Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

قرآن کی نظر میں متقین کون؟

 

قرآن کی نظر میں متقین کون؟

Madinah Madinah

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی متقین کا ذکر کیا ہے وہاں انفاق فی سبیل اللہ کو متقین کے لیے بطور صفت کے ضرور ذکر کیا ہے، گویا کہ کامل متقی ہے ہی وہی جو صفتِ انفاق کے ساتھ متصف ہو۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’یہ ہدایت ہے ان ڈر رکھنے والوں(متقین) کے لئے، جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں‘‘ (البقرہ ۳، آسان ترجمۃ القرآن)

قرآن کریم نے متقین کے تعارف کے لئے ان کی تین صفات ذکر کی ہیں گویا جو آدمی ان تین صفات سے آراستہ ہو، اسے متقی کہا جاسکتا ہے۔

۱)ایمان بالغیب( ۲)اقامت صلوٰۃ( ۳)انفاق فی سبیل اللہ

پہلے دو صفتیں تو واضح ہیں کہ ان کے بغیر تو بندہ مسلمان ہی نہیں رہتا چہ جائے کہ متقی جیسا خاص مقام اسے عطا ہو جائے۔ تیسری صفت  انفاق میں پھر عام ہے کہ صدقہ ہو، زکوٰۃ ہو یا کہ کوئی سا بھی مالی خرچ ہو بشرطیکہ رضاء الٰہی مطلوب ہو، وگرنہ ریاء کاری کی صورت میں الٹا وبالِ جان بن جائے گا۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ (وہ جنت) تیار کی گئی ہے ان پرہیزگاروں (متقین)کے لئے جو خوشحالی میں بھی اور بد حالی میں بھی (اللہ کے لئے) مال خرچ کرتے ہیں‘‘ ((اٰل عمران ۱۳۴،آسان ترجمۃ القرآن)

ایک اور مقام پر فرمایا:

’’ جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتے ہیں اپنے پروردگار کے ہاں اپنا انعام پائیں گے‘‘ ((البقرہ:۲۷۴، آسان ترجمۃ القرآن)

مطلب یہ کہ متقی ہر وہ آدمی ہے جو انفاق فی سبیل اللہ والی رسی کو تھامے ہوئے ہو، وہ انفاق دن میں ہو یا رات میں، اعلانیہ ہو یا کہ خاموشی سے اور حالت فقر میں ہو یا کہ حالتِ آسودگی میں، ہر حال میں وہ خرچ کرتا ہو۔

خرچ کرنے والوں کو قرآن کریم بہت عمدہ تشبیہات کے ساتھ متعارف کرواتا ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’ جو لوگ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اگائے(اور) ہر بال میں سو دانے ہوں‘‘ (سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۶۱، آسان ترجمۃ القرآن)

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سو گنا ثواب ملتا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس سے بھی بڑھا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ’’انفاق فی سبیل اللہ‘‘ کا ذکر قرآن نے بار بار کیا ہے، اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جس میں رضاء الٰہی مقصود ہو، اس میں زکوٰۃ، صدقات، خیرات سب شامل ہیں۔

اسی طرح ایک دوسری جگہ سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۶۵ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی ہے:

’’ اور جو لوگ اپنے مال کی خوشنودی طلب کرنے کے لئے اور اپنے آپ میں پختگی پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسے باغ کی طرح ہے جو کسی ٹیلے پر واقع ہو، اس پر زور کی بارش برسے تو وہ دگنا پھل لے کر آئے اور اگر زور کی بارش نہ بھی برسے تو اس پر ہلکی پھوار ہی کافی ہے‘‘ (آسان ترجمۃ القرآن)

اب خرچ تو کردیں لیکن یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس کا کوئی بدل بھی ملتا ہے یا کہ نہیں…؟ اس کا بدل بھی ملتا ہے اور وہ بہت عمدہ بدل ہے، جسے قرآن کریم اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کرتا ہے:

’’ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارے لئے کوئی کمی نہیں کی جائے گی‘‘ (الانفال:۶۰)

یعنی تم کوئی کثیر مال یا قلیل مال جیسا بھی خرچ کرو گے اس کا بدلہ تمہیں ضرور بالضرور مل کر رہے گا، کسی بھی خرچ کو چاہے وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

اور ہاں ساتھ ساتھ یہ بات بھی ہے کہ بدلہ تو ملے گا ہی لیکن خرچ کرنے سے مال کم بھی نہیں ہوگا جیسا کہ حضور سرور کائناتﷺ کا فرمان عالی ہے:

’’کسی صدقے نے کسی مال کو کم نہیں کیا اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بندے کی عزت کو زیادہ ہی کیا ہے، اور تواضع اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بندے کو بلندی شان ہی دی ہے‘‘ (کنز العمال۱۶۱۳۰ بحوالہ طبرانی عن ابن عباس، شعب الایمان، البیہقی، صحیح مسلم۴۶۸۹، مؤطا امام مالک۱۵۹۰)

مطلب یہ کہ خرچ کرتے ہوئے انسان سوچے کہ اس سے تو مال کم ہوجائے گا لیکن حدیث مبارکہ ایسی سوچ کو غلط قرار دیتی ہے اور واضح پیغام دیتی ہے کہ  اللہ کے راستے میں خرچ کیا ہوا مال کبھی ختم تو درکنار کم بھی نہیں ہوتا۔

اب سوچنا یہ ہے کہ خرچ جو کرنا ہے تو کونسا ایسا مصرف ہے جس میں خرچ کرنا زیاہ بہتر ہو۔  تو سب سے زیادہ مہتم بالشان مصرف وہ مصرف ہے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ویسے تو اور بھی بہت سے مصرف ہیں لیکن سب سے افضل اور اولین مصرف راہِ جہاد ہے۔

 جہاد افضل اور اولین مصرف کیسے ہے؟ وہ اس طرح کہ صرف ایک یہی مصرف ہے جس کے لئے حضور پر نور علیہ الصلوٰۃ و السلام نے عمومی چندہ کیا اور اس کی باقاعدہ آپ علیہ السلام صحابہ کرام کو ترغیب دیتے تھے۔ جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ باقی کسی خیر کے مصرف کے لیے حضور اکرم ﷺنے عمومی ترغیبات تو دی ہیں لیکن اجتماعی طور پر اعلانیہ اور باقاعدہ عمومی چندہ جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کسی مصرف کے لیے نہیں فرمایا۔

عہد اول میں نبی ﷺنے صحابہ کرام کے اندر اس جذبے کو خوب اُبھارا، چنانچہ سیرت کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ اس کی نمایاں مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول ﷺنے لوگوں کو انفاق کا حکم دیا۔ میرے پاس اس وقت کافی مال موجود تھا، میں نے دل میں سوچا کہ آج تو ابوبکررضی اللہ عنہ سے بازی لے ہی جاؤں گا۔ چنانچہ اسی غرض سے اپنے مال کا آدھا حصہ لاکر حضورﷺکی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ ﷺنے دریافت کیا کہ گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے میں نے جواب دیا کہ اسی کے مثل ان کے لیے بھی ہے۔ اسی اثنا میں ابوبکررضی اللہ عنہ اپنے تمام مال کے ساتھ تشریف لے آئے آپ ﷺنے یہی سوال ان سے بھی دہرایا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔اس پر میں نے کہا کہ اب میں کبھی ابوبکر سے سبقت نہیں لے جا سکتا۔ (ترمذی، ابو داؤد)

غزوہ تبوک ہی کا واقعہ ہے کہ آپ ﷺلوگوں کو زیادہ سے زیادہ انفاق کرنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا:

 اے اللہ کے رسول !میں اللہ کی راہ میں سو اونٹ فراہم کروں گا۔

 آپ ﷺنے دوبارہ ترغیب دی تو پھر حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور فرمایا:

 اے اللہ کے رسولﷺ! میں دو سو اونٹ فی سبیل اللہ دوں گا۔

 پھر تیسری مرتبہ آپ ﷺنے ترغیب دی تو پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اے اللہ کے رسول میں تین سو اونٹ راہ خدا میں دوں گا۔

 راوی حدیث حضرت عبد الرحمان کہتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺمنبر سے اترتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اس کے بعد عثمان کچھ بھی کریں کوئی فرق نہیں پڑے گا(یعنی اب اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ اس عظیم خدمت کے عوض ان کو معاف کردے گا) (ترمذی)

سورہ الحدید کی گیارہویں آیت ’’من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضاعفہ لہ‘‘ جب نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح انصاری نے دریافت فرمایا:

 اے رسول اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟  آپ ﷺنے جواب دیا: ہاں ابو الدحداح۔ انہوں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجیے۔ آپ ﷺنے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا۔ انہوں نے آپ ﷺکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا: ’’میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘

حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ’’اس باغ میں چھ سو درخت تھے اور اسی باغ میں ان کے بیوی بچے رہتے تھے اور ان کا گھر بھی اسی میں تھا۔ آپﷺکے پاس سے جب وہ لوٹے تو باغ کے باہر ہی سے آواز دی، اے دحداح کی ماں! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔ وہ بولیں، دحداح کے باپ! تم نے نفع کا سودا کیا۔ پھر اسی وقت اس باغ کو چھوڑ دیا۔‘‘ (مشکوٰۃ)

مذکورہ بالا واقعات ہماری تاریخ کے سنہری اوراق پر نقش ہیں۔ ان واقعات کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت اہل ایمان میں انفاق فی سبیل اللہ کی کیا اہمیت تھی۔ ان کا ایمان اس قدر پختہ تھا کہ کوئی بھی حکم نازل ہوتا، اس کا عملی نمونہ پیش کرنے کے لیے تیار رہتے اور اس میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے، کیا آج امت مسلمہ کے افراد اس کردار کو ادا کرنے کے لیے تیار ہیں…؟

اللہ عز اسمہ کی بارگاہ عالی میں التجاء ہے اللہ رب العزت ہمیں مال، جان، وقت ہر طرح کی قربانی اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ہمہ وقت پیش کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor