Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افادات اکابر۔ 678

 افادات اکابر

(شمارہ 678)

نظامِ عالم اور عدل وانصاف

دراصل کائنات کا نظام ہی عدل و انصاف سے وابستہ ہے نظامِ عالم کے لئے عدل و انصاف سے بڑھ کر اور کوئی چیز ضروری نہیں بلاشبہ حاکمِ عادل کا وجود اس عالم کے لئے سایۂ رحمتِ الہٰی ہے اور کسی عدل کش حاکم کا تسلط عذابِ الہٰی ہے جو بندوں کی نافرمانیوں کی پاداش میں ان پر نازل کیا جاتا ہے:

شامتِ اعمال ما صورتِ نادرگرفت

کسی زمانے میں مطلق العنان بادشاہ کو من’’ لمن الملک‘‘ بجاتے تھے اور آئین و قانون ان کے اشاروں پر رقص کرتا تھا لیکن دورِ جدید نے ملوکیت کو جمہوریت میںبدل ڈالا، آئین و دستور وضع کئے گئے،بادشاہت کی جگہ کہیں صدارتی نظام رائج ہوا اور کہیں وزارتی نظام نافذ کیاگیا، گویا دورِ قدیم کے’’ شہنشاہ‘‘ کا منصب دورِ جدید کے صدرِ مملکت یا وزیر اعظم کو تفویض ہوا، فرق یہ پڑا کہ دورِ قدیم میں بادشاہ اوپر سے آتے تھے اوردورِ جدید میں نیچے سے جاتے ہیں لیکن عدل و انصاف محسن ملوکیت یا آج کی جمہوریت کانام نہیں بلکہ اس کا مدار خداتر س اور عدل پرور اربابِ اقتدار پر ہے، حاکم اعلیٰ عدل و انصاف کے جوہر سے مالا مال ہو تو ملوکیت بھی رحمت ہے یہ نہ ہو تو جمہوریت بھی چنگیزی کا روپ دھارلیتی ہے جس طرح مملکت کی آبادی وشادابی عدل وانصاف سے وابستہ ہے اسی طرح اشخاص کی بقاء وفلاح عدل و انصاف کی رہین منت ہے۔ (بصائر و عبر،ص ۴۷۴،۴۷۵)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor