Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اصل چہرہ(۲) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 689 (Talha-us-Saif) - Asal Chehra

اصل چہرہ(۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 689)

گذشتہ کالم میں ہم نے مختصر جائزہ پیش کیا کہ ہندوستان کے سیکولر ازم کے پیچھے چھپا اصل مکروہ چہرہ کون سا ہے اور وہ اب کس طرح اُبھر کر سامنے آ رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں انتخابات کی تیاری اپنے عروج پر ہے۔ انڈیا کے اصل حکمران اور بادشاہ گر وہاں کے بڑے کاروباری گروپس ہیں اور میڈیا انہی گروپوں کی ملکیت ہے۔ یہ لوگ پانچ سال قبل تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات کے ذریعے مودی کو حکومت میں لائے۔ اس وقت نعرہ تھا ’’ترقی‘‘۔

مودی نے حکومت سنبھالنے کے بعد ترقی کے بڑے بڑے منصوبے قوم کے سامنے رکھے۔ میگا پراجیکٹس کا افتتاح ہوا۔ اچھے دن، صاف ستھرا ہندوستان، دمکتا بھارت، پڑھا لکھا ہندوستان اور مہان شکتی جیسے خوشنما ٹائٹلز والے پروگرام سامنے لائے گئے لیکن ایک مدت حکومت مکمل ہوگئی ان میں سے کوئی ایک پروگرام مکمل تو کیا ہوتا کسی مناسب شکل میں نامکمل بھی موجود نہیں ۔ ایسے میں حکومت کی تبدیلی نہ صرف انڈین سرمایہ دار کی وہ ساری سرمایہ کاری برباد کر دے گی جو انہوں نے مودی سرکار پر کر رکھی ہے بلکہ مستقبل میں ان کے مفادات پر بھی کاری ضرب لگا سکتی ہے، اس لئے وہ ہر حال میں چاہتے ہیں کہ مودی ہی دوبارہ حکومت میں آئے۔ دوسری طرف مشکل یہ ہے کہ ترقی کے نعرے کا جو حال اس حکومت نے اپنے دور میں کیا اس کے پیش نظر عوام کو ایسے کسی نعرے کے ذریعے رجھانا بھی ممکن نہیں رہا تو اب حل کیا ہو؟کس نعرے پر قوم کو استعمال کیا جائے اور مودی کو حکمران بنانے کی راہ ہموار کی جائے ؟

لہٰذا فیصلہ یہ ہے کہ ہندو قوم پرستی، اسلام دشمن جذبات اور خصوصاً پاکستان مخالف سوچ کو اُبھار کر یہ کام کیا جائے۔ اب سرمایہ دار کا پیسہ ہے اور اس کا ملکیتی میڈیا اور یہی تین نعرے مسلسل بج رہے ہیں۔ مودی اور بی جے پی کی اگلی شناخت آدتیہ ناتھ یوگی جیسے لوگ ہیں اور ان کی نفرت بھری باتیں ۔ جنگ جنگ کا شور ہے اور جارحانہ بڑھکیں اور اسی شور شرابے میں ہونے جا رہے ہیں ہندوستان کے اگلے اِنتخابات۔

سیکولر ازم تو کانگریس جیسی پارٹیوں کا بھی دُنیا کے سامنے ہے کہ کس قدر منافقانہ ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام اور ان کے حقوق غصب کئے جانے کے بڑے بڑے واقعات کانگریس کے دور میں ہوئے۔ کشمیر کا مسئلہ کانگریس کا پیدا کردہ ہے۔ حیدر آباد دکن پر فوج کشی، ان ریاستوں کا ہندوستان سے جبری اِلحاق اور وہاں لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام کانگریس کے کارنامے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت بھی انہی کے دورِ حکومت میں ہوئی، پاکستان پر حملے اور مشرقی پاکستان پر فوج کشی بھی کانگریس کے دور میں ہوئی۔ کانگریس اپنی اِسلام دشمنی اور مسلم کش پالیسیوں میں بی جے پی سے پیچھے نہیں رہی لیکن اس وقت ہندوستان میں جس بدترین جنون کا دور دورہ ہے اس کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ کانگریس جیسی پارٹیوں کو برملا پاکستانی کہا جا رہا ہے  اور ان کے لئے اپنی ہندوستانی شناخت برقرار رکھنا اور اسے عوام پر ثابت کرنا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔یعنی کہ ایسا منافقانہ اور جھوٹا سیکولر ازم بھی اب عام بھارتی کے لئے قابلِ قبول نہیں رہا۔ شدت پسندی کے اس عروج پر کھڑا ہندوستان پاکستان کو طعنے دیتا ہے کہ یہاں شدت پسندی ہے اور ہمارے حکمران اور مقتدر قوتیں بجائے آئینہ دِکھانے اور جرأت کے ساتھ جواب دینے کے خود پر سے یہ الزام دھونے کے لئے ہر کالک اور سیاہی منہ پر ملتے چلے جا رہے ہیں۔ ہندوستان پاکستان دشمنی پر جمع ہو رہا ہے اور اس کے علاوہ ہر آواز کا وہاں گلہ گھونٹا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں ہندوستان کی جارحیت کے آگے بندھے ہوئے بند خود توڑے جا رہے ہیں اور اس دوستی کو زندہ رکھنے کی یکطرفہ سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے جو فریق ثانی کو قبول ہی نہیں۔ اور وہ قوم حیرت سے بُت بنی یہ تکلیف دِہ مناظر دیکھ رہی ہے، جنہوں نے پاکستان کی خاطر ہندوستان کی دشمنی مول لے کر لاکھوں زندگیاں قربان کیں اور ان کی چوتھی نسل اس وقت اسی دشمنی کی بقاء کی خاطر سربکف میدان میں ہے۔ اپنے وقتی مفادات اور جان بچاؤ پالیسی کی خاطر اہل عزیمت کی قربانیوں کا سودا کر کے دنیا میں آج تک کون سی قوم سرخرو ہوئی یا خود کو بچانے میں کامیاب رہی؟ تاریخ کے اوراق میں یہ سبق اچھی طرح محفوظ ہے کاش کوئی پڑھنے اور سمجھنے کی زحمت کرے۔

ہندوستان سے آگے نکل کر اگر ہم مغرب کی بات کریں تو یہ حقیقت آشکار ہے کہ اس کے چہرے پر رکھا سیکولر ازم اور رواداری کا جھوٹا نقاب بھی کھسک چکا ہے اور وہ ’’ صلیبی ‘‘ مغرب اُبھر کر سامنے آ رہا ہے جس کی پہچان ہی اسلام دشمنی اور خونخواری ہے۔ دو ہفتے قبل اس بات کو تفصیل سے عرض کیا جا چکا کہ اپنے معاشرے سے نکل کر اہل مغرب کے جہاں بھی اور جو بھی عسکری ، سیاسی اور معاشی معاملات ہیں انہیں مثالی تو کجا انسانی کہنا بھی ناممکن ہے۔ ان کی خود ساختہ اخلاقیات کا تعلق صرف اور صرف ان کے اپنے معاشروں سے ہے۔ لیکن اب یہ بات خود ان کے اپنے تھنک ٹینک ، ان کا میڈیا، ان کا چرچ اور ان کی حکومتیں کہہ رہی ہیں کہ مغرب کا یہ لبادہ خود ان کے اپنے معاشرے میں بھی خطرے سے دوچار ہے اور عنقریب اس کے نیچے سے وہ غیر انسانی عفریت برآمد ہو کر مغرب کو خون میں لت پت کرنے والا ہے جو اب تک صرف مغرب سے باہر ناچ رہا تھا۔ ایک طرف جہاں وہ اسلامی معاشرے سے اپنے بقول شدت پسندی ختم کرنے کے قریب ہیں اور ان کی اس مقصد کے لئے جانے والی سرمایہ کاری اس حد تک بار آور ہو رہی ہے کہ ہر مسلم معاشرے میں اہل ایمان پر عرصہ حیات تنگ ہے اور روشن خالی کے نام پر مقدس ترین اسلامی مقامات پر ناچ گانے ہو رہے ہیں۔ اذان میوزک کے ساتھ  بجائی جا رہی ہے اور کفار کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ یہ اعتراف کرنے پر بھی مجبور ہیں کہ اب ان کے اپنے معاشرے شدت پسندی کی بھرپور لپیٹ میں ہیں۔ اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا ہے کہ مغرب نے دنیا بھر میں ’’پتھر‘‘ قید کرنے کے بعد اپنے ’’کتے‘‘ آزاد کر دئیے ہیں۔ اب وہ ہرطرف بھونک رہے ہیں ، کاٹنے کے لئے حملے کر رہے ہیں اور زہریلے نوکیلے دانت نکوس رہے ہیں جب کہ دنیا بھر کے مسلم حکمران اور ادارے اس ڈیوٹی کو مکمل تندہی سے انجام دینے مامور ہیں کہ کوئی پتھر ان پر نہ آنے پائے۔ مغرب کے قائد امریکہ پر اس وقت ٹرمپ جیسا ایک سکہ بند ذہنی مریض حاکم ہے جس کی شدت پسندی اور اسلام دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ وہ تو صرف اپنے مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کا ہی دشمن نہیں بلکہ اپنی رنگت اور قومی شناخت کے علاوہ ہر رنگ و شناخت کا بھی دشمن ہے اور اسکی یہ دشمنی معروف ہے۔ کیا وہ ایک منظم ، مربوط اور مضبوط سسٹم میں حادثاتی طور پر کرسی اقتدار اور دنیا میں طاقتور ترین کہلانے والے انسان کے منصب تک جا پہنچا ہے؟ ہرگز نہیں… ایسا سوچنے والے کو ضرور کسی ذہنی اَمراض کے ہسپتال میں کچھ وقت کے لئے داخل کرانا چاہیے۔

ٹرمپ کو سلیکٹ کر کے اس منصب پر بٹھایا گیا ہے۔ آپ کو اگر گذشتہ امریکی انتخابات کے دنوں کا ماحول یاد ہو تو مغرب کے اسی ظاہری لبادے کے پیش نظر ہر پول، ہر تجزیہ اور ہر اندازہ یہ کہہ رہا تھا کہ ٹرمپ ہرگز امریکہ کا حکمران نہیں بن سکتا۔ ’’باشعور ‘‘امریکی عوام کبھی ایسے پاگل شخص کو اپنا قائد نہیں چن سکتے۔ یورپی حکمرانوں کا بھی یہی پیغام تھا کہ ایسے شخص کا اقتدار اور قوت تک  پہنچ جانا دُنیا کی بدقسمتی ہو گا لیکن ہوا کیا؟… ان سب ظاہری باتوں کے برعکس ٹرمپ ایک بھاری قوت کے ساتھ منصب صدارت پہنچا۔ اس کے بعد یہ کہا جانے لگا کہ اقتدار سے پہلے والا ٹرمپ ذمہ داری مل جانے کے بعد بدل جائے گا اور اپنا مخصوص انداز ترک کر کے وہ ایک نئے انداز سے دنیا کے سامنے آئے گا لیکن ٹرمپ نے اپنے ہر دن، اپنے ہر اقدام اور بیان سے دنیا کے اس خیال کو بھی غلط ثابت کر دیا ہے۔ اسرائیل کے حوالے سے وہ سارے کام برملا کر رہا ہے جو اس سے پہلے کے امریکی حکمران پردوں میں کیا کرتے تھے۔ یروشلم کو اسرائیل کا قانونی دارالحکومت تسلیم کرنا ہو یا گولان پہاڑیوں پر اس کے قبضے کو جائز قرار دینا اور اب فلسطینی مسلمانوں کی ’’گریٹ مائیگریشن‘‘ کے منصوبے کا اعلان، یہ سب وہ کام ہیں جن پر عرصہ دراز سے محنت جاری تھی۔ صرف اعلان باقی تھا۔ سرفہرست رکاوٹ ’’اسلامی شدت پسندی‘‘ تھی جس پر مسلمان کہلائے جانے والے چوکیدار دانت اور پنجے تیز کر کے بٹھا دئے گئے اور ان کے ذہنوں میں یہ بات بھی راسخ کر دی گئی کہ ان کی دنیا میں واحد ذمہ داری اس کو کنڑول کرنا ہے نہ کہ اپنے عوام کی فلاح و بہبود کی کوشش کرنا۔ یہ مرحلہ طے ہو گیا تو اپنے معاشرے میں شدت پسندی کو ہوا دے کر اسے اُبھارا گیا اور اب روزانہ کی بنیاد پر برملا بلا روک ٹوک اور بلا مزاحمت ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کوئی آواز تک نہیں اُٹھ رہی۔

یہ معاملہ اب صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ یورپی ممالک کے بارے وہاں کے کئی مسلَّمہ دانش ور یہ پیشین گوئی کر چکے ہیں کہ اب آئندہ انتخابات میں یورپ کے کئی ممالک میں صلیبی اور نسلی شدت پسندی کی علمبردار جماعتیں اقتدار میں آنے کے بالکل قریب ہیں۔ مشرقی یورپ کے وہ ممالک جو ترکی کی خلافت عثمانیہ کے زیرنگین رہ چکے ہیں وہاں زمانۂ خلافت کی مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جا رہی ہے تاکہ ان کے ذہنوں میں اسلام دشمنی کو پروان چڑھایا جائے اور انتقامی جذبات ابھارے جائیں۔ اسی جذبے کا نمونہ ماضی قریب میں بوسنیا اور کوسووا کی سرزمین پر دکھایا جا چکا ہے کہ کس طرح نسلی اور مذہبی تعصب کی بناء پر مسلمانوں کا بدترین قتل عام کیا گیا۔ یورپ میں اب ان جنگوں کا تذکرہ عروج پر ہے جن میں صلیبی اقوام کو مسلمانوں کے  ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ( جبکہ اسلام کے قلعوں میں غزوہ بدر کے بیان پر ایف آئی آر کٹتی ہے ) یورپ میں ان بادشاہوں کے تذکرے زندہ کئے جا رہے ہیں جنہوں نے صلیبی جنگیں برپا کی تھیں اور انہیں پھر ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور اس ساری محنت کے نتائج اب مساجد پر حملوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ والے حملے کے بعد برطانیہ میں ایک ہی دن میں پانچ مساجد پر حملے کر کے الارم بجایا گیا کہ اس بار ہتھوڑے لانے والے اگلی بار آٹومیٹک آتشیں اسلحہ لے کر بھی آ سکتے ہیں۔ باحجاب خواتین پر حملے اور بدسلوکی کے معاملات بلا استثناء یورپ کے ہر ملک میں روزمرہ کا معمول ہیں۔ اسلام مخالف نعرے ہر ملک میں پبلک مقامات پر لکھنا عام ہو چکا ہے اور سیکولر لبرل کیتھولک چرچ کی ناکامی اور بے تاثیری کے ساتھ شدت پسند آرتھوڈوکس چرچ کا نفوذ بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں مسلم حکمران بھی کچھ سوچنے کی زحمت گوارہ کریں گے یا اسی تنخواہ پر اپنی ڈیوٹی ہی سر انجام دیتے رہیں گے؟ …

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor