Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شرّ الدواب (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 686 (Talha-us-Saif) - Shar ar Dawaab

شرّ الدواب

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 686)

اللہ تعالیٰ ان شہدائِ کرام کے درجات بلند فرمائے اور انہیں مغفرت کا اَعلیٰ مقام نصیب فرمائے جو حالتِ نماز میں ایک کافر کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ قابلِ رشک خاتمہ ہے۔ نماز کی حالت اور نماز بھی جمعہ کی… مسجد کا مقام اور کافر کے ہاتھوں قتل۔ وجہ بھی صرف یہ کہ وہ مسلمان تھے۔

’’ اور ان سے اسی کا تو بدلہ لے رہے تھے کہ وہ اللہ زبردست خوبیوں والے پر ایمان لائے تھے ‘‘ ( البروج ۸)

ایسا اَلَم ناک سانحہ ہے کہ ساری دُنیا کے لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہاں بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ سب سے کم تاثر کا اِظہار اگر ہوا تو پاکستان میںہوا۔ پاکستان کے ۹ باشندے اِس حادثے میں شہید ہوئے۔ نہ کوئی سرکاری اہلکار ان کے جنازے میں شرکت کے لئے نیوزی لینڈ گیا اور نہ زخمیوں کی دِل جوئی اور اَشک شوئی کے لئے کوئی نمائندہ پہنچا۔ مزید بے حمیتی کا مظاہرہ یہ ہوا کہ جب دُنیا بھر میں اس سانحے کی وجہ سے تقریبات منسوخ کی جا رہی تھیں، ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایک موسیقی کا میلہ برپا تھا اور ریاست کے سب سے بڑے عہدیداران موج مستی میں شریک تھے۔ علامتی طور پر صرف ان شہداء کے دو منٹ کی خاموشی اختیار کر لی گئی اور اس کے بعد سب بے احساس جانوروں کی طرح رقص و سرور میں ڈوب گئے۔ اب اپنی اس بے حمیتی کے جواز کے لئے عجیب و غریب بہانے گھڑے جا رہے ہیں۔ تقریب چونکہ پہلے سے طے تھی اس لئے منسوخ نہیں کی جا سکتی تھی۔عرصے بعد پاکستان میں کرکٹ بحال ہوئی تو اپنی عوام کو اس موقع پر تفریح فراہم کرنا ضروری تھا۔ اس تقریب کے ذریعے ہم نے دنیا کو ایک اچھا پیغام دیا کہ پاکستان پُر امن ملک ہے اور یہاں ایسی سرگرمیاں بحال ہیں وغیرہ وغیرہ۔

ایسے بھونڈے جواز اس قابل ہی نہیں کہ ان پر تبصرہ کیا جائے، بس اس ناچ گانے میں شریک ہر شخص اتنا سوچ لے کہ ممکن ہے اس کی موت ایسے وقت آ جائے جب ان کے گھر میں کسی ایک تقریب کی تیاری ہو۔ کیا اس وقت اسی طرح کے جواز تراش کران کے اہل خانہ ناچ گانا برپا کر لیں گے؟

ریاست پر اس وقت سب سے پہلا حق اُن متاثرین کا تھا جن کے پیاروں کے جنازے ابھی تک ادا نہیں ہوئے تھے اور جن کے جگر گوشوں کی ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاع ان تک نہ پہنچ پائی تھی یا ان لوگوں کو تفریح فراہم کرنا اس کی اولین ذمہ داری تھی جو ویسے ہی دِن رات ایسی تفریحات میں مست رہتے ہیں؟ …

ہو سکتا ہے کہ حسن خاتمہ پانے والے ان شہداء کے ورثاء میں سے کسی کے دل سے یہ موج مستی دیکھ کر کوئی ایسی آہ بلند ہوئی جو ان بے حمیت اور بے انصاف لوگوں کے لئے سوء خاتمہ کا باعث بن جائے ۔ یا اللہ ! ہم کمزور و مجبور سہی، بے بس و لاچار سہی لیکن ان لوگوں کے اس عمل سے بَری ہیں

حادثے کی خبر پھیلتے ہی ایک اہل محبت کا پُر اِصرار پیغام آیا کہ ایک مختصر سی تحریر اس حوالے سے لکھ دوں جو وہ اپنے نام سے سوشل میڈیا پر شائع کر دیں۔ تعمیل کی اور ایک تحریر لکھ کر انہیں بھیج دی۔ انہیں پسند نہ آئی کہ اس میں نہ مغرب کو آئینہ دکھایا گیا تھا نہ مغرب کے گندے انڈے دیسی لبرل کو۔ انہوں نے شکوہ کیا تو انہیں ایک واقعہ سنایا۔ آپ بھی سن لیجئے۔ ۲۰۰۸؁ء کی بات ہے۔ اسلام آباد میں ایک عالم دین دوست ملنے آئے اور کہا کہ انٹرنیشل ریڈ کراس کا ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ یہاں آیا ہوا ہے اور کسی واسطے سے ان کے رابطے میں ہے۔ وہ اسلام میں جنگی قیدیوں کے حقوق و اَحکام کے سلسلے میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دعوت دی کہ میں چل کر اس سے مل لوں اور اس سلسلے میں اس سے بات چیت کروں۔ میں ان کے ساتھ چلا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس بہانے اس سے ہندوستان کی جیلوں میں بند اپنے قیدی ساتھیوں کے حوالے سے بھی کوئی گفتگو کر لوں گا۔ خیر طویل ملاقات ہوئی۔ وہ گورا سوئزر لینڈ کا تھا اور جامعہ دمشق سے  پی ایچ ڈی کر رکھی تھی تو عربی بھی خوب روانی سے بولتا تھا۔ ملاقات میں ایک اور عالم دین بھی تھے۔ وہ مغربی اقوام میں پھیلی بد اخلاقیوں، اسلام دشمنی، جنسی بے روی، خاندانی نظام کے سقوط اور دیگر برائیوں پر کافی مواد جمع کر کے لائے تھے۔ انہوں نے پندرہ منٹ اس موضوع پر گفتگو کی اورگورے سے جواب طلب کیا۔ اس نے مسکرا کر کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا آج کا موضوع یہ مسائل نہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ موضوعات اب ایک مغربی شخص کے لیے وقت کے ضیاع سے زیادہ کچھ نہیں۔ آپ کسی بھی بُرائی پر شرم اُس انسان کو دِلا سکتے ہیں جو اسے بُرائی سمجھتا یا مانتا تو ہو۔ ہمارے ماحول میں جب ان اَفعال کو سِرے سے بُرائی ہی تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ ہم انہیں اپنے معاشرے کی امتیازی خصوصیات سمجھتے ہیں تو آپ ان پر ہمیں شرم دِلانے کی بے کار کوشش کیوں کرتے ہیں؟

اور اس نے اپنے اس جملے کا اختتام عجیب مثال پر کیا۔

’’ کیا آپ کسی کتے کو اس بات پر عار دِلا سکتے ہیں کہ وہ پیشاب کرنے بیت الخلاء میں کیوں نہیں جاتا ؟ ہرگز نہیں کیونکہ ان کے ہاں یہ بات عیب ہی نہیں سمجھی جاتی ‘‘ …

اس ملاقات سے اور کچھ حاصل ہوا یا نہیں، الحمد للہ یہ فائدہ ضرور ہوا کہ اس دن کے بعد اس فضول کام پر کبھی زور اور وقت صرف نہیں کیا کہ مغرب یا مغرب زدہ لبرلز کو آئینہ دِکھایا جائے اور ان کے تضادات ان پر ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب کتے کو عار نہیں دِلائی جا سکتی جو کہ ایک جانور ہے تو ’’شَرُّ الدَّواب ‘‘ کو کس طرح کسی غلطی پر عار دِلائی جا سکتی ہے؟ الحمد للہ اس موقع پر جو ’’مکتوب‘‘ جاری ہوا، اس میں بھی اہل ایمان کو اسی امر کی ترغیب دی گئی کہ وہ اس فضول پر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔

قرآن مجید نے کتنی بلاغت کے ساتھ یہ بات سمجھا دی ہے کہ اس نے اِن کفار کو کتا خنزیر یا کوئی دیگر جانور کہہ کر نہیں پکارا کیونکہ یہ جانور بھی بعض اَقوام کے ہاں معزز ہوتے ہیں تو ان کے نام سے خطاب کر کے کسی قوم کی شناعت بیان نہیں ہو سکتی۔ اس لئے قرآن نے انہیں ’’شر الدواب‘‘ کہہ کر یہ ثابت کر دیا کہ دُنیا میں پائے جانے والے ہر جانور سے زیادہ شنیع ، گندے اور ناپاک جانور یہ کفار ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں، انبیائِ کرام علیہم السلام اور خصوصاً حضرت آقا مدنی ﷺ کے مخالف ہیں۔ یہ ’’اَذَلِّین‘‘ ہیں یعنی کائنات کی ذلیل ترین قوم ۔ یہ چوپائے جانوروں سے زیادہ بے عقل اور گمراہ ہیں یہ فیصلہ بھی قرآن مجید نے سنا دیا۔ اب یہ خود ہوں یا ان کی محبت میں مارے ہوئے لبرل، انہیں شرم و عار دِلانے کی کوشش کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بندر یا خنزیر کو شرم دِلانے کی کوشش کرے۔ انہیں دلیل سے عقل کی بات سمجھانے کی سعی ایسے ہی ہے جیسے کوئی بھینس کے آگے بین بجائے یا بکری کو منطق کے سوالات سمجھائے۔ اور رہی بات شرم آنے کی تو دُنیا میں جو ذلیل درجے کے لوگ کسی بھی قوم میں ہوں ان کی سب سے بڑی نشانی ہی یہی ہوتی ہے کہ انہیں شرم نہیں آتی اور وہ حیاء سے عاری ہوتے ہیں اس لئے نہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں نہ اس سے رجوع کرتے ہیں۔ تو جو لوگ قرآن کی رو سے ’’ اذل ‘‘ ہیں یعنی انتہائی درجے کے ذلیل ان سے یہ توقع کس طرح رکھی جا سکتی ہے؟

کفار اسلام کے دشمن ہیں اور ان کی یہ دشمنی طبعی اور فطری ہے۔ یہ دشمنی ایسی نہیں کہ مسلمان اس دشمنی کا اعلان کریں تو پیدا ہوتی ہو ورنہ نہیں۔ جیسا کہ بہت سے مصلحین اُمت کا غلط خیال ہے کہ آج کا کافر اسلام کا دشمن ان مسلمانوں کی وجہ سے ہے جو کفار سے دشمنی کا اِظہار کرتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کی طرف سے محبت محبت کا پرچار ہو تو کافر کبھی اسلام کے دشمن نہ بنیں۔ کیا نبی کریم ﷺ نے کفار کو دین کی دعوت دینے کے ساتھ دشمنی کا اعلان بھی فرمایا تھا کہ سگا چچا بھی فوراً دُشمنی پر اُتر آیا اور پوری قوم بھی؟

ہرگز ایسا کوئی اعلان نہیں ہوا تھا بلکہ اسلام کی سچی اور کامل دعوت کی فطری اور طبعی خاصیت ہے کہ اسے سنتے ہی کافر اپنے اندر کا بغض چھپا نہیں پاتے اور دشمنی ظاہر کر جاتے ہیں۔ ہاں وہ دھوکہ باز ہیں اس لئے پوری دشمنی ظاہر نہیں کرتے۔ پھر وہ اس نفاق کی پردہ داری بسا اوقات اس طرح بھی کرتے ہیں کہ بعض مسلمانوں سے دوستی کا اظہار کرتے ہیں اور بعض سے دشمنی کا، تاکہ اپنی اصلیت بھی چھپا لیں اور مسلمانوں میں سے بعض کو اس دھوکے کا شکار کر کے انہیں بھی تقسیم کر لیں۔ اور کبھی اس طرح کہ ان میں سے بعض اسلام کے ساتھ اپنی دشمنی کا کھلم کھلا اِظہار کرتے ہیں اور بعض دوسرے ان کے برخلاف اِسلام سے محبت کا اظہار کرتے ہیں تاکہ اپنے بارے میں مسلمانوں کی رائے اور نظرئیے کو تقسیم کر دیں۔ قرآن مجید ان کے پردے چاک کرتا ہے اور قرآن پڑھنے والا مومن کبھی ان کے اس دھوکے میں نہیں آتا۔

’’ ان کے مونہوں سے دشمنی نکل پڑتی ہے اور جو ان کے سینے میں چھپی ہوئی ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ ‘‘ ( آل عمران ۱۱۸)

’’ اور وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصہ سے انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاتے ہیں ‘‘ ( آل عمران ۱۱۹)

قرآن مجید نے تو ان کا سینہ کھول کر ایک مومن کے سامنے رکھ دیا تاکہ وہ دھوکہ نہ کھائے لیکن جب طے کر لیا گیا ہو کہ دھوکہ کھانا ہے تو کون بچا سکتا ہے۔

کفار میں آج ایک جانب بش، ٹرمپ ، مودی اور بریٹن ٹیرنٹ جیسے لوگ ہیں جو کھلم کھلا اِسلام دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کا ایجنڈہ بالکل واضح ہے اور حقیقت یہی ہے کہ آج کی دنیا میں کفر کی اکثریت انہی نظریات کی حامل ہے جو یہ لوگ رکھتے ہیں لیکن کفار نے ان حقیقی دشمنوں کو اَقلیت ثابت کرنے کے لئے انجیلا مرکل ، راہول گاندھی اور جاسنڈا آرڈن جیسے لوگ سامنے رکھے ہوئے ہیں جن کے بارے میں قرآن پڑھ کر رائے قائم کرنے کی بجائے مسلمان ان کے دانت اور مسکراہٹیں ، بوسے اور جھپیاں دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ آج جو مسلمان متاثرین نیوزی لینڈ کو گلے لگاتے، ہار پہناتے، اور ان کے ساتھ آنسو بہاتے کفار کو کفر کی اصلی تصویر سمجھ رہے ہیں وہ ان سے یہ سوال کرنے کی جرأت رکھتے ہیں کہ افغانستان ، فلسطین ، کشمیر اور شام میں انہی ممالک کی فوجوں ، اسلحے اور تعاون سے روزانہ سانحہ نیوزی لینڈ سے کئی گنا زیادہ لوگ مارے جاتے ہیں ان میں سے کسی نے آج تک اس پر شرمندگی جتائی؟ معذرت کی؟ اور کس نے جا کر ان مظلوموں کو گلے لگا کر آنسو بہائے؟ ایک طرف لاشوں کے ڈھیر لگا کر دوسری طرف ہمدردی کے چند آنسو بہا دینے والے یہ مگرمچھ سارے ہی اسلام کے ایک سے بڑھ کر ایک دشمن ہیں۔ کاش کہ مسلمان قرآن مجید کو آئینہ بنا کر اس میں ان کے قبیح باطن کو پڑھتے اور سمجھتے۔

سانحہ نیوزی لینڈ اُمتِ مسلمہ کے لئے ایک الارم ہے۔ ایک بہت واضح پیغام ہے جسے سمجھنا ہو گا۔ مسلمانوں پر اس سلسلے میں کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کا ذکر ان شاء اللہ آئندہ۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor