Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

درست کیجیے!

 

درست کیجیے!

Madinah Madinah

”اسلام علیکم“غلط ہے۔ ”اسلام وعلیکم“ بہت غلط ہے اور”الحمد اللہ“ ،بہت ہی غلط ہے۔دن رات فون پر آنے والے میسجز میں یہ جملے دیکھ دیکھ کر دماغ پک اور آنکھیں تھک گئی ہیں، اللہ تعالیٰ کے نیک بندو! یہ کلمات دعائیں ہیں، ہماری عبادت کا عظیم حصہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے ہوئے قابلِ قدر تحفے ہیں،ان کے ساتھ ہماری دنیا و آخرت کی اَن گنت خیریں وابستہ ہیں اور ان کے ساتھ ہما را طرزِ عمل یہ ہے کہ ہم زبان و قلم سے ان کی درست ادائیگی تک نہیں کرتے۔

”بے شک انسان اپنے رب کا بہت ناقدرشناس ہے“

’’سلام‘‘کتنا بڑا اور کتنا اونچا عمل ہے ۔ اللہ اکبر! احادیث ِ مبارکہ میں فضائل پڑھیں تو دِل چاہتا ہے کہ ہر وقت یہ جملہ نوک زبان پر رہے۔ ’’السلام‘‘ اللہ تعالیٰ کا اسمِ صفت ہے ، اللہ تعالیٰ نے دو مسلمانوں کی ملاقات کو عبادت کا رنگ دینے کے لئے بطورِ”تحیۃ“ اپنا مبارک نام عطا فرمایا کہ ضرورت کا یہ عمل بھی عبادت کے معنی سے خالی نہ رہ جائے اور ’’ذکر اللہ‘‘ کے نور سے محروم نہ رہے۔ پھر’’سلام‘‘ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا عمل بتایا:

”پروردگار نہایت رحم والے کی طرف سے انہیں سلام فرمایا جائے گا“( یس:58)

یعنی حق تعالیٰ خود فرماویں گے السلام علیکم یا اہل الجنۃ( بیان القرآن)

دارقطنی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے رسو ل اللہﷺ نے فرمایا:

اہل جنت اپنے عیش میں ہوںگےاسی اثناء میں ایک نور اُن پر جلوہ انداز ہوگا، اہل جنت سر اُٹھا کر دیکھیں گے تو ادھر سے باری تعالیٰ جلوہ ڈالتا نظر آئے گا اور فرمائے گا اے اہل جنت! تم پر سلام ہو۔ (معارف القرآن)

’’سلام‘‘ نبی کریمﷺ کا عمل ہے اور آپﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اپنانے کا حکم دیا گیا۔

”اور ہماری آیتوں کو ماننے والے جب تیرے پاس آئیں تو کہہ دو کہ تم پر سلامتی ہو“( الانعام۵۴)

نبی کریمﷺ نے اسے اپنایا اور اس طرح اپنایا کہ کوئی بھی آپ سے اس عمل میں سبقت نہ کر سکتا تھا۔

آپﷺ کے حلیہ اور اوصاف جمیلہ سے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جو تفصیلی روایت شمائل میں نقل ہوئی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں:

یبدأ من لقی بالسلام

آپﷺ ہر ملنے والے سے سلام میں پہل فرماتے تھے

اور ’’سلام‘‘ کے عمل کی نبی کریمﷺ کے ہاں محبوبیت کا اندازہ ان روایات کی کثرت سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو آپﷺ نے اس عمل سے متعلق ارشاد فرمائیں۔

’’سلام‘‘ فرشتوں کا عمل ہے اور فرشتے قرآن مجید کی رو سے اس کلمے ’’السلام علیکم‘‘ کے ذریعے اہل جنت کو خوش آمدید کہیں گے۔

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے؛ جب تک کہ مومن نہ بن جاؤ اور تمہارا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا؛ جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، میں تم کو ایسی چیز بتاتا ہوں کہ اگر تم اس پر عمل کرلو تو تمہارے آپس میں محبت قائم ہوجائے گی، وہ یہ کہ آپس میں سلام کو عام کرو، یعنی ہر مسلمان کے لیے خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو سلام کرو۔(مسلم کتاب الایمان۱/۵۴)

حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لوگو! خداوند رحمن کی عبادت کرو اور بندگانِ خدا کو کھانا کھلاؤ (محتاج اور مسکین بندوں کو بطور صدقہ کے اور دوستوں عزیزوں اور اللہ کے نیک بندوں کو بطور ہدیہ، اخلاص اورمحبت کے کھانا کھلایا جائے، جو لوگوں کو جوڑنے اور باہم محبت والفت پیداکرنے کا بہترین وسیلہ ہے) اور سلام کو پھیلاؤ تو تم پوری سلامتی کے ساتھ جنت میں پہنچ جاؤگے (ترمذی، باب الاستیذان)

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

اے بیٹے جب تم اپنے گھروالوں کے پاس جاؤ تو سلام کیاکرو، یہ سلام تمہارے لیے اور تمہارے گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ہوگا۔(ترمذی ۲/۹۹)

غرضیکہ’’السلام علیکم‘‘ کا کلمہ ہر زبان میں ’’تحیۃ‘‘ کے لئے ادا کئے جانے والے رسمی جملوں کی طرح ایک جملہ نہیں بلکہ یہ اسلام کا ”شعار“ ہے اور ’’ذکر اللہ‘‘ کی ایک نوع ہے، اس حیثیت کے پیش نظر جس طرح اسے اپنانے اور عادت بنانے کی ضرورت ہے ، اسی طرح اس کی درست ادائیگی کا اہتمام بھی لازم ہے، ورنہ یہ جملہ نہ تو دعاء بنے گا اور نہ ذکر، نہ اس سے عبادت ادا ہوگی اور نہ ہی کارِ ثواب بنے گا جبکہ غلط ادائیگی کی صورت میں مسلمان کی ”شعائر ُاللہ“ سے غفلت اور ”ذکر ُاللہ“ سے پہلو تہی کا اظہار ہوگا جس کا نامناسب ہونا بالکل واضح ہے۔

اسی طرح’’الحمدللہ‘‘ کا معاملہ ہے۔ ہم شکرِ نعمت کے اِظہار کے طور پر دن میں کئی بار یہ جملہ اپنی زبان سے ادا کرتے ہیں اور میسجز پر لکھتے ہیں، یہ کوئی معمولی یا رسمی کلمہ نہیں۔ حدیثِ مبارک کی رو سے سب سے افضل اور اعلیٰ دعاء ہے۔ دعاء خود ایک عظیم الشان اور اہم عبادت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ عبادت کے اگر سوحصے کئے جائیں تو ان کا نصف صرف دعاء ہے اور بقیہ تمام عبادات دوسرا نصف۔ اس لئے کہ عبادت جس عبدیت اور عاجزی کے اظہار کا نام ہے اس کا سب سے بڑا مظہر مانگنا ہے اور اس مانگنے کو دعاء کہتے ہیں۔ اب جس کلمے کو اس افضل ترین عبادت کے سب سے افضل فرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کا طرزعمل سلام سے مختلف نہیں ۔ اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے کہ جب سلام لکھا جائے تو پہلا لفظ الف لکھا جائے گا اس کے بعد لام پھر س پھر لام پھر الف اور آخر میں میم۔اس کے بعد درمیان میں واو نہیں لگایا جائے گا بلکہ آگے علیکم لکھا جائے گا ۔پہلے الف کے بعد لام لگائے بغیر ”اسلام“ لکھنا غلط ہے اسی طرح السلام اور علیکم کے درمیان واؤ لگانا بھی خطا ہے۔

اسی طرح جب زبان سے سلام کریں تو سلام علیکم کہنے کی بجائے مکمل ”السلام علیکم“ کہا کریں اور بچوں کو بھی اس کی درست تعلیم دیں، تھوڑی سی توجہ کرکےمشینی انداز میں آڑھے ترچھے سلام کرنے کی بجائے اگر درست لفظ اداء کرلیں گے تو ان گنت فوائد پالیں گے۔ اللہ و رسول کے ہاں محبوب عمل اداکرنے کا ثواب کمالیں اور ان تمام فضائل کو حاصل کرلیں گے جو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ سنتُ اللہ ادا ہوگی۔سنتِ رسولﷺ پر عمل ہوگا اور ملائکہ کا اِتباع نصیب ہوگا۔ ایک تھوڑی سی غفلت کن کن بلندیوں سے محرومی کا سبب بن رہی ہے ذرا سوچئے تو سہی!

اسی طرح الحمدللہ لکھیں تو الحمد اور للہ کے درمیان الف نہ لگائیں۔ ایسے ہی وہ تمام عربی کلمات جو ہم روزہ مرہ استعمال کرتے ہیں ان کا درست تلفظ بھی سیکھیں اور درست اِملاء بھی ،کیونکہ یہ جملے قرآن و حدیث سے ماخوذ ہیں۔ میسجز میں انا للہ و انا الیہ راجعون بھی اکثر غلط لکھا ہوا پڑھنے کو ملتا ہے حالانکہ یہ جملہ قرآن مجید کا حصہ ہے، اسی طرح لاحول و لا قوۃ الا باللہ، استغفراللہ وغیرہ۔اگر کوئی شخص باوجود کوشش کے ان کو درست نہیں لکھ سکتایا اسے ان کا درست اِملاء سمجھ نہیں آتا تو وہ یہ کلمات لکھنے کی بجائے اردو میں اپنے جذبات کا اظہار کرلیا کرے لیکن انہیں غلط لکھنے اور بولنے کی حرکت بہرحال قابلِ اصلاح اور قابل توجہ ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor