Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قیمتی وقت (السلام علیکم ۔ طلحہ السیف)

Assalam-o-Alaikum 683 (Talha-us-Saif) - Qeemati Waqt

قیمتی وقت

السلام علیکم..طلحہ السیف (شمارہ 683)

جہاد کا ہر وقت، ہر لمحہ بہت قیمتی ہے…

’’ ایک صبح یا ایک شام جہاد میں لگانا دُنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ ‘‘ …

ایک صبح یا شام تو بہت طویل وقت ہوتا ہے۔ یہاں تو اس سے بھی مختصر وقت کی یہ قیمت ہے کہ:

’’ جس نے اتنی دیر جہاد کیا جتنی دیر میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ لوٹ آتا ہے، اُس کے لئے جنت واجب ہو گئی ‘‘ …

اس میں لڑائی کا وقت بھی قیمتی ہے اور آرام کا بھی، اس کی تیاری کا زمانہ بھی بہت بیش بہا ہے اور اس کی خاطرچلنا بھی بڑی بھاری نیکی ہے۔ اس کی دعوت بھی نامۂ اعمال کا بہت وزنی حصہ ہے اور اس میں مال خرچ کرنا بھی بڑی نسبت رکھتا ہے۔ اس کا خوف بھی قیمتی ہے اور اس کا امن بھی۔ غرضیکہ مجاہد کو جہاد میں جو بھی حالت پیش آئے وہ خیر ہی خیر ہے اور نیکی ہی نیکی ہے۔، لیکن اس کا سب سے قیمتی زمانہ کون سا ہوتا ہے؟

فتح کی شادمانی کا یا شکست کے زخموں اور آزمائش کے بوجھ کا ؟

یہ سوال یہیں چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔

جہاد میں فتح و شکست ، خوشی اور غم کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہیں۔ ان کے ایام بدلتے رہتے ہیں۔ یہاں ایک دن خوشی کا، شادمانی و کامرانی کا ہوتا ہے اور ایک دن غم و سوگ کا، بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہاں آنے والی فتح کی خوشی اپنے اندر بہت سے غم لئے آتی ہے کہ کئی پیارے جدا ہو جاتے ہیںاور ہمیشہ کے لئے بچھڑ جاتے ہیں اور اس میں آنے والے شدید غم کے ایام میں کئی لوگوں کے لئے زندگی کی عظیم ترین خوشی و کامرانی کا سامان ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزلِ مقصود پا لیتے ہیں۔

جہاد کی اس کیفیت کو اِسلام اور جہاد کی سچائی کی علامت بنایا گیا۔ بخاری و مسلم میں وہ طویل روایت جس میں قیصر روم ہرقل کے ابوسفیان ( رضی اللہ عنہ ) کے اسلام لانے سے قبل ان سے اسلام کے بارے میں کئی سوالات اور جواب منقول ہیں۔ اس نے پوچھا کہ کیا کبھی تم نے ان سے جنگ کی ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ ابو سفیان نے جواب میں کہا کہ ہم نے ان سے کئی بار جنگ کی ہے اور نتیجہ یہ رہا کہ کبھی وہ غالب رہے کبھی ہم ۔ ہرقل نے کہا:

 ’’ انبیاء کی یہی شان ہے کہ ان پر امتحان آتے ہیں لیکن انجام کار کامیابی انہی کی ہوتی ہے؟ ‘‘ …

اور قرآن مجید میں واضح اعلان فرما دیا گیا ہے کہ جہاد سے جڑے انسان کے لئے ہر حال میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ فتح بھی کامیابی اور ظاہری شکست بھی، اس لئے بدر والوں کو بھی فتح کی مبارکباد دی گئی اور احد سے زخمی لوٹنے والوں کو بھی ’’الاعلون ‘‘ کے خطاب سے نوازہ گیا۔

چلئے اب پہلے سوال کی طرف لوٹتے ہیں۔

جہاد میں فتح بہت قیمتی ہے۔ اس سے اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم ہوتا ہے اور مقاصدِ بعثت کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس سے شعائر اللہ کی عظمت قائم ہوتی ہے۔ اس سے زمین کو عدل و انصاف ملتا ہے۔ اس سے مظلوم و مقہور مسلمانوں کو آزادی ، راحت اور عزت نصیب ہوتی ہے۔ اس سے قرآن کا دستور نافذ ہوتا ہے۔ اس سے حرمات کا تقدس بحال ہوتا ہے۔

اس سے اسلام کو ترقی ملتی ہے اور لوگوں کے افواجاً دین میں داخلے کا دروازہ کھلتا ہے۔ اور فاتح مجاہد ان تمام کا اجر پاتا ہے۔ صرف اس وقت نہیں بلکہ قیامت تک اس کے نامۂ اعمال میں ہر ہر عمل کا اجر برابر لکھا جاتا رہے گا۔ اس لئے مجاہدین میں سے بہت سے لوگ ان مقاصد کے حصول کو سامنے رکھ کر جہاد کرتے ہیں اور اس کامیابی کو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جہاد کا البتہ ایک وقت ایسا بھی ہوتا ہے جب جہاد جاری تو ہوتا ہے ، خون بھی بہہ رہا ہوتا ہے اور اموال بھی خرچ ہوتے ہیں ، قربانیاں بھی لگتی ہیں اور آزمائشیں بھی شدید آتی ہیں لیکن نہ کسی بڑی فتح کا کوئی سراغ نظر آتا ہے اور نہ ظاہری کامیابی کے آثار بلکہ اس کے برعکس مایوس کن حالات کا غلبہ ہوتا ہے۔ عام لوگوں کو چونکہ اس کا کوئی ظاہری نتیجہ نظر نہیں آ رہا ہوتا تو انہیں جہاد سمجھ بھی نہیں آتا اس لئے مجاہد کو اس زمانے میں اجنبیت اور تنہائی کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ جو لوگ جہاد سے دور ہوتے ہیں وہ اپنے اس عمل کو جواز فراہم کرنے کے لئے تاویلات کا سہارا لیتے ہیں اور جہاد کے معاملے پر خوب گرد اُچھالتے ہیں اور مجاہدین اور جہاد پر ملامت کا دوردورہ ہوتا ہے۔ اس جہاد میں خوشی کے دن کم اور غم کے دن زیادہ ہوتے ہیں۔ شادمانی کا زمانہ مختصر اور خوف و پریشانی کا زمانہ طویل ہوتا ہے۔ ہر طرف سے سوالات کی بوچھاڑ ہوتی ہے اور شکوؤں کی بھرمار۔

فتح کے زمانے میں جہاد کے ساتھ چلنے والے بہت ہوتے ہیں جبکہ اس زمانے میں ہر کوئی جان چھڑاتا ہے اور نظریں چراتا ہے۔ ایسے میں بظاہر اس سوال کا جواب مانگا جائے تو غالب اکثریت کا رجحان یہی ہو گا کہ فتح و کامرانی کا زمانہ زیادہ قیمتی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔

’’برابر نہیں ہیں تم میں وہ لوگ جنہوں نے فتح ( مکہ ) سے قبل قتال کیا اور مال خرچ کیا یہ لوگ درجے کے اعتبار سے بہت اونچے ہیں اُن سے جنہوں نے فتح (مکہ ) کے بعد قتال کیا اور مال خرچ کیا اور اللہ تعالیٰ کا ہر ایک سے بھلائی کا وعدہ ہے۔‘‘ (الحدید )

فتح مکہ سے پہلے اسلام کی خاطر لڑنے اور مال قربان کرنے والے بعد والوں سے بہت آگے بڑھ گئے، اگرچہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک گروہ سے وعدہ ہے کہ جو بھی جس زمانے میں بھی جہاد کرے گا خوب اَجر پائے گا، لیکن فرق ہے اور فرق بھی معمولی نہیں ۔ پہلے قتال کرنے والے اور انفاق کرنے والے درجے کے اعتبار سے بعد والوں سے عظیم نہیں بلکہ ’’ اعظم‘‘ یعنی بہت اونچے، بہت بڑے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا !

بعد والوں میں سے اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا راہ جہاد میں خرچ کرے تو وہ فتح مکہ سے پہلے والوں میں سے کسی کے ایک مُد جو کے اجر کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا۔

فتح مکہ کے بعد فتوحات ہی فتوحات ہیں۔ اسلام کا ہر طرف بول بالا ہے۔ بڑے بڑے لشکر ہیں اور ہر لشکر فتح و کامرانی کے ساتھ لوٹتا ہے۔ اس کے بعد زمین پر اسلام کا بول بالا ہے۔ اسی کے بعد روم و فارس جیسی عظیم سلطنتوں پر اسلام کے پرچم لہرائے لیکن یہ سب کرنے والے بدر و احد والوں کو نہیں پہنچ سکتے۔ اور فتح مکہ سے پہلے جہاد کرنے والوں نے تو بس چھوٹی چھوٹی چند خوشیاں دیکھی ہیں باقی تو اُحد کے زخم ہیں اور اَحزاب کا خوف اور شدید امتحان۔ ایمان کو متزلزل کر دینے والا لرزا دینے والا امتحان۔ ان کے پاس تو بئر معونہ ہے اور رجیع ہے۔ ان کے پاس تو ذات الرقاع کے چیتھڑے ہیں اور مثلہ کی ہوئی لاشیں۔ نہ خلافت کا قیام ہے اور نہ زمین کا قبضہ، نہ قیدیوں کی رہائی ہے اور نہ شعائر اللہ کی آزادی۔ ان کی داستانیں کارناموں سے خالی ہیں، اور زخموں سے پُر ہیں۔

لیکن وہ بہت آگے بڑھ گئے ، وہ درجے کے اعتبار سے اَعظم ہو گئے۔ اس قدر آگے کہ بعد میں روم و فارس فتح کرنے والے اور عالم  پر اسلام کے جھنڈے گاڑنے والے انہیں یاد کر کے رشک کے آنسو بہایا کرتے اور خود پر افسوس کیا کرتے تھے۔

فرمایا الصادق الامین ﷺ نے: جہاد کرنے والے اگر فتح و غنیمت پا لیں تو وہ دو ثلث بدلہ دنیا میں وصول کرنے والے ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں صرف زخم ملیں اور آزمائشیں تو ان کا تمام تر اجر انہیں آخرت میں ملتا ہے۔

سننے والے حقیقی سمجھدار اور اصلی عقلمند لوگ تھے۔ فتح و غنیمت پا کر شکر کے ساتھ ساتھ رویا بھی کرتے تھے اور فتح دیکھے بغیر چلے جانے والوں پر رشک بھی کیا کرتے تھے۔

فتح مکہ کی عظیم خوشی تک پہنچنے والا جہاد سریۂ عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی ایک بہت معمولی سی مہم سے شروع ہوا تھا۔ اس کے راستے میں بدر آیا ، احد و احزاب آئے۔ یہ رجیع و ذات الرقاع سے گذرا اور بالآخر فتح مکہ سے ہمکنار ہوا۔ یہ ہر جہاد کی داستان ہے ۔ وہ اسی طرح کمزور اور معمولی حالت میں شروع ہوتا ہے۔ زخموں ، لاشوں ، آزمائشوں ، ملامتوں اور خوشی و غم کے ایام سے گذرتا ہوا فتح مکہ جیسی عظیم فتوحات تک پہنچتا ہے اور اس کے بعد زمانے پر اپنا رنگ جماتا ہے۔ قیمتی ترین وقت جہاد کا وہ ہوتا ہے جس میں بظاہر فتح مبین بہت دور نظر آ رہی ہوتی ہے اور آزمائشوں و ملامتوں کی بارش ہوتی ہے۔ جو اس وقت کھڑا رہے ، ڈٹا رہے اور مایوس ہو کر میدان سے نہ ہٹے اسے اگرچہ فتح دیکھنا نصیب نہ ہو لیکن وہ فتح دیکھنے والوں سے ’’اعظم ‘‘ ہو جاتا ہے ۔

یہ جہاد کا وہی دور ہے، فتح سے پہلے کا دور ۔ یقین کامل ہے کہ اس کا انجام بھی فتح مبین پر ہو گاان شاء اللہ۔ یہ دور کھوٹے کھرے کی پہچان کراتا ہے۔ یہ دور منافق کو صف جہاد میں گھسنے نہیں دیتا۔ یہ دور ہر دن عہد جہاد کی سچائی کا امتحان لیتا ہے۔ یہ دور ہر خوشی کے بعد آزمائش اور ابتلاء لے آتا ہے تاکہ نظرئیے کی گہرائی کو جانچے۔ اس دور میں قائم رہ جانے والا بڑا کامیاب ہے، بہت بڑا کامیاب۔ اور جو ہٹ جائے وہ قرآن کا یہ اعلان سنتا جائے:

’’اور اگر تم رو گردانی کرو گے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے‘‘ …

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor