Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شر الدواب(۲) (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 687 (Talha-us-Saif) - Shar ar Dawaab

شر الدواب(۲)

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 687)

نیوزی لینڈ میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے بعد وہاں کی وزیراعظم نے جس طرح مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اِظہار کیا، اسے لے کر مسلمانوں میں کفر کی دوستی اور مرعوبیت کے مریضوں کی بڑی تعداد برساتی …کی طرح ہر طرف سے نکل آئی اور انہوں نے وہ شور برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دُنیا میں اس وقت کوئی ایک بھی ایسا مسلمان حکمران موجود نہیں جس کے طرز حکمرانی کو مثالی قرار دیا جا سکے اور اس کے طرز عمل میں اسلامی نظامِ حکومت کی کوئی ادنیٰ سی جھلک بھی نظر آتی ہو ( سوائے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے جنہوں نے بہر حال اس گئے گزرے دور میں ایک ایسے مسلم حکمران کی معمولی سی جھلک ضرور دکھائی ہے جو امت کے لیے سوچتا ہے اور مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے حوالے سے کچھ حساسیت رکھتا ہے ) ایسے میں جب کوئی غیر مسلم حکمران دنیا میں کوئی اچھا طرزِ حکمرانی پیش کرتا ہے تو اس کی تحسین کیا جانا ایک فطری امر ہے۔ بہت سے مسلمانوں کی طرف سے جسینڈرا آرڈن کے حوالے سے اچھے خیالات اسی امر کا اظہار ہیں۔ لیکن مغرب کے ہر عمل کو حجت سمجھنے اور باور کرانے والے مرعوب مسلمانوں نے اس موقع پر بھی اسلام ، اسلام کے نظامِ حکمرانی اور اسلامی قوانین میں ذمی اور مسلم کی تقسیم اور اہل ذمہ کے اسلامی حقوق کے حوالے سے جو طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہے وہ شرمناک ہے۔ مغرب میں مساوات، انصاف اور ایسے مواقع پر اپنے عوام سے یکجہتی کی بنیاد وہ نہیں ہے جو اِسلام میں اِنصاف اور اِنسانی ہمدردی کی ہے۔ ایک ملک جس نے اپنی اَفواج کو دنیا کے کئی ممالک میں اِسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑائی کے لئے بھیج رکھا ہو۔ جس ملک کی افواج ان علاقوں میں ہونے والے تمام تر بدترین جنگی جرائم میں شریک کار ہوںاور اس نے کبھی بھی اس پر نہ افسوس کا اِظہار کیا نہ شرمندگی کا لیکن داخلی طور پر پیش آنے والے ایک واقعے پر اس کے حکمرانوں کا طرز عمل اگر اس کے خلاف نظر آ رہا ہو تو آپ اسے انسانی ہمدردی ، غمخواری ، فطری بھلائی کا جذبہ یا ایسے دیگر اچھے الفاظ سے یاد نہیں کر سکتے، یقینی بات ہے کہ اس کے مقاصد کچھ اور ہوں گے۔ مغرب چونکہ اپنے وضع کردہ شخصی قوانین مثلاً مساوات، جمہوریت ، ہیومن رائٹس وغیرہ کو اِلٰہی قوانین سے بالاتر سمجھنا ہے اور یہی دعوی ہی ’’مغربیت ‘‘ کی اصل بنیاد ہے، اس لئے وہ ان کی پاسداری کو اپنے ملکوں اور معاشرے کی حد تک اس لئے ہر حال میں یقینی بناتا ہے تاکہ لامذہبیت کو ایک ٹھوس بنیاد فراہم کر سکے اور اس کی برتری کو برقرار رکھ سکے۔ ان کا ایسا کرنا نہ تو اَخلاقی بنیاد رکھتا ہے نہ الٰہی۔ اس لئے وہ اپنی سرحدوں سے باہر مکمل طور پر خود کو قرآن کے اَلفاظ کے مطابق ’’شر الدواب ‘‘ ثابت کرتے ہیں۔ کیا آپ نے اپنے ملکوں میں مسلمانوں کی لاشوں پر آنسو بہاتے اور لوگوں کے گلے لگ کر روتے ان ’’شر الدواب ‘‘ کو کبھی فلسطین ، کشمیر، افغانستان ، عراق و شام میں کٹ جانے والوں کے لئے بھی یوں روتے پیٹتے دیکھا ہے؟ یہی نیوزی لینڈ جس کی تعریف میں آج ہر خاص و عام رطب اللسان ہے۔ عراق اور افغانستان میں امریکی آپریشنز میں ہارڈ کور پارٹنر رہا۔ عراق کی جنگ کی بنیاد ہی جھوٹ ثابت ہوئی اور خود امریکہ نے اِقرار کیا کہ جن باتوں کو بنیاد بنا کر یہ جنگ مسلط کی گئی تھی وہ غلط تھیں۔ پندرہ لاکھ بے گناہ لوگ اس جھوٹ کی بھینٹ چڑھے ، مغرب کا ہر قابل ذکر ملک اس ظلم میں برابر کا شریک رہا اور جن جنگی جرائم اور اَخلاق سوز حرکتوں کا اِرتکاب  ان ’’شر الدواب ‘‘ نے عراق کی جیلوں میں کیا، ان پر ساری دنیا شاہد ہے اور دراصل یہی ان ’’شرالدواب‘‘ کا اصل چہرہ ہے۔ اگر ان کے مزعومہ اَخلاقیات کے دعوے، مساوات، ہیومن رائٹس اور انصاف کی باتیں سچ ہوتیں تو ان کا اثر ضرور ان کے ملکوں سے باہر بھی ان پر نظر آتا۔ لیکن مغرب کی داخلہ اور خارجہ پالیسی، اندرونی اور بیرونی طرز عمل کا اتنا بڑا تضاد یہ بات بالکل واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ظاہری باتوں کی بنیاد پر نہیں، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصولوں اور کھولے ہوئے دِلوں کے رازوں کی بنیاد پر ان کے بارے میں رائے قائم کرنا ہو گی۔ نیوزی لینڈ ہی وہ ملک ہے جس نے امریکہ کے ساتھ اِظہار یکجہتی کے طور پر افغانستان میں اپنی اَفواج کے قیام کی مدت کے معاہدے میں سب سے پہلے توسیع کی۔ اس فہرست میں دوسرا نام کینیڈا کا تھا۔ افغانستان میں جن طالبان کے ساتھ آج امریکہ مذاکرات کر رہا ہے اور انہیں حق حکمرانی لکھ کر دینے پر آمادہ ہے، نیوزی لینڈ کے شرالدواب فوجیوں نے ان کے شہداء کی لاشوں پر پیشاب کرنے کی غلیظ حرکت کی اور اس کی تشہیر بھی کی۔ لیکن یہ کام چونکہ نیوزی لینڈ کی حدود سے باہر ہوا اس لئے اس پر اس ’’پر امن ‘‘ اور مثالی طرز حکمرانی ‘‘ والے ملک میں کسی کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ مغرب کو اور مغرب زدگان کو ان ساری باتوں کے طعنے دینا اور اس پر ان سے جواب طلبی کرنا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں عبث ہے کیونکہ وہ ’’ شر الدواب ‘‘ ہیں اور جانوروں سے ان کے اعمال کا حساب نہیں لیا جاتا کیونکہ وہ بدترین دشمن ہیں اور انہی کا وضع کردہ اُصول ہے کہ ’’جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے ‘‘ اس لئے ان سے پوچھنے کا کوئی مطلب ہی  باقی نہیں رہتا۔ ہاں مغرب زدگان کی باتوں سے متاثر ہو کر تذبذب میں پڑ جانے والے مسلمانوں سے ضرور پوچھتے ہیں کہ کسی بھی عقلمند انسان کو آپ نے کبھی یہ کام کرتے دیکھا ہے کہ وہ خنزیروں ، کتوں ، لال بیگوں اور ایسے دیگر کراہیت افروز جانوروں کی اچھی صفات کا تذکرہ کر کے انسانوں کو انہیں اپنانے کی دعوت دے رہا ہو؟ اور ان کفار کو تو قرآن نے ان سب جانوروں سے بُرا اور ’’شر‘‘ قرار دیا ہے، تو پھر اس کی گنجائش کہاں سے نکل آئی ؟…

اسلام ان تمام اچھائیوں کا داعی ہے اور انہیں  دائمی طور پر اپنانے کا حکم دیتا ہے۔ وہ انہیں فرد کا اَخلاق بنانے کی محنت کرتا ہے اور اَخلاق کسی حال میں جدا نہیں ہوتے۔ آپ اپنے گھر اور ملک میں ہوں یا باہر، ہر جگہ اَخلاق یکساں رہتے ہیں جبکہ مغرب کے ان قانونی اَخلاق کا تعلق چونکہ فرد کے دل سے نہیں، اُس کے صرف ظاہر سے ہے اور ان کی پابندی چونکہ ایک قانوی جکڑ بندی کا نتیجہ ہے اس لئے جہاں بھی مغربی یا مغربیت زدہ فرد قانون کی گرفت سے آزاد ہو گا، وہ اپنی اصل طبیعت کے مطابق ’’شر الدواب‘‘ بن جائے گا۔ اس لئے آپ دیکھ لیں کہ جن برائیوں پر مغرب کا قانون پابندی نہیں لگاتا انہیں کوئی بھی وہاں بُرائی نہیں سمجھتا اگرچہ وہ ایسے اعمال ہوں جنہیں بُرے جانور بھی کرنے سے کتراتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی مغربی فرد یا معاشرے کو مسلمانوں کے لئے کس طرح قابل تقلید مثال بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے؟جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں قرآن پڑھ کر اپنے فکر و عمل کی اِصلاح کی ضرورت ہے۔ قرآن جس وقت نازل ہو رہا تھا آج کے مغرب سے ہزار گنا بہتر عادات اور فطری خوبیوں والے کفار دُنیا میں موجود تھے، لیکن نہ اسلام نے کہیں ان کی مدح میں ایک جملہ کہا اور نہ ان کے کسی عمل کو اچھی مثال بنایا۔ ان کے بارے میں جو بھی کہا صرف ان کی مذمت میں کہا اور نبی کریم ﷺ کا اُسوہ حسنہ بھی یہی دعوت دیتا ہے کہ شخصی عادات میں بھی آپ ﷺ نے کفار کی مشابہت سے اِعراض فرمایا حتی کہ ان معاملات میں بھی جن میں کوئی حکم شرعی ممانعت کا موجود نہیں تھا نبی کریم ﷺ نے صرف اس بنا پر ترک کا رویہ اختیار فرمایا کہ کفار کی مخالفت ہو جائے۔  آپ ﷺ کے مزاج مبارک میں اس حوالے سے کتنی حساسیت تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگا لیجئے جو شمائل اور دیگر کتب حدیث میں مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ  جب مکہ مکرمہ میں مقیم تھے تو اہتمام سے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے کیونکہ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ وہ بالوں میں مانگ نہیں نکالتے تھے، جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ نے مانگ نکالنا چھوڑ دی کیونکہ یہود بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے۔ ایسے معمولی کام میں جب ارادتاً مخالفت کو اختیار کیا جا رہا ہے تو معاملہ کس قدر حساس ہو گا۔

مسلمانوں کو اچھائیاں اختیار کرنے کی ترغیب دیں یہ دین کا لازمی شعبہ ہے لیکن کفار کی مثال دے کر نہیں، اُنہیں اسوہ بنا کر نہیں۔ ایسا کرنے والے مسلمانوں کو انسان نہیں جانور بنانے کی محنت کرتے ہیں۔

آخری بات جو مغرب میں آباد مسلمانوں سے کرنی تھی، اس کے لئے جگہ کم رہ گئی، مختصر یہ سمجھ لیجئے کہ مغرب کی اسلام دشمنی جسے ’’اسلاموفوبیا ‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے نہ تو نئی ہے اور نہ اس قدر معمولی جتنی مغربی میڈیا اور حکمران اسے پیش کر رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ’’مغربیت ‘‘ جو آج دنیا میں سب سے بڑھ کر رائج نظام ہے اس کی بنیاد ہی ’’اسلاموفوبیا‘‘ ہے۔ اس لئے وہاں کا ہر فرد اس مرض میں مبتلا ہے لیکن جیسے قرآن نے بتایا ہے کہ وہ اپنی دشمنی چھپا کر دھوکہ دیتے ہیں اور مسلمان دھوکے میں آ جاتے ہیں کیونکہ قرآن سے غافل ہیں۔ اس لئے ’’اسلاموفوبیا‘‘ کا اصل نقطۂ حرارت فی الحال پوشیدہ ہے۔ مغربی اَفواج عراق، شام ، افغانستان اور فلسطین میں جو کچھ کر رہی ہیں یہ اسی اسلاموفوبیا کا ہی شاخسانہ ہے۔ ان کی بظاہر اِنصاف پسند اور بااَخلاق عوام کا اپنے ملکوں سے باہر کئے جانے والے اپنوں کے ان جرائم پر خاموش رہنا بھی اسی چھپی ہوئی دشمنی کا اَثر ہے اور کچھ لوگوںکا اس کے خلاف بولنا اس دشمنی کو پوشیدہ رکھنے کا حربہ اور ان کا یہ عمل عین فطری ہے۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں ان کی صفت بیان کی گئی ہے:

’’ اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں‘‘

اس لیے اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا تو ان کی فطری صفت ہے جسے وہ اپنائے ہوئے ہیں، اس پر ان کو طعنہ دینا غلط ہے، اور یہ سوچنا کہ اسلام کی کوئی شکل ایسی بھی ہوسکتی ہے جس سے کفر کو دشمنی نہ ہو بذات خود ایک غلط سوچ ہے۔ کون سااور کس زمانے کا اسلام ایسا رہا ہے جس سے کفر کو دشمنی نہیںرہی اور تاریخ کا وہ کون سا دور ہے جس میں مغرب اسلاموفوبیا کا شکار نہیں رہا؟

 ایسے میں وہاں کے حکمرانوں کے وعدوں اور قانون کے سہارے پر شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند رکھنی ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔ اول تو یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلمان کا یوں کفار کے ساتھ رہائش اختیار کرنا ہی شرعاً انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ درجنوں نصوص اس پر شاہد ہیں، اس سے بڑی وعید کیا ہو گی کہ نبی کریم ﷺ نے ایسے مسلمانوں سے براء ت کا اعلان فرما دیا جو کفار کے درمیان رہائش پذیر ہوں۔ اور مجبوری بھی کیا ہے صرف معاش۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ مسلمانوں کی مغرب میں آباد اکثریت کا مسئلہ صرف معاش ہے اور کچھ نہیں۔ زمین میں گھوم پھر کر معاش حاصل کرنے کے جواز کی نصوس کو علت بنا کر اس امر کی گنجائش نکالنے والے حضرات واضح الفاظ میں کفار کے ساتھ رہنے کی وعید پر مشتمل نصوص کو کس طرح نظر انداز کر جاتے ہیں؟ حالانکہ قرآن مجید کی جو آیت اس حوالے سے پیش کی جاتی ہے اس میں تو کہیں صراحت نہیں کہ گھوم کر رزق حاصل کرنے کی بات میں کفار کے ساتھ رہنے کا جواز بھی ہے۔  اول تو وہ نصوص ہی ایک مسلمان کو کفار سے دوری اختیار کرنے کے لئے کانی ہونی چاہیں اور وہ اللہ و رسول کے حکم پر اپنا معاش قربان کر کے لوٹ آتے۔ دوسری بات یہ کہ مغرب نے جس طرح اجتماعی طور پر نبی کریم ﷺ کی گستاخی کو اپنا شعار بنایا اور اسے قانونی تحفظ فراہم کیا، اس کے حق میں آواز اٹھائی اور جب گستاخوں پر حملہ ہوا تو ان سے جس طرح یکجہتی اور اتحاد کا اجتماعی اور سرکاری اظہار کیا اس کے بعد مسلمان کے لئے محض معاش کی خاطر ان لعنت زدہ معاشروں میں قیام اختیار کرنا دینی حمیت اور غیرت کے حوالے سے کیسا ہے اس کا فیصلہ ہر مسلمان خود کر لے اور اگر اس بنیاد پر بھی نہیں تو یہ بات اچھی طرح گھول کر  دل و دماغ میں اتار لیجئے کہ اسلام دشمنی اور اسلحہ کی فراوانی والے اس مغربی معاشرے میں کرائسٹ چرچ آخری نہیں پہلا واقعہ ہے۔ مغرب میں اسلامی ملکوں جیسا ماحول نہیں جہاں کتے آزاد اور پتھر مقید ہیں۔ وہاں ہر شخص ایسے اجتماعی قتلِ عام کے اَسباب سے پوری طرح لیس ہے اور یہ تسبیح اب ٹوٹ چکی ہے۔ مغرب میں اپنے ایمان کو خطرے میں ڈال کر رہنے والے مسلمان خبردار ہوں کہ اب ان کی جانیں بھی محفوظ نہیں اور ہر جگہ حکمران بھی جسینڈرا آرڈن نہیں جو بعد میں بھینچ بھینچ کر گلے لگا کر غم غلط کرنے کا سامان فراہم کریں گے۔ اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والے میڈیا اور گن بیچنے والا مافیا مکمل آزاد ہیں اور جس مزاحمتی قوت کا خطرہ مغرب میں ایسے واقعات کے تسلسل کی راہ میں رکاوٹ تھا اس کے خاتمے کا بھی جشن منایا جارہا ہے تو اب کوئی رکاوٹ بھی موجود نہیں۔ دنیا میں کفر کی قیادت اس وقت ٹرمپ اور مودی جیسے کھلے اسلام دشمنوں کے ہاتھ میں ہے۔ مغرب میں ہر ملک میں اسی طرح کے لوگوں کو آئیڈیالائیز کیا جارہا ہے اور ان کے لیے اقتدار میں آنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ ممکن ہے اگلے کسی واقعے کے بعد اس ملک کا حکمران اسلامی شعائر کو لے کر منافقانہ انداز میں اشک شوئی کرنے نہ نکلے بلکہ مودی کی زبان میں اس طرح ’’رنج‘‘ کا اظہار کرے!

’’ بہت افسوسناک واقعہ ہے ۔ کتے کا بچہ بھی اس طرح مارا جائے تو دُکھ ہوتا ہے‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor