Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مضامین

شاہِ مدینہ ﷺ کے گھر میں …۲

 

شاہِ مدینہ ﷺ کے گھر میں …۲

Madinah Madinah

حضرت سعید ابن مسیب رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر بزرگوں کا ‘ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک گھروں کو مسجد نبوی شریف میں توسیع کیلئے منہدم کرنے پر اظہار ِ افسوس اپنی جگہ لیکن بہرحال اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت ِ بالغہ کا فیصلہ یہی تھا کہ آج ہم اپنی آنکھوں سے اس سر زمین پر نور کے ان میناروں اور خیروبرکت کے سرچشموں کی زیارت نہیں کر سکتے، جنہوں نے کبھی اپنے درمیان رحمت ِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو چلتے پھرتے اور اٹھتے بیٹھتے دیکھا تھا ۔

اس محرومی کی کسی حد تک تلافی اُن حضرات کے ارشادات و بیانات سے ہو سکتی ہے‘ جنہوں نے ان مکاناتِ نبوی کی تفاصیل ہم تک پہنچائی ہیں اور ہماری سر کی آنکھوں کی اس سعادت سے محروم رہ جانے کے بعد‘ دل کی آنکھوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ ’’ تصورِ جاناں ‘‘ کے ذریعے ہی ان درو دیوار کو دیکھ لیں‘ جہاں جبرائیل امین علیہ السلام بھی با اَدب قدم رکھتے تھے اور جہاں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بھی عرضِ تمنا کیلئے سراپا انتظار بنے بیٹھے تھے۔

اہل محبت کیلئے یہ سوغات بھی متاعِ عزیز ہے کہ ان کی آرزوئیں اور ان کے مان یہی ہوتے ہیں:

مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئے

جوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے

کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو

عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگاں کیے ہوئے

پھر وضع احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے

پھر جی میں ہے کہ درپہ کسی کے پڑے رہیں

سر زیر بار منت درباں کیے ہوئے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے

بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے

اس سلسلے میں سب سے پہلے آپ کے سامنے علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ تعالیٰ کا بیان پیش کرتے ہیں‘ کیونکہ اس میں شانِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک گھروں کی فنائیت کا بھی واضح کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کی افادیت پر بھی خوب روشنی ڈالی گئی ہے ۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ سیرت طیبہ پر اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’ زادالمعاد ‘‘ میں’’ فصل فی تدبیرہٖ لا مر المسکن ‘‘ کے تحت تحریر فرماتے ہیں :

’’ لما علم انہ علی ظہر سیر وأن الدنیا مرحلۃ مسافر ینزل فیھا مدۃ عمرہ ثم ینتقل عنھا الی الآخرۃ لم یکن من ہدیۃ وھدی أصحابہ و من تبعہ الاعتناء بالمساکن و تشیید ھا و تعلیتھا زخر فتھا و توسیعھا بل کانت من احسن منازل المسافر تقی الحروالبرد وتستر عن العیون و تمنع من ولوج الدواب ولا یخاف سقوطھا لفرط ثقلھا ولا تعشش فیھا الھوام لسعتھا ولا تعتور علیھا الٔاھویۃ والریاح المؤذیۃ لا رتفاعھا ولیست تحت الأرض فتؤذی ساکنھا ولا فی غایۃ الارتفاع علیھا بل وسط و تلک اعدل المساکن وأنفعھا وأقلھا حرا وبردا ولا تضیق عن ساکنھا فینحصر ولا تفضل عنہ بغیر منفعۃ ولا فائدۃ فتأوی الھوام فی خلوھا ولم یکن فیھا کنف تؤذی ساکنھا برائحتھا بل رائحتھا من أطیب الروائح لأنہ کان یحب الطیب ولا یزال عندہ وریحۃ ھو من اطیب الرائحۃ و عرقہ من اطیب الطیب ولم یکن فی الدارکنیف تظھر رائحتہ ولا ریب ان ھذہ من اعدل المساکن وانفعھا واوقفھا للبدن و حفظ صحتہ۔

’’جب نبی اقدس ﷺ کو معلوم ہوا کہ اب چل چلائو کا وقت آگیا ہے ، یہ دنیا مسافر کی ایک منزل ہے ، جس میں وہ عمر دنیا تک ٹھہرتا ہے پھر آخرت کے سفر پر چل پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺاور آپ کے صحابہ کی سنت طیبہ یہ نہ تھی کہ اعلیٰ اور مضبوط مکانات ہوں کہ جن میں پردے لٹکائے جائیں اور پچی کاری کی جائے ۔ فراخ فراخ حویلیاں تعمیر کی جائیں ۔ بلکہ ایک مسافر کی سب سے بہتر منزل یہی ہو سکتی ہے کہ سردی سے گرمی سے تحفظ ہو جائے ۔ نگاہوں سے اوجھل ہو جائے اور چوپائوں کے داخل ہونے میں رکاوٹ بن جائے اور بوجھ کی زیادتی کے باعث گر جانے کا اندیشہ نہ ہو ۔ اور نہ فراخی کے باعث کیڑے مکوڑے اس میں گھونسلے بنانا شروع کر دیں اور نہ بلندی کے باعث آندھیاں اور تکلیف دہ ہوائیں اس میں ہنگامہ برپا کر دیں ۔ اور نہ زیر زمین ہو کہ رہنے والے کو تکلیف ہو اور نہ بہت زیادہ اونچا ہو ۔ بلکہ متوسط ہو ۔

رہائش کے معاملہ میں یہ طریقہ سب سے زیادہ معتدل نافع اور سردی و گرمی سے تحفظ کرنے والا ہے ۔ اس طرح یہ مکان نہ رہنے والے کو تنگ کرتا ہے کہ وہ مقید ہو جائے اور نہ بغیر کسی فائدہ و منفعت کے وسیع ہوتا کہ خالی حصہ میں کیڑے مکوڑے بھاگتے پھریں اور نہ اس میں کوئی گودام ہوتا کہ جس کی بدبو سے رہائش رکھنے والا تکلیف اٹھائے بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبوئیں تو خوب عمدہ اور (فرحت بخش) تھیں ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کو پسند فرماتے تھے اور ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بہترین خوشبو آتی رہتی ۔ اور آپ کا پسینہ بھی خوشبو دار ہوتا ۔ اور گھر میں کوئی ایسا ذخیرہ نہ ہوتا جو بدبودار ہو ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رہائش کے لیے یہ طریقہ سب سے زیادہ معتدل اور نافع ہے اور بدن و حفظانِ صحت کے لیے انتہائی موافق اور موزوں ہے‘‘۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے اسی تفصیل کو خوبصورت لیکن انتہائی مختصر انداز سے یوں بیان فرمایا ہے :

و بنی لر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حول مسجدہٖ حجر لتکون مساکن لہ ولأ ھلہ ، و کانت مساکن قصیرۃ البناء ، قریبۃ الفناء ‘‘(البدایۃ والنہایۃ۳؍۳۶۷)

’’ مسجد (نبوی شریف) کے ارد گر د حجرے تعمیر کر دئیے گئے تاکہ وہ آپ ﷺ اور آپ کے گھروالوں کیلئے رہائش گاہوں کے طور پر استعمال ہوں ‘ یہ گھر مختصر تعمیرات پر مشتمل ‘ جلد فناء ہونے والے تھے‘‘۔

مشہور سیرت نگار ابن سعد نے اپنی مکمل سند کے واسطے سے‘ عبداللہ بن یزید سے نقل فرمایا ہے:

’’ رأیت منازل ازواج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم … کانت بیوتا من اللبن … ولھا حجر مطرود یا لطین … عددت تسعۃ ابیات بحجرھا‘‘(الطبقات الکبریٰ  ۸؍۱۳۳)

’’ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے گھر خود دیکھے تھے… یہ کچی اینٹوں کے بنے ہوئے کمرے تھے… ان کے ارد گرد حجرے تھے ‘ جنہیں مٹی سے لیپ دیا گیا تھا … میں نے نو گھر ‘ اُن کے حجروں سمیت خود شمار کیے تھے‘‘۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor