Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مال رحمت بھی، زحمت بھی

مال رحمت بھی، زحمت بھی

امام عبد الرحمن بن الجوزی رحمہ اللہ

ترتیب و پیشکش :مفتی محمد عبید الرحمن

(شمارہ 694)

’’مال‘‘ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے… مال کے ذریعے انسان کی بے شمار دینی اور دنیوی ضروریات پوری ہوتی ہیں… لیکن یہی ’’مال‘‘ ایک مسلمان کا امتحان اور آزمائش بھی ہے… اور کبھی یہی مال کسی کے لئے فتنہ کا باعث بھی بن جاتا ہے… یعنی مال ’’رحمت‘‘ بھی ہے اور ’’زحمت‘‘ بھی… 

مال ’’رحمت‘‘ کب ہے؟…

مال ’’زحمت‘‘ کب بنتا ہے؟…

مال کے فتنے سے بچاؤ کا طریقہ کیا ہے؟…

مال کی زحمت سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ 

مال کے دنیوی اور دینی فوائد کیا ہیں؟…

مال کے نقصانات کیا ہیں؟…

ان سب حقائق سے پردہ اٹھا رہے ہیں … امام ابن الجوزی رحمہ اللہ … ملاحظہ فرمائیے۔

مال زحمت

 مال بذات خود برا نہیں ، بلکہ اس کا مناسب یا نامناسب استعمال اسے اچھا یا برا بنادیتا ہے۔ مال کاانتہائی لالچی ہونا، حرام طریقے سے حاصل کرنا ، جائز کاموں میں خرچ نہ کرنا، ناجائز کاموں میں خرچ کرنا یا دولت پر اترانا اور فخر کرنا وغیرہ ایسا مال زحمت ہے ۔

 اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

{اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ}

’’ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔‘‘

سنن ترمذی میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 ’’ دوبھو کے بھیڑیے بکریوں کے ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مرتبے او رمال کی محبت انسان کے دین کو برباد کرتی ہے۔‘‘

سلف صالحین مال کے فتنے سے ڈرا کرتے تھے۔

یحییٰ بن معاذرحمہ اللہ نے فرمایا:

’’ روپیہ پیسہ بچھو ہے ، اگر تم اس کا دم اچھی طرح نہیں جانتے ، تو اس کو ہاتھ مت لگاؤ اگراس نے ڈس لیا تو اس کا زہر تمہیں مار ڈالے گا۔‘‘

 پوچھا گیا اس کا دم کیا ہے ؟ توفرمایا:

’’ اس کو حلال طریقے سے حاصل کرنا اور جائز جگہ میں خرچ کرنا۔‘‘

 او رفرمایا:

’’موت کے وقت مال دار بندے پر دو مصیبتیں ہوتی ہیں کہ ان جیسی مصیبت کسی نے کبھی نہیں سنی۔‘‘

پوچھا گیا وہ کیا ہیں ؟ تو فرمایا:

’’ مال اس سے سارے کا سارا لے لیا جاتا ہے او رحساب سارے مال کا دینا پڑتا ہے۔‘‘

مال رحمت

مال بذات خود بْرا نہیں ہے ، بلکہ مدح کے لائق ہے، کیوں کہ وہ دین ودنیا کے مصالح کی طرف پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا نام خیر رکھا ہے۔

 سورۃ نساء کی ابتداء میں فرمایا:

{وَلَاتُؤْتُواالسُّفَھَآئَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا}

 ’’اور بیوقوفوں کو اپنا وہ مال نہ دوجن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے قائم رہنے کا سبب بنایا ہے۔‘‘

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 ’’ جوآدمی حلال طریقے سے مال جمع نہیں کرتا اس کو کوئی فائدہ نہیں چاہے اس سے اپنی عزت کو بچائے ، صلہ رحمی کرے چاہے اس سے حق داروں کا حق ادا کرے۔‘‘(اجروثواب کچھ نہیںملے گا)

حضرت ابو اسحاق سبیعی رحمہ اللہ کا قول ہے:

’’ اسلاف مال کی فراخی کو دین کا معاون سمجھتے تھے۔‘‘

حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’ ہمارے زمانے میں مال مومن کا ہتھیار ہے۔‘‘

 حاصل یہ ہے کہ مال سانپ کی طرح ہے، اس میں زہر بھی ہے او رتریاق بھی۔ اس کا تریاق اس کے فائدے ہیں او راس کی تباہ کاریاں اس کا زہر ، تو جس نے اس کے فائدے اور ہلاکت کو جان لیا، ممکن ہے وہ اس کی برائی سے بچا رہے او راس سے بھلائی حاصل کرے۔

مال کے فوائد

اس کے فائدے دینی اور دنیاوی دو طرح کے ہیں :

 دنیوی فوائد تو لوگوں کو معلوم ہیں او راسی لیے اس کی طلب میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔

دینی فوائد تین طرح کے ہیں:

(۱)  ایک یہ کہ مال کو اپنے آپ پر خرچ کرے یا عبادت میں،جیسے حج او رجہاد ۔ یا عبادت میں مدد لینے کے لیے خرچ کرے، جیسے کھانا پینا او رمکان وغیرہ۔ اگر یہ ضرورتیں میسر نہ ہوں گی تو دل دین اور عبادت کے لیے فارغ نہ ہو گا تو دین پر مدد حاصل کرنے کے لیے بقدر ضرورت دنیا کو حاصل کرنا دینی فوائدمیں سے ہے اور اس میں ضرورت سے زیادہ لینا داخل نہیں۔

(۲) دوسری قسم یہ ہے کہ لوگوں پر خرچ کرے اور اس کی چار قسمیں ہیں:

 پہلی ’’صدقہ ‘‘ہے اور اس کے فضائل بے شمار اور مشہور ہیں۔

 دوسری ’’مروت‘‘ ہے یعنی وہ مال جو دولت مندوں اور اشراف پر ضیافت اور ہدیہ اور تعاون وغیرہ کے لیے خرچ کیا جاتا ہے اور یہ بھی دینی فوائد میں سے ہے، کیوں کہ اس سے انسان بھائی اور دوست بنا سکتا ہے۔

تیسری یہ ہے کہ آدمی مال خرچ کرکے اپنی عزت محفوظ کرے، مثلاً شاعروں کے ہجو اور بے وقوفوں کی غیبت اور ان کی زبان بندی اور ان کی برائی کو روکنے کے لیے خرچ کرے اور یہ بھی دینی فوائد میں سے ہے، کیوں کہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 ’’ جو مال آدمی اپنی عزت بچانے کے لیے خرچ کرے وہ صدقہ ہے۔‘‘

 چوتھی قسم یہ ہے کہ اپنا کوئی کام کرانے کے بدلے تنخواہ یا مزدور کو ادا کرے، آدمی اپنے سارے کام خود ہی انجام دے گا تو اس کا وقت ضائع ہو گا اور ذکر وفکر کے ذریعہ سے جو کہ سالک کے مقامات میں سے ہیں محروم ہو جائے گا تو ہر وہ کام جو دوسرا کرسکتا ہو اوراس سے مقصد حاصل ہو سکتاہو ، اس میں خود مشغول ہونا سرا سر نقصان ہے۔

(۳) تیسری قسم یہ ہے کہ مال کسی معین کام میں تو خرچ نہیں ہوتا، لیکن اس سے بہت سی بھلائی حاصل ہوتی ہے۔ جیسے مسجد اور پل کی تعمیر اور ایسے ہی دیگر کام۔ یہ سب مال کے دینی فائدے ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور فوائد بھی ہیں۔ مثلاً سوال کی ذلت اور غربت کی حقارت سے بچنا۔ لوگوں میں معزز ہونا اور دلوں میں احترام اور وقار حاصل کرنا وغیرہ۔

مال کی آفتیں اور نقصانات

اب رہیں مال کی آفتیں اور تباہیاں، تو یہ بھی دو قسم کی ہیں ، یعنی دینی بھی اور دنیاوی بھی۔ ان میں سے دینی تین ہیں :

(۱) پہلی یہ کہ مال عموماً گناہ کی طرف لے جاتا ہے کیوں کہ مال دل میں طاقت اور تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے اور یہ احساس گناہ کی طرف تحریک کرتا ہے۔ اگر انسان پریشان حال ہو تو گناہ کا خیال بھی نہیں آتا۔

اور بچاؤ کی ایک صورت یہ ہے کہ مال نہ ہو،کیوں کہ صاحبِ قدرت کے دل میں کوئی خواہش پیدا ہو گی تو اسے پورا کرکے ہلاک ہو گا اوراگر صبر کرے گا تو اسے صبر کی سختی کی تکلیف برداشت کرنا پڑے گی۔ گو یا دولت کا فتنہ تنگ دستی کے فتنے سے بڑا ہے۔

(۲) دوسری یہ کہ مال مباح چیزوں سے تعیش کی تحریک کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ پھر وہ اس سے صبر نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ یہ اہتمام بھی نہیں رکھ سکتاکہ جومال حاصل ہوتا ہے وہ ہر قسم کے شبہات سے پاک ہو۔ پھر وہ مداہنت اور نفاق کی آفتوں میں ترقی کرتا ہے، کیوں کہ جس کے پاس مال زیادہ ہو گا اس کا لوگوں سے میل جول بھی زیادہ ہو گا او رجب اْن سے ملے گا تو نفاق اور عداوت اور حسد وغیبت سے محفوظ نہ رہے گا اور یہ سب مال کی مضرتیں ہیں۔

(۳) تیسری یہ ہے کہ جس سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا اور وہ یہ کہ مال اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرے گا اور یہ بہت مہلک بیماری ہے ،کیوں کہ عبادت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا ذکر او راس کے جلال وعظمت میں غوروفکر ہے اور یہ فارغ دل کا تقاضا کرتا ہے۔ زمین دار آدمی دن رات کا شت کاروں کے جھگڑوں اور ان کے محاسبے میں متفکر رہے گا۔ پانی اور حدود کے جھگڑے نمٹائے گا۔ حکومت کے کارندوں سے خراج او رمزدوروں سے زمین کی آبادی میں کوتاہی کے متعلق پوچھ گچھ کرے گا۔ اسی طرح تاجر آدمی دن رات اپنے شرکاء کی خیانت، کام میں کوتاہی اور مال ضائع کرنے کے متعلق غور کرے گا، غرض اس طرح مال کی تمام قسموں والے، یہاں تک کہ جس کے پاس روپیہ جمع اور محفوظ ہے، وہ بھی اس کی حفاظت اور ضائع ہونے کے خوف پر غور کرے گا۔ لیکن جس کے پاس روز کے روز کھانا آئے گا۔ وہ ان سب چیزوں سے محفوظ رہے گا اور یہ سب مصیبتیں ان کے علاوہ ہیں جو دولت مندوں کو دنیا میں پیش آتی ہیں ، خوف، غم، پریشانی اور مشقت وغیرہ۔

حب مال کا علاج

حب مال کا تریاق یہ ہے کہ اس سے روٹی کھاؤ او رباقی نیک کاموں میں خرچ کردو، اس کے علاوہ جوکچھ بھی ہے وہ زہر اور آفت ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor