Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہنامہ ’’بینات ‘‘ کا اِداریہ اور جہادِ کشمیر (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 693 (Talha-us-Saif) - Mahnama Bayinat ka Idaria

ماہنامہ ’’بینات ‘‘ کا اِداریہ اور جہادِ کشمیر

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 693)

جہادِ کشمیر اپنی مشکلات اور سختیوں کے اِعتبار سے دنیا کا مشکل ترین اور اپنے تئیں مسلمانوں کے رویے کے اعتبار سے دنیا کا مظلوم ترین جہاد ہے۔ بے بنیاد خیالات اور من گھڑت اِعتراضات کی بناء پر اکثر لوگ اس کی مشروعیت کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا رہتے ہیں حتیٰ کہ بہت سے ایسے لوگ بھی جو ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کا نظریہ رکھنے والے ہیں، دنیا بھر کی جہادی تحریکوں کا ذکر کرتے ہیں، مگر اس کا نام نہیں لیتے۔ حالانکہ اگر وہ صورتحال سے واقفیت اور تحقیقِ احوال کی جستجو کرتے تو اس پر اُٹھائے جانے والے اکثر سوالات کو بے بنیاد پاتے اور جن مزعومہ وجوہات کی بنیاد پر وہ اسے شرعی جہاد نہیں سمجھتے وہ ان تمام تحریکوں میں مشترک پاتے جنہیں وہ شرعی گردانتے ہیں۔ تو اگر وہ دیگر تحریکات ان وجوہات کی موجودگی میں مکمل شرعی جہاد ہو سکتی ہیں تو تحریکِ کشمیر کیوں نہیں؟

لیکن پروپیگنڈہ اور ایک بات کا تسلسل سے کہا جانا بہرحال اثر رکھتا ہے اور لوگوں کی نظریہ سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً جب کہنے والے اہل دین اور اہل علم ہوں۔

تحریک کشمیر کے حوالے سے آپ اس اخبار میں اکثر ایسی تحریریں پڑھتے رہتے ہوں گے، جن سے ان باطل خیالات کی تردید ہوتی ہے اور جہادِ کشمیر کے حوالے سے درست نقطہ نظر سامنے لایا جاتا ہے۔ آج اسی سلسلے میں ایک جامع تحریر آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ یہ تحریر تحریکِ کشمیر سے وابستہ کسی جماعت یا فرد کی نہیں بلکہ ملک کے مؤقر اور معتبر ترین علمی مرکز ’’جامعۃ العلوم الاسلامیہ، علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ‘‘ کے ترجمان ماہنامہ ’’بینات‘‘ کا اِداریہ ہے۔ جامعہ بنوری ٹاؤن امیر المجاہدین حضرت مولانا محمد مسعود ازہر صاحب حفظہ اللہ کی مادر علمی ہے۔ اس جامعہ کی زمامِ کار ہر زمانے میں جن اہل عزیمت علماء کرام کے ہاتھوں میں رہی ان میں سے ہر ایک مکمل تاریخ ہے۔ حق گوئی اور حق پرستی جن علمائِ کرام کا ہمیشہ شعار رہی اور شاید اپنے اسی مزاج کے سبب اس جامعہ کی قربانیوں کی تاریخ بھی سب سے تابناک ہے۔

جہادِ کشمیر ایک شرعی جہاد ہے اور کشمیر کے مجاہدین کی مدد اہل پاکستان کا دین و اَخلاقی فریضہ ہے۔ یہ اس تحریر کا دعویٰ اور بنیادی موضوع ہے، اور پر محکم دَلائل قائم کر کے اسے پوری طرح ثابت کر دیا گیا ہے۔

تحریر ملاحظہ فرمائیے۔ یقینا اس میں ذہنوں میں کلبلانے والے ہر سوال اور وسوسے کا مدلل جواب موجود ہے۔

’’خطۂ کشمیر میں آج سے۷۳۳ سال پہلے اسلام داخل ہوا۔ سب سے پہلے مسلمان سید شرف الدین عبدالرحمنؒ عرف بلبل شاہ یا بلاول شاہ نے یہاں قدم رکھا۔ اُن کے نام پر سری نگر میں آج ایک محلہ اور مسجد کا نام موجود ہے۔ اُن کے ہاتھ پر والیِٔ کشمیر رینٹچن نے کلمۂ اسلام پڑھا اور اپنا نام صدرالدین رکھا، اس کے بعد پانچ سو سال تک مسلمانوں نے کشمیر پر حکومت کی۔ اس کے بعد سکھوں نے اس خطہ پر قبضہ کیا، پھرسکھوں سے اس ملک کو انگریزوں نے چھینا۔ انگریزوں کو تاوان ادا کرکے ڈوگرہ قوم نے کشمیر کو ایک سو سال تک اپنے تسلُّط میں رکھا، انہیں ڈوگروں نے مسلمانوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے، جس کی بناپر ۱۹۳۱؁ء میں مجلسِ احرارِ اسلام نے حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری قدس سرہٗ اور دوسرے اکابر زعماء کی قیادت میں اُن کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور کشمیر چلو تحریک چلائی، جس کے تحت چالیس ہزار کے قریب رضاکاروں نے کشمیر پہنچ کر اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت میں خود کو قیدوبند کے لیے پیش کیا، اس تحریک کے نتیجہ میں کشمیر میں سیاسی بیداری پیدا ہوئی۔

اسی اثناء میں ۱۹۴۷؁ء میں ہندوستان تقسیم ہوا اور ملکِ پاکستان وجود میں آیا۔ تقسیم کے وقت آزاد ریاستوں کو اختیار دیا گیا کہ جس ملک کے ساتھ اِلحاق کرنا چاہیں ان کو اختیار ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ جو اس وقت کشمیر کا حکمران تھا، اس نے کشمیر کی اکثریتی مسلمان قوم کی مرضی کے برعکس ہندوستان کے ساتھ اِلحاق کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں نے اس پر زبردست احتجاج اور علماء کرام نے جہاد کا فتویٰ دیا۔ مسلمانوں نے سری نگر کی طرف یلغار کردی۔ اقوام متحدہ نے مداخلت کی اور یہ کہہ کر جنگ بندی کرادی کہ مذاکرات کے ذریعہ عوام کا یہ حق تسلیم ہے کہ انہیں آزادانہ استصوابِ رائے کے ذریعہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ تب سے بھارت کشمیر پر طاقت کے زور سے قابض ہے اور کشمیری عوام کو حقِ خود اِرادیت دینے سے انکاری ہے، آج ستر سال ہوگئے، جب سے اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں، اور کشمیری عوام اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے مسلسل قربانیاں پیش کررہے ہیں۔

قرآن وسنت کی روشنی میں سات وجوہ ایسی ملتی ہیں، ان میں سے ایک وجہ بھی جہاں پیدا ہوجائے تو وہاں کے مقامی لوگوں پر فریضۂ جہاد کا بجالانا واجب ہوجاتا ہے اور جب تک وہ لوگ اس فریضہ سے سبکدوش نہ ہولیں، ان کو کسی دوسرے شغل میں بطریقِ استقلال مشغول ہونے کی اجازت نہیں۔ جہادِ کشمیر کے مسئلہ میں ان ساتوں وجوہات میں سے جس وجہ کو میزانِ عقل وخرد اور انصاف پر تولنا چاہیں تول لیں، ہر حال اور ہر صورت میں جہادِ کشمیر اس پر پورا اُترے گا، وہ سات وجوہ درج ذیل ہیں:

۱)…اعلائے کلمۃ اللہ… اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کا اقتدار اس قدر مضبوط اور وسیع کیا جائے، نہ صرف یہ کہ کسی غیر مسلم طاقت کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ افرادِ اُمت میں سے کسی فرد کو کسی فتنہ (خواہ وہ مذہبی ہو یا دنیوی) میں مبتلا کرسکے، بلکہ وہ سب کے سب اسلام کے سیاسی اقتدار کے سامنے سرِتسلیم خم کردیں اور اسلام کا ہر حکم ہر جگہ بلاچوں وچرا نافذ ہو، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

۱) ’’وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَاتَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ۔‘‘       (الانفال:۵)

’’اور لڑتے رہو اُن سے یہاں تک کہ نہ رہے فساد اور ہوجائے حکم سب اللہ کا۔‘‘

۲) ’’اُمرتُ ان أقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا إلٰہ إلا اللّٰہ وان محمدًا رسول اللّٰہ ویقیموا الصلاۃ ویؤتوا الزکوۃ، فإذا فعلوا ذٰلک عصموا منی دمائہم واموالہم إلا بحق الإسلام وحسابہم علی اللّٰہ۔‘‘(متفق علیہ، کذا فی مشکوۃ، کتاب الایمان)

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ: میں (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اس بات پر مامور کیاگیا ہوں کہ لوگوں سے اس وقت تک لڑتا رہوں کہ وہ گواہی دیویں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نماز پڑھیں اور زکوۃ ادا کریں۔ ہاں! اگر قوانینِ اسلام کی خلاف ورزی سے وہ کہیں مواخذہ میں آجاویں تو یہ دوسری بات ہے اور اُن کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔‘‘

۲)…حفاظتِ خود اختیاری کے لیے لڑنا… اس سے مراد اس ظلم وتشدد کا دفع کرنا ہے جو مسلمانوں پر محض ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کفار ومشرکین کے ہاتھ سے ظہور میں آتا ہے۔ ان کے ظلم وجور سے بچنے کے لیے انہیں کفار کے مقابلہ میں تلوار اُٹھانا اور تا وقتیکہ ظالموں کا زور ٹوٹ نہ جائے، جہاد برپا رکھنا ضروری ہے، چنانچہ فرمایا:

۱)’’اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ۔‘‘(الحج:۸۳-۹۳)

’’ان مظلوم مسلمانوں کو جن کے ساتھ مشرکین (خواہ مخواہ) جنگ وجدال برپا رکھتے ہیں، اُن کو ان کی مظلومیت کی بنا پر دفعیۂ ظلم کی خاطر (ان کفار کے مقابلہ میں) تلوار اُٹھانے کی اجازت دی جاتی ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ ان کی امداد پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ وہ ستم رسیدہ لوگ ہیں جن کو (محض مسلمان ہونے کی بنا پر) گھروں سے نکالاگیا ہے۔ (ان کا جرم صرف یہی ہے) کہ وہ کہتے ہیں کہ پروردگار ہمارا صرف اللہ ہی ہے۔‘‘

۲)’’من قتل دون نفسہٖ فہو شہید، ومن قتل دون مالہٖ فہو شہید، ومن قتل دون عرضہٖ فہو شہید۔‘‘    (رواہ ابوداؤد عن سعید بن زید، کذا فی المشکوٰۃ، باب مالا یضمن من جنایات)

’’جو شخص اپنی جان کی حفاظت کے سلسلہ میں دشمنوں کے ہاتھ سے مارا جائے وہ شہید ہے اور جو شخص اپنے مال کی حفاظت کے ذیل میں ماراجائے تو وہ بھی شہید ہے اور جو شخص اپنی ناموس کی حفاظت کے ذیل میں ماراجائے وہ بھی شہید ہے۔‘‘

۳)بے بس مسلمانوں کو کفار سے نجات دلانے کے لیے لڑنا… اس بارے میں اللہ تعالیٰ آزاد مسلم ممالک اور ان کے اندر بسنے والے مسلمانوں کو مظلوم اور بے بس مسلمان مردوں اور عورتوں اور بچوں کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں:

’’وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْ ہذِہٖ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا‘‘(النساء:۵۷)

’’اور (اے آزاد مسلمانو!) تمہارے لیے کیا عذر ہے کہ تم راہِ اللہ میں اور ان بے بس (مسلم) مردوں، عورتوں اور بچوں کی حمایت میں جو مشرکین کے بلاد میں آباد ہونے کی وجہ سے ان کے مظالم کا تختۂ مشق بنے ہوئے ہیں، اُن کو ان کے ظلم وجور سے نجات دلانے کی خاطر نہیں لڑتے ہو جو (دن رات میرے حضور میں یوں) فریاد کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکلنے کی کوئی راہ پیدا کر، یہاں کے لوگ ہم پر بہت ظلم کررہے ہیں اور (خود ہی) اپنی طرف سے کسی کوہمارا حامی بنا اور (خود ہی) اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی مددگار مقرر کر۔‘‘

۴)… کفار سے انتقام لینے کی خاطر لڑائی کرنا… یہ بھی جہاد فی سبیل اللہ کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ خواہ اُن کے ہاتھ سے فقط ایک ہی مسلمان پر ظلم ہوا ہو، جس کی مثال سیدنا عثمانؓ کے واقعہ کے اندر پائی جاتی ہے جو بیعتِ رضوان سے مشہور ہے۔آج کشمیر کے اندر بسنے والے مسلمانوں کی مظلومیت کی داستان ایسی نہیں جو ہماری آنے والی نسلوں کو قیامت تک بھول سکے۔ کشمیر میںہرمسلم کا گھر آج ماتم کدہ دکھائی دیتا ہے۔ کوئی زبان نہیں جو اُن پر مرثیہ خواں نہ ہو اور کوئی آنکھ نہیں جو اُن پر خون کے آنسو نہ بہاتی ہو۔

۵)…عہد شکنی کی بنا پر کفار ومشرکین سے لڑنا… یہ بھی جہاد ہے۔ جنگ وجدال برپا کرنے، دشمن کی جنگی قوت سے خالی الذہن ہوکر بے دریغ لڑنے کے بارے میں قرآن کریم میں کئی بار تذکرہ آیا ہے اور یہ کہ مسلمانوں پر آئندہ کے ساتھ بدعہدی کرنے کی جرأت نہ ہو، جیسا کہ قرآن کریم میں ہے:

۱)’’وَإِنْ نَّکَثُوْا اَیْْمَانَہُمْ مِّنْ بَعْدِ عَہْدِہِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ إِنَّہُمْ لَا اَیْْمَانَ لَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَنْتَہُوْنَ‘‘(التوبۃ:۲۱)

’’اگر مشرکین عہد کے پیچھے اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین کے اندر مین میخ نکالیں تو تم لوگ اس نیت سے کہ وہ لوگ عہد کی خلاف ورزی اور دینِ اسلام کی توہین کے بازار میں کفر کے سرغنوں اور کفر کے لیڈروں سے خوب لڑو۔‘‘

۲)’’قَاتِلُوْہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللّٰہُ بِاَیْْدِیْکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْْہِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ وَیُذْہِبْ غَیْْظَ قُلُوْبِہِمْ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَائُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔‘‘(التوبۃ:۴۱)

’’اے مسلمانو! تم ان (عہد شکن فساد پیشہ مشرکین) سے (ضرور) لڑو۔ اللہ تعالیٰ (اس کام کے چھ نتیجے پیدا کرے گا) اول: ان کو تمہارے (کمزور) ہاتھوں سے عذاب کرے گا۔ دوم: ان کو ذلیل کرے گا۔ سوم: تم کو اُن پر غلبہ دلائے گا۔ چہارم: مسلمانوں کے سینوں کے لیے (جو کفار کی مسلم کشی اور مستورات کی عصمت ریزی سے زخمی ہوچکے ہیں) مرہمِ شفا بہم پہنچائے گا۔ پنجم: مسلمانوں کے دلوں میں (مشرکین کے ظلم وتشدد کی وجہ سے) جو غیظ وغضب بھراہوا ہے، اس کو نکالنے کی راہ پیدا کرے گا۔ ششم: ان کفار ومشرکین میں سے جتنوں کو چاہے گا (اسلام کی نعمت سے سرفراز کرے گا) اپنی مہربانی کا ظہور فرمائے گا اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘

عہد شکن مشرکین اور کفار کو روئے زمین کی بدترین مخلوق قرار دیاگیاہے اور میدانِ جنگ میں ان پر قابو پانے کی صورت میں اُن کے اس طرح قتلِ عام اور تعذیب کی طرف راہ نمائی کی ہے کہ اُن کی آنے والی نسلیں عبرت پذیر ہوں اور انہیں اہلِ اسلام کے ساتھ عہد شکنی کی کبھی جرأت نہ ہونے پائے۔

آنحضرت ﷺنے سنہ ۸ ہجری میں اہلِ مکہ پر جو لشکر کشی کی، اس کی وجہ بھی عہد شکنی ہی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے سنہ ۴ ہجری میں یہود کے قبیلہ بنی نضیر کے مدینہ منورہ سے نکالے جانے کا واقعہ جس کے اندر اُن کے جوان مارے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے اسیر ہوئے، یہ سب واقعات عہد شکنی کی وجہ سے رونما ہوئے۔

کاش! ہماری حکومت سیکورٹی کونسل کے فیصلوں پر تکیہ لگانے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے اَٹل وعدوں پر بھروسہ کرتی تو آج کشمیر بھی پاکستان کے پاس ہوتا اور پاکستان ہمیشہ سے اس دشمن ملک کے خطرے سے محفوظ رہتا۔

۶)… آزادیِ وطن اور قوم کے لیے جنگ کرنا… اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ملک پہلے مسلمانوں کے قبضہ میں تھا، اس کے بعد کسی وجہ سے اس پر کافروں کا تسلط ہوگیا اور وہاں کی مسلم آبادی کفار کی رعیت اور غلام بن گئی اور انہوں نے جس طرح چاہا، ان کے مال وجان میں تصرف کرنا شروع کردیا۔ اب اس وطن کو پھر سے کفار کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے جو جنگ لڑی جائے گی، اُسے قومی اور وطنی جنگ نہیں کہا جائے گا، بلکہ قرآن مجید کی اصطلاح میں وہ جنگ بھی ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ کے مقدس نام سے یاد ہوگی۔ کیونکہ مسلم قوم کی دنیا‘ دین سے کوئی الگ چیز نہیں، بلکہ دونوں کے درمیان ایک ناقابلِ انفکاک رابطہ ہے۔ ایک کی زندگی دوسری کی زندگی پر موقوف ہے، جیسے روح اور بدن کا تعلق ہے۔ اگر مسلم قوم کے ہاتھ سے اس کا ملک نکل جائے اور اس پر کفار قابض ہوجائیں تو اس کے ساتھ ہی اس کا دین مفلوج ہوجاتا ہے، اس لیے اس وطن کا کفار سے نجات دلانا ہر قیمت پر مسلم قوم کے تمام مذہبی فرائض میں سے اہم فریضہ ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں اس کی مثال جالوت اور طالوت کے قصہ میں ملتی ہے۔

۷)… ایک مظلوم اور بے بس مسلم قوم کو حکومت کی غلامی اور استبداد سے نجات دلانے کی خاطر جو جنگ لڑی جائے گی، وہ بھی سب سے بڑا جہاد فی سبیل اللہ کہلائے گی اور اس کے اندر لڑنے والے ان تمام نوازشات اور مبشرات کے مستحق ہوںگے، جو قرآن مجید نے مجاہدینِ ابرار اور شہدائے صداقت شعار کے لیے مخصوص اور موعود فرمائی ہیں۔ اس کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعہ کے اندر آپ کو ملے گی۔ 

یہ سات ایسی وجوہ ہیں جن کی بنا پر کشمیر کے مسلمانوں کا انڈیا کی فورسز کے خلاف لڑنا جہاد ہے اور پوری اُمتِ مسلمہ کا ان کی مدد کرنا مذہبی، سیاسی اور اخلاقی فریضہ بن جاتا ہے۔ خصوصاً پاکستان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے کہ کشمیری اپنی عزت، مال، جان اور سب کچھ کی قربانیاں پاکستان ہی کے لیے دے رہے ہیں۔‘‘( اداریہ ماہنامہ بینات شمارہ رجب المرجب ۱۴۴۰ھ)

٭……٭……٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor