Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد…سنن نسائی) 694

مشعل (ترجمہ:  کتاب الجہاد…سنن نسائی)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 694)

ذمی سے کیے گئے عہد کی وفا کرنے اور اس کے ذمہ کی حرمت کا بیان

 حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے کسی عہد والے کو بغیر کسی وجہ جواز کے قتل کیا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی۔

 سفیر اور قاصدوں (کی حرمت) کا بیان

 محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ مسیلمہ (کذاب) نے رسول اللہﷺ کی طرف خط بھیجا۔ (دوسری سند میں ہے) نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپﷺ نے مسیلمہ کے دو ایلچیوں سے پوچھا جبکہ آپﷺ نے (اس کذاب کا) خط پڑھا کہ تم دونوں (اس کے بارے میں) کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو اس نے کہا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سفیر اور قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا، تو میں تم دونوں کی گردنیں اُڑا دیتا۔

حدیث نمبر۲۸۲:حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے (جبکہ وہ کوفہ میں والی تھے) اور کہا: مجھے کسی عرب سے کوئی عداوت نہیں اور میں قبیلہ بنو حنیفہ کی مسجد سے گزرا ہوں تو میں نے انہیں پایا ہے کہ وہ لوگ مسیلمہ پر ایمان رکھتے ہیں(یہ مسجد کوفہ میں تھی)۔ پس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا، انہیں لایا گیا تو انہوں نے (عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے) ان سے توبہ کروائی سوائے ابن نواحہ کے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ آپﷺ نے (تجھ سے) کہا تھا اگر تو سفیر نہ ہوتا میں تیری گردن اُڑا دیتا اور آج تو سفیر یا قاصد نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اس کو بازار میں (سرعام) قتل کردیا۔ پھر فرمایا: جو ابن نواحہ کو مقتول دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے بازار میں دیکھ لے۔

مسلمان خاتون کی دی ہوئی امان

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم سے ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے فتح مکہ کے روز ایک مشرک کو پناہ دی تھی۔ پھر وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئیں اور یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺنے ان سے فرمایا: ہم نے پناہ دی اسے جس کو تو نے پناہ دی۔ ہم نے امان دی اسے جس کو تو نے امان دی۔

حدیث نمبر۲۸۴: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ (دور رسالت میں) عورت کسی کو مومنوں سے پناہ دے دیتی تو وہ جائز اور قبول ہوا کرتی تھی (مسلمان اسے قتل نہ کرسکتے تھے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor