاہم حالیہ دنوں میں پاکستان 13ویں بار بیل آوٹ پیکج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جائے گا، جو عالمی مالیاتی فنڈز کے تحت پاکستان کا 23 واں قرضہ ہوگا۔پاکستان نے پہلی بار ستّر کی دہائی میں آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا، جس کے بعد سے اب تک ہر آنے والی حکومت نے اس قرض کا مزہ چکھا ہے، سوائے جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت کے۔ اس زمانے میں یہ قرض نہیں لیا گیا۔

موجودہ قرض جو 2019 میں لیا جا رہا ہے اس کی چند شرائط عام الفاظ میں درج ذیل ہے:

(۱) ڈالر کا ریٹ بڑھے گا اور تقریباً 200 سے اوپر تک جانے کا اندیشہ ہے۔

(۲) پٹرول ، گیس، بجلی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

(۳)گورنمنٹ اداروں جیسے پی آئی اے اور اسٹیل ملز جیسے اداروں کو پرائیویٹ کرنا ہو گا۔

(۴) حالیہ معاہدے کے تحت پاکستان سے ایف اے ٹی ایف کے تحت مزید ڈو مور کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

(۵) حکومت کی جانب سے دی جانے والی مختلف اشیاء اور مختلف کاموں میں دی جانے والی سسبسڈی ختم کر دی جائے گی۔

نقصانات اور اثرات

آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بعد کسی بھی ملک کی منتخب حکومت کو آئی ایم ایف کے پالیسی میکرز کی تشکیل کردہ پالیسیز اور پروگرامز کو بھی قبول کرنا پڑتا ہے جیسا کہ اس بار ہو رہا ہے کہ نئے وارد ہونے والے پاکستانی وزیر خزانہ ہاتھ جوڑ کر آئی ایم ایف سے 6  سے 8 ارب ڈالر تک کی بھیک عرصہ تین سال کے لیے مانگ رہے ہیں اور ممکن ہے کہ 8ارب ڈالر کے علاوہ اس معاہدے کے اختتام پر ایسی ہی رقم کی بھیک دوبارہ بھی مانگی جائے، اس قرضے کی درخواست کے منظور ہونے کے بعد آئی ایم ایف اپنے ساتھ چند شرائط یا تجاویز کے نام پر پاکستان کی غریب ، سسکتی اور بلکتی عوام کے لیے کچھ نئے احکامات لے کر آئے گا جو پہلے سے تنگ حال اور پریشان پاکستانیوں کے مستقبل کو مزید تاریک کر دیں گی۔ یہی بات اس قرضے کی سب سے زیادہ خوفنا ک حقیقت ہے ۔

 یعنی یہ کسی ہندو بنیے کے اسی سُود جیسا قرضہ ہے کہ جس کی پرنسپل اماؤنٹ تو قرض لینے والے نے واپس کرنی ہی ہے ، اسکے اوپر مسلسل بڑھتا ہوا سُود بھی قرضدار کو واپس کرنا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ قرضدار کی عزت بھی کسی صورت محفوظ نہیں رہے گی۔ وہ ہٹ دھرم بُنیا قرض دار کی مجبوری کا فائدہ اٹھاکر اس سے اور بھی بہت سے کام مفت میں کروائے گا۔ وہ دیکھے گا کہ قرض دا ر کیا کام کرتا ہے اور پھر وہ کام مفت میں ڈرا دھمکا کر کروالیا کرے ، ساتھ ہی ساتھ قرض دار کے گھر پر بھی نظر رکھے گا۔ یہ وہ گدھ ہے جو غریب ملکوں کو سسکا سسکا کر مارنے میں اور تڑپانے میں بے پناہ مہارت رکھتا ہے۔ عمرا ن خان کی موجودہ حکومت نے بلاشبہ اس بار صرف قرض ہی نہیں لیا بلکہ اس ملک کو آئی ایم ایف کی کالونی بنا دیا ہے۔آج پاکستان کا وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کے سربراہ باہر سے تشریف لائے ہوئے ہیں۔ جو آئی ایم ایف کے ہی ملازم ہیں۔ کیا وہ پاکستان کے زمینی حقائق سے باخبر ہیں اور کیا وہ پاکستان کے ساتھ عدل اور انصاف کا معاملہ کریں گے یا پھر پاکستان کو مزید ملعون سودی قرض کی دلدل میں پھنسا کر ایک بار پھر شوکت عزیز ثابت ہوں گے۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor