Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

افادات اکابر۔ 675

 افادات اکابر

(شمارہ 675)

تسخیر کے معنی

عربی لغات میں تسخیر کے معنی ہیں کسی چیز کو اپنے ارادہ کے تابع کرلینا یا کام میں لگالینا اور اس طرح مجبور کرنا کہ وہ خلاف نہ کرسکے، چاند، سورج، رات دن اور کائنات کے تمام سیاروں اور تاروں کی تسخیر کی حقیقت یہ ہے کہ ان سب کو حق تعالیٰ نے ایک ایسے نظام میں منسلک کردیا ہے، کیا مجال ہے کہ اس میں مقرر کردہ نظام سے سر موتجاوز کرسکیں۔ حق تعالیٰ کے تکوینی اور تخلیقی نظام کے مطابق یہ سب اپنے اپنے مدارات پر معلق ہیں اور ایک نظام کے تحت چل رہے ہیں یعنی اپنا اپنا کام سر انجام دے رہے ہیں اور یہ تسخیر محض حق تعالیٰ کے ارادہ واختیار اور تصرف واقتدار کا کرشمہ ہے،انسانی دسترس سے بالاتر ہیں، یہ تسخیر شدہ کائناتی اشیاء کونیہ ہیں اور ان کو مسخر کرنے والی صرف حق تعالیٰ کی ذات جلّ ذکرہ ہے اورجس کے لئے ان کو تسخیر کیا گیا وہ حضرتِ انسان ہیں۔

(بصائر وعبر: ج ۱ ص۴۳۲)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor