Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

نصرت کا مرکز

 

نصرت کا مرکز

Madinah Madinah

ارشاد فرما دیا گیا تھا کہ:

”(اللہ ہی نے) اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے دیگر تمام اَدیان پر غالب کردے“

جب خالقِ کائنات کی طرف سے اعلان ہوچکا تو اس کے لیے اسباب اور ماحول بھی وہی خود ہی فراہم کرتا ہے، کیوں کہ اس کا بندوں سے پہلا تعارف ہی یہ کرایا گیاہے کہ وہ ”رب العالمین“ ہے، وہ پرورش کرنے والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے اُس کی” منزل“ تک پہنچانےوالا ہے ۔

سرورِ کونینﷺ مکہ مکرمہ میں تو تھے وہاں مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی اور زیادہ تر گھرانے اور وہاں کے سردار لوگ اس دینِ محمدی کو قبول نہیں کر رہے تھے ، اور اگر صرف قبول نہ کرتے تو بھی کوئی حد تھی مگر وہ تو اس دینِ محمدی کا راستہ روکنے ،اور اسے مٹانے کے لیے ہر حربہ اور ہر ظلم اختیار کررہے تھے، اور خود نبی کریمﷺ کے مبارک وجود تک کے دشمن ہوگئے تھے۔

جو صورتِ حال ظاہر تھی اس کے مطابق مکہ مکرمہ کے مشرک سردار بہت ہی پُرامید تھے اور انہیں یہ یقین ہوچلا تھا کہ بہت جلد وہ اس دین سے اور اس دین کے لانے والے سے چھٹکارا پا لیں گے اور مکہ مکرمہ پر اُن کی سرداری اور وہاں شرک کی طاقت بحال رہے گی، یہی وجہ ہے کہ ایک بدبخت نے تو نبی کریمﷺ کے بیٹے نہ ہونے کی وجہ سے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ( معاذ اللہ) ان کی نسل و نسب جاری نہیں رہے گا، مگر وہ یہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ جس ”یتیم“ کو اس کا رب طرح طرح کے وہ کمالات اور خوبیاں دے رہا ہے جسے دیکھ کر سب ہی واہ واہ کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے تو وہ رب اپنے اس محبوب کواور اپنے دین کو کیوں کر بے یار و مددگار چھوڑ دے گا؟الغرض کہ قریش کی شدید قسم کی جہالت، ہٹ دھرمی اور عداوت دیکھنے کے بعد نبی کریمﷺ منتظر تھے کہ رب کریم اس دین کی مدد کے لیے کیا اسباب پیدا فرماتا ہے؟

ان حالات میں مدینہ منورہ کے خوش نصیب حضوراکرمﷺ کے قریب آنے لگے ، کیونکہ یہ طے ہوچکا تھا کہ ”نصرت کا مرکز“ مدینہ منورہ ہوگا۔

چنانچہ ایک سال حج کے زمانے میں مدینہ منورہ سے وہاں کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج کے لوگ آئے ہوئے تھے، اور یہی وہ موقع بھی تھا کہ نبی کریمﷺ عرب کے مختلف قبائل سے آئے ہوئے وُفود کے سامنے اپنے دین حق کی دعوت پیش فرما رہے تھے۔ اسی سلسلے میں جب ان دوقبائل کے لوگوں کے پاس سے نبی کریمﷺ کا گزر ہوا تو آپﷺ نے اُن سے پوچھا:کیا تم لوگ مدینہ سے آئے ہو؟

ان لوگوں نے جواب دیا: ہاں

آپﷺ نے فرمایا: اگر ہوسکے تو تم لوگ بیٹھ جاؤ اور میری بات سن لو!

یہ سن کر وہ سب نبی کریم ﷺ کی بات سننے کے لیے بیٹھ گئے ۔

آپﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ رب العالمین نے مجھے مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہےاور مجھ پر اپنی وحی بھی نازل فرمائی ہے۔ میری قوم اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کو پہنچانے میں رکاوٹ ڈالتی ہے، اگر تم لوگ ایمان لے آؤ، اور اس دینِ اسلام کی تائید کرو تو تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کی سعادت حاصل ہوگی۔

ان لوگوں نے یہ بات سنی تو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ مدینہ کے رہنے والے یہود سے پہلے ہی نبی کریمﷺ کے بارے میں کچھ اجمالی باتیں سن چکے تھے اس لیے اب آپس میں کہنے لگے: یہ وہی آخری نبی ہیں جن سے یہودی ہمیں ڈراتے ہیںاور کہتے ہیں کہ آج کل میں کسی بھی وقت نبی آخر الزمانﷺ کی نبوت و رسالت کا سورج طلوع ہوجائے گا اور پھر ہم اُن کے ساتھ مل کر تم کو اس طرح قتل کریں گے جس طرح عادِ ارم کو قتل کیا گیا تھا۔ اوس اور خزرج والوں نےیہ بات یادکرکے فیصلہ کیا کہ ان یہود سے پہلے ہم خود ہی اس نبی پر ایمان لے آتے ہیں تاکہ ہمیں دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل ہوجائے۔

چنانچہ اسی وقت اوس اور خزرج کے ان لوگوں نے نبی کریمﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کرلیااوراس دینِ اسلام کی مدد و حمایت کا عہد و پیمان دے کر اپنے شہر مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔ تاریخ میں اس واقعے کو ”بیعتِ عقبہ اولیٰ“ کہا جاتا ہے۔

جب یہ لوگ واپس مدینہ منورہ پہنچے اور وہاں انہوں نے اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو سید المرسلینﷺ کی نبوت و رسالت کے بارے میں بتایا تو انصار کے سب گھروں میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی اور شاید ہی کوئی گھر اور کوئی مجلس ہو جو نبی کریمﷺ کے مبارک تذکرے سے منور اور معطر نہ ہوئی ہو۔

اس کے ایک سال بعد پھر یہ درج بالا لوگ بھی اور دیگر بھی کچھ لوگ دوبارہ حج کے موقع پر نبی کریمﷺ کی خدمتِ اَقدس میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت فرمائی اور ساتھ ہی ان کی درخواست پر نبی کریمﷺ نے قرآن کریم اوراسلامی تعلیمات سکھانے اور نماز باجماعت قائم کرنے کے لیے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کوان کے ساتھ بھیج دیا۔

اس طرح دین اسلام نہ صرف یہ کہ مدینہ منورہ پہنچابلکہ گویا اپنے گھر پہنچ گیا، انصار نے بھی اس دین کو اپنے گھر میں ایسے ٹھہرایاکہ جیسے حقیقتاً وہ گھر اصل میں بھی ”ایمان اور دینِ اسلام“کا ہی ہے۔

اس کے بعد جب ”بیعتِ کبریٰ“ ہوئی، یعنی تقریباً تہتر لوگ نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں بیعت کے لیے رات کے ایک وقت میں تنہااور کسی قدر خفیہ مقام پر جمع ہوئے اور ان حضراتِ انصار نے بیعت اور عہد نبھانے کا پختہ عزم ظاہر فرمایا تو نبی کریمﷺ نے ان سے جو عہد لیا وہ کچھ یوں تھا:

اللہ تعالیٰ کا عہد یہ ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرواور میرا عہد یہ ہے کہ رسالت کی تبلیغ میں میری مدد اور اعانت کرتے رہو اور جو کوئی اس کام میں رکاوٹ ڈالے اور لڑائی کے لیے آمادہ ہو تو تم میرے ساتھ رہو اور مقابلے سے پیچھے نہ ہٹو۔

یہ سن کروہ انصار کہنے لگے: یار سول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ لڑائی اور جنگ تو ہمارے باپ دادا سے چلا آنے والا کام ہے اورہمارے اور یہود کے درمیان عہد وحلف کا ایک معاملہ ہے لیکن اب اس سے بھی ہم قطع نظر کرتے ہیں، اب بس آپ یہ واضح فرما دیجیے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگاکہ بعد میں آپ اپنے وطن مکہ واپس چلے آئیں اور ہمیں تنہا چھوڑ دیں!

یہ سن کر نبی کریمﷺ مسکرائے اور فرمایا: ایسا نہیں ہوگا۔ میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جان جان کے ساتھ اورتن تن کے ساتھ۔ میری زندگی تمہارے ساتھ گزرے گی اور میری موت بھی تمہارے ساتھ ہی ہوگی۔

یہ سن کر وہ انصار کہنے لگے: یارسول اللہ! اگر ہم آپ کی محبت میں مار ڈالے جائیں اور ہماری جان و مال آپ پر قربان ہوں تو اس پر ہمیں کیا ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ جنتیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ سن کر وہ انصار کہنے لگے: یہ بہت ہی نفع مند سودا ہے۔ پس اب آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ ہم آپ سے بیعت کر لیں۔

اس طرح حضراتِ انصار کی طرف سے بیعت کا عہد مستحکم ہوگیا اور اس کے کچھ عرصہ بعد نبی کریمﷺ کو مدینہ منورہ ہجرت کا حکم ملا اور آپﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور ایسی ہجرت فرمائی کہ اپنی بات کواپنے عمل سے قیامت تک کی سچائی فراہم کردی کہ میرا جینا بھی تمہارے ساتھ ہوگااور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہوگا اور اسی لیے آج نبی کریمﷺ کا روضہ مطہرہ اسی شہر میں موجود ہے اور وہیں سے ہدایت کی پُرنور کرنیں پورے عالم کو روشن کررہی ہیں۔

قرآن کریم میں بتادیا گیا ہے کہ:

”اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گااور تمہارے قدم جَما دے گا“ (سورۃ محمد)

یہ وعدہ قیامت تک کے لیے ہے اور ہر مسلمان اس وعدے کا مخاطب ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor